ایک مرتبہ اکبر، بیربل سے ناراض ہوگئے اور اس کو ذرا سی بات پر دربار سے نکال دیا۔ بیربل کو اس بات سے اتنی تکلیف پہنچی کہ وہ دہلی چھوڑ کر بہت دور پر ایک اور بادشاہ کی حکومت میں چلے گئے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 1:18 PM IST | Athar Parvez | Mumbai
ایک مرتبہ اکبر، بیربل سے ناراض ہوگئے اور اس کو ذرا سی بات پر دربار سے نکال دیا۔ بیربل کو اس بات سے اتنی تکلیف پہنچی کہ وہ دہلی چھوڑ کر بہت دور پر ایک اور بادشاہ کی حکومت میں چلے گئے۔
دریا کی شادی
ایک مرتبہ اکبر، بیربل سے ناراض ہوگئے اور اس کو ذرا سی بات پر دربار سے نکال دیا۔ بیربل کو اس بات سے اتنی تکلیف پہنچی کہ وہ دہلی چھوڑ کر بہت دور پر ایک اور بادشاہ کی حکومت میں چلے گئے۔ کچھ دنوں تک تو غصے میں اکبر کو بیربل کی یاد نہ آئی لیکن پھر تو بغیر بیربل کے دربار سونا سونا لگنے لگا۔ اس نے ہر جگہ اپنے سفیر بھیجے کہ وہ بیربل کا پتہ لگائیں لیکن بیربل کا پتہ نہ چل سکا۔
آخر بادشاہ کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے پاس پڑوس کے ملکوں کے بادشاہوں کے نام ایک دعوت نامہ بھیجا: ’’ہماری دریا کی شادی ہو رہی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ کے دیس کی ندیاں بھی اس تقریب میں شرکت کریں۔‘‘
لیکن اس دعوت نامے کا جواب کسی دربار سے نہ آسکا۔ جس بادشاہ کے یہاں بیربل تھا اس نے لکھ بھیجا کہ ’’ہماری ندیاں سب کی سب آنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ اپنے یہاں کے کنویں کو انہیں لے جانے کے لئے بھیج دیجئے۔‘‘
اب یہ جواب پا کر اکبر سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو بیربل اسی دربار میں ہے۔
اس نے فوراً وہاں کے بادشاہ کو لکھا کہ وہ بیربل کو بھیج دیں۔
چنانچہ اس طرح بیربل پھر اکبر کے دربار میں واپس آگئے۔
ہتھیلی پر بال
ایک دن بیربل دربار میں چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک اکبر کے دماغ میں ایک بات سوجھی اور انہوں نے سوچا کیوں نہ بیربل سے ہی تھوڑی دیر کے لئے لطف لیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے بیربل سے ایک سوال پوچھا، بولے ’’بیربل! یہ بتاؤ کہ میرے ہاتھ کی ہتھیلی پر بال کیوں نہیں ہے۔‘‘
بیربل نے کہا ’’جہاں پناہ! یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ صاف بات ہے۔ آپ ہمیشہ فراخ دلی سے روپیہ خرچ کرتے ہیں، ضرورت مند کو خیرات دیتے ہیں، عالموں کو انعام و اکرام دیتے ہیں اس لئے آپ کی ہتھیلی پر روپیہ کے گھسنے کی وجہ سے بال نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
بادشاہ ذہین تو تھے ہی اُس نے کہا ’’نہیں بیربل کوئی بات ہے۔ آخر تمہاری ہتھیلی پر بھی تو بال نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے۔‘‘
بیربل نے جواب دیا ’’اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ جب آپ انعام و اکرام دیتے ہیں تو انعام لینے کے لئے ان ہی ہتھیلیوں کو استعمال کرتا ہوں۔‘‘
مگر بادشاہ یہ جواب سن کر بھی کہاں چپ ہونے والے تھے انہوں نے فوراً ایک تیسرا سوال پوچھا ’’اچھا اگر تمہاری یہ بات مان لی تو ٹھیک ہے لیکن پھر یہ بتاؤ کہ جن کو مَیں نہ خیرات دیتا ہوں اور نہ انعام و اکرام، ان کی ہتھیلی پر بال کیوں نہیں ہے۔‘‘
بیربل نے بڑے اطمینان سے کہا ’’حضور یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اس لئے کہ دوسروں کو روپیہ ملتے دیکھ کر وہ لوگ جلن کے مارے اپنے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بھی بال نہیں اُگ سکتے۔‘‘
اب تو بادشاہ لاجواب ہوگئے اور انہوں نے بیربل کو اور انعام دیا۔