انسان مشقت کرنے کے بعد تھکان محسوس کرتا ہے جو عام بات ہے لیکن مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ اب نوعمر افراد مسلسل تھکان محسوس کرتے ہیں۔ اسکی وجوہات مصروف اوقات، تناؤ، نیند کی کمی اور کھانے کی غیر متوازن عادتیں ہوسکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 1:55 PM IST | Hafsa Thim | Mumbai
انسان مشقت کرنے کے بعد تھکان محسوس کرتا ہے جو عام بات ہے لیکن مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ اب نوعمر افراد مسلسل تھکان محسوس کرتے ہیں۔ اسکی وجوہات مصروف اوقات، تناؤ، نیند کی کمی اور کھانے کی غیر متوازن عادتیں ہوسکتی ہیں۔
انسان مشقت کرنے کے بعد تھکان محسوس کرتا ہے جو عام بات ہے لیکن مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ اب نوعمر افراد مسلسل تھکان محسوس کرتے ہیں۔ اسکی وجوہات مصروف اوقات، تناؤ، نیند کی کمی اور کھانے کی غیر متوازن عادتیں ہوسکتی ہیں۔ آج اس کالم میں اس بارے میں تفصیل سے جانئے:
اِن غذائیت کی کمی اہم وجہ
آئرن:
یہ جسم میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ آئرن کی کمی ہونے پر جسم تھکان محسوس کرتا ہے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اپنی خوراک میں دال، پھلیاں، ہری پتے والی سبزیاں، انڈے اور گوشت کے ساتھ آئرن کو جسم میں جذب کرنے میں مدد کرنے والی وٹامن سی سے بھرپور غذائیں کھائیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ ہنر سیکھ لئے جائیں تو شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے
پروٹین:
یہ وٹامن صرف جم جانے والے افراد کیلئے ضروری نہیں ہے۔ یہ خلیات کی تعمیر، پٹھوں کی مضبوطی اور بافتوں کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اپنی ڈائٹ میں دال، پھلیاں، دودھ، دہی، انڈے، مچھلیاں، چکن، سویابین، خشک میوہ جات اور بیجوں کو شامل کریں۔
وٹامن بی ۱۲:
یہ سرخ خون کے خلیات بنانے اور اعصابی نظام کو درست رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ گوشت اور خمیری اشیاء کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں۔
پانی:
مناسب مقدار میں پانی نہ پینے کی وجہ سے بھی تھکان محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں اور وقتاً فوقتاً پئیں، خاص طور پر گرمی کے موسم میں اور ورزش کرنے کے بعد۔
یہ بھی پڑھئے: نوعمر بیٹیوں کی تربیت میں اِن باتوں کو ملحوظ رکھیں
مناسب نیند بھی ضروری ہے
متوازن غذا کافی نہیں ہے۔ کم نیند، تناؤ اور جسمانی سرگرمی کی کمی بھی توانائی کی سطح کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لئے صحت مند رہنے کے لئے مناسب نیند کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر فعال رہنا بھی ضروری ہے۔
خلاصہ:
اگر جسم پر مسلسل تھکان طاری ہے تو صرف اپنی خوراک کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔ چھوٹی چھوٹی مگر مؤثر تبدیلیاں لائیں۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور سے بھی بات کریں۔
ذرائع: ڈبلیو ایچ او اور این آئی ایچ آفس آف ڈائٹری سپلیمنٹس