اکثر مائیں بیٹیوں کے معاملے میں بہت زیادہ سختی اپناتی ہیں۔ لیکن اس سختی سے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اپنی بیٹی سے جذباتی طور پر جڑنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی ماں سے اپنی بات کا اظہار بلاجھجک کرسکے۔ اس کے علاوہ، بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں بھی بتائیں۔
بعض دفعہ بیٹیاں ناسمجھی میں صحیح اور غلط کا فرق نہیں کر پاتیں، عمر کے اس حصے میں انہیں ماں کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این
جیسے جیسےزمانہ بدل رہا ہے ویسے ویسے تربیت کا انداز بھی بدلنا چاہئے۔ موجودہ دور میں والدین کے لئے بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا، ایک مشکل مرحلہ ہے۔ خاص کر بیٹیوں کی پرورش جن کے طریقوں میں وقت کے ساتھ لچک اور تبدیلی بہت ضروری ہے۔
آئیے اُن چند عوامل پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں آج کی نوعمر بیٹیوں کی تربیت میں شامل کرنا، میں ضروری سمجھتی ہوں:
ماں سے زیادہ ایک اچھی دوست بنیں
اکثر مائیں بیٹیوں کے معاملے میں بہت زیادہ سختی اپناتی ہیں۔ لیکن اس سختی سے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اپنی بیٹی سے جذباتی طور پر جڑنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی ماں سے اپنی بات کا اظہار بلاجھجک کرسکے۔ آپ کے سخت رویے سے آپ اپنی بیٹی کو خود سے دور کردیں گی جس کی وجہ سے بچی صحیح اور غلط کا فرق سمجھ نہیں پائے گی۔
دینی اور اخلاقی تعلیم و تربیت
بچپن ہی سے بیٹیوں کو دین اور دینیات سکھانے کی کوشش کریں۔ دین میں اخلاق کی اہمیت کیا ہے؟ اس سے آگاہی پیدا کریں۔ اسلامی قصے کہانیاں وقتاً فوقتاً بتائیں۔ مذہب سے جڑے ہر سوال جو اُن کی سمجھ میں نہ آئیں اطمینان بخش جواب دیں۔ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ پردے کی اہمیت سمجھائیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۹؍ سالہ نوجوان کو مائیکروسافٹ میں ’سافٹ ویئر انجینئر‘ کی ملازمت
گھر میں مثبت ماحول پیدا کریں
شروع سے کو شش اس بات کی ہونی چاہئے کہ آپ کے گھر کا ماحول مثبت ہو۔ بچیوں کو اپنی بات کا اظہار کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کریں۔ کوئی ایسی بات یا انسان کو اپنے بچوں کے درمیان آنے نہ دیں جس کی وجہ سے وہ آپ سے باتیں چھپانے لگے اور کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوجائے یا تنہا ہوجائے۔
صحیح اور غلط میں تمیز
صحیح اور غلط میں فرق اپنی بچیوں کو شروع ہی سے سکھائیں۔ کئی دفعہ بچے نادانی میں غلط چیزوں کو بھی صحیح سمجھ کر ان کی تقلید کرنے لگتے ہیں۔ اُن کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔
چیلنج کا سامنا کرنا سکھائیں
اپنی بیٹیوں کو ذہنی اور جذباتی طور سے مضبوط بنائیں تاکہ وہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے بآسانی کرسکیں۔ اور زندگی میں آنے والے ہر چیلنج کا مقابلہ بہادری سے کرسکیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’سوری‘ کہنا اچھا ہے مگر ہر بات پر سوری، سوری کہنا اچھا نہیں
تعلیم حاصل کرنے کی آزادی
اپنی بچیوں کو یقین دلائیں کہ آپ ہر وقت اُن کے ساتھ ہیں۔ بہتر سے بہترین تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر قدم پر اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہر ممکن کوشش کریں۔ اُن کے سپنوں کو خوابوں کو اپنا خواب سمجھیں۔ ہر کامیابی پر اُن کی تعریف کریں اور انہیں اپنے کریئر کا انتخاب کرنے کی آزادی دیں اور مدد فراہم کریں تاکہ وہ بااختیار بنیں اور اپنا روشن مستقبل بنائیں۔
گھریلو ذمہ داریاں بھی سمجھائیں
بہتر تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں سے بھی واقفیت کروائیں۔ کوکنگ، سلائی، صاف صفائی، گھر سنبھالنا، چھوٹے بڑوں کی دیکھ بھال جیسی باتوں کو دھیرے دھیرے اُنہیں بتائیں اور کم عمر ہی سے گھر کے ان سب کاموں میں حصہ لینے کے لئے اُن میں جستجو پیدا کریں تاکہ مستقبل میں اُنہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: یہ ہنر سیکھ لئے جائیں تو شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے
سوشل میڈیا اور ڈجیٹل آگاہی
انٹرنیٹ کے صحیح استعمال کے بارے میں سمجھائیں، سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ آن لائن پرائیویسی کی اہمیت بتائیں۔ اس کے علاوہ اسکرین کے محدود استعمال کو یقینی بنائیں۔ اور اُس کی پابندی کریں۔
بیٹی اور بیٹے میں فرق نہ کریں
ایک فرق جو صدیوں سے چلا آرہا ہے لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح۔ اس سوچ کو تبدیل کریں اور دونوں کی تربیت میں کوئی فرق نہ کریں۔ بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹی کو بھی اعلیٰ تعلیم دلوائیں اور اُن کی دلچسپی کے مطابق کریئر کا انتخاب کرنے دیں، اس دوران اُن کی رہنمائی ضرور کریں۔
حرفِ آخر، اپنی بیٹیوں کو اپنا قیمتی وقت دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں پوری دُنیا بھاگ رہی ہے۔ خود کو اس دوڑ سے علاحدہ کریں اور اپنا وقت اپنے بچوں کے لئے مختص کریں۔ موبائل فون کی دُنیا کو ایک طرف رکھیں اور بچوں کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اُن سے باتیں کریں، اُن کے ساتھ وقت بتائیں۔ اس سے آپسی رشتے مضبوط ہوں گے۔