Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا‘‘

Updated: August 22, 2026, 1:39 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

ایک شخص اپنی مدد آپ کرکے خوش ہوتا ہے۔ دوسرا ہے جو دوسروں کی مدد کرکے خوش ہوتا ہے۔ دونوں میں کس کی خوشی معیار و مقدار کے اعتبار سے زیادہ وزنی ہوگی؟ اس سوال کا جواب نہ تو مشکل ہے نہ ہی پیچیدہ۔ اس کے باوجود اکثر لوگ اپنی ہی مدد کیلئے جی رہے ہیں اور اسی میں بظاہر خوش ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کیا ایسا کوئی خط آپ کی نظر سے گزرا ہے جو کسی نفسیاتی معالج کو لکھا گیا ہو؟ جو خط میری نظرو ں کے سامنے ہے اُس میں ایک جواں سال خاتون نے لکھا ہے: ’’میری عمر ۲۷؍ سال ہے اور مجھے بڑی شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے کہ زندگی گھر کے دو تین افراد کے علاوہ بالکل نہیں ہے، شب و روز بس گزر رہے ہیں، مَیں انہیں بامعنی بنانے کیلئے بہت کچھ کرتی ہوں، مَیں نے تاریخ پڑھی، ادب اور معاشیات سے لوَ لگائی، صحافت کے رموز و نکات سیکھے اور سیاسیات کا مطالعہ کیا۔اس طرح میرے بایو ڈیٹا کے کئی صفحات اوپر سے نیچے تک بھرے ہوئے ہیں مگر زندگی خالی ہے۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: قلت ِآب اور ڈیٹا سینٹروں کی بڑھتی تعداد

اس خاتون کا مسئلہ نہ تو ملازمت کے حصول میں ناکامی ہے نہ ہی زندگی کی بے معنویت ہے۔ اس کا مسئلہ زندگی کی معنویت کو سمجھ نہ پانے کی مجبوری ہے۔ اس نے بہت کچھ پڑھا مگر جو کچھ پڑھا شاید اُس سے کچھ حاصل نہیں کیا۔ تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو وقت گزاری کیلئے پڑھتے ہیں (موبائل کے دور میں یہ نہیں ہوتا)، دوسرے وہ جو پڑھ کر سیکھتے ہیں اور تیسرے وہ جو سیکھ کر بروئے کار لاتے ہیں۔ بڑی عمر کے بہت سے لوگوں نے ابن صفی کو پڑھا۔ ناول کے ناول پڑھ لئے مگر نہ تو زبان سیکھ کر اُسے عملی زندگی میں برتا نہ ہی ذوقِ ادب کو پروان چڑھایا اور مطالعہ ٔ ادب سے ذہن کو منور کیا۔ معلوم ہوا کہ محض پڑھنا کافی نہیں، سیکھنا بھی ضروری ہے اور جو کچھ سیکھا اُسے عملی تجربے سے گزارنا بھی ضروری ہے۔ 

جب انسان پڑھنے، سیکھنے اور عملی تجربہ کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے تو زندگی کی معنویت از خود منکشف ہونے لگتی ہے۔ زندگی کی معنویت بازار سے خریدی جانے والی شے نہیں ہے۔مقصد معنویت عطا کرتا ہے اور مقصد جتنا بلند ہوگا، معنویت اُتنی وسیع ہوگی۔ کبھی چھوٹے چھوٹے مقاصد چھوٹی چھوٹی معنویتوں کے ذریعہ زندگی کو گلزارِ معنویت بنا دیتے ہیں اور کبھی انسان بڑے مقصد کیلئے جیتا ہے اور اُسے حاصل کرکے خود کو قابل رشک بنا تا ہے اور بسا اوقات اپنا نام تاریخ میں درج کروا لیتا ہے۔

دونوں ہی طرح کے لوگ، چھوٹے چھوٹے مقاصد اور چھوٹی چھوٹی معنویتوں والے یا کوئی بڑا مقصد پیش نظر رکھنے والے ، سماج اور معاشرہ کیلئے حتیٰ کہ عالم انسانیت کیلئے بھی نفع بخش قرار پاتے ہیں۔ اس پس منظر میں آج کے لوگوں کا جائزہ لیجئے۔ کچھ کی زندگی گزر رہی ہے، کچھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جب مقصد ہی نہ رہے تو معنویت کہاں سے آئیگی۔ کمانا کھانا اور چند مادّی ضرورتیں پوری کرلینا مقصد نہیں ہوسکتا۔ دو پیسے زیادہ کما کر نام نہاد معیارِزندگی کو بہتربنا لینا بھی مقصد نہیں ہوسکتا۔ تھری فور بی ایچ کے فلیٹ یا ایس یو وی گاڑی کو مقصد ِ حیات بنانا مقصد حیات کی توہین ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سائبر فراڈ اور قانونی کارروائی

جو لوگ اس راز کو نہیں پاتے، زندگی میں معنویت تلاش کرتے رہ جاتے ہیں اور اُنہیں کوئی سراغ نہیں ملتا۔ بعض اوقات زندگی ختم ہونے لگتی ہے اور معنویت شروع بھی نہیں ہو پاتی۔ تنہائی گھیرتی ہے تو ایسے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں کہ سب کچھ ہے مگر ایسا کیا ہے جو نہیں ہے اور جس کی وجہ سے اتنی اُلجھن، اتنا حبس اور اتنا خلاء محسوس ہو رہا ہے۔ بعضوں کا وقت ہی نہیں گزرتا اور بعضوں کا وقت گزر جاتا ہے مگر مسلسل بے کلی رہتی ہے۔ دور حاضر میں انسان روزمرہ کی  معاشی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد باقیماندہ وقت سوشل میڈیا کی نذر کردیتا ہے۔ اِس کا بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ اُس کے پاس نہ تو اپنے لئے وقت ہے نہ ہی اُس میں کسی مقصد کو تلاش کرنے کا احساس ہے۔  معنویت تو بہت دور کی بات ہے۔یہ رائیگانی ہے۔ وقت کا کام گزرنا ہے، وہ بے مصرف بھی گزرتا ہے اور ’’بامصرف‘‘ بھی گزر سکتا ہے۔ بہت سوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ ماضی میں وقت اتنا تیز رفتار نہیں تھا جتنا اب ہے۔ مہینہ ہفتے کی طرح اور ہفتہ دن کی طرح گزرنے لگا ہے۔ تو کیا وقت واقعی تیز رفتار ہوگیا ہے؟ اُس کو پَر لگ گئے ہیں؟ نہیں۔ وقت کے تیز رفتار ہونے کا احساس اس لئے بڑھ رہا ہے کہ انسان کی دلچسپیاں بڑھ گئی ہیں اور کرنے کے کام بہت ہیں (اگر اُنہیں کام کہا جائے)۔

۲۵؍ اگست ۲۰۲۴ء کو ’’دی ہندو‘‘ کے ’’بزنس لائن‘‘ میں شائع شدہ ایک خبر میں ’’ٹرائی‘‘ (ٹیلیکوم ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا) کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’جنریشن زیڈ میں بے چینی اور فون پر گفتگو سے احتراز کے باوجود موبائل صارفین کا کال ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہر صارف ماہانہ اوسطاً ۹۶۰؍ منٹ موبائل پر گفتگو میں گزار رہا ہے۔‘‘ ہوسکتا ہے کچھ لوگ کہیں کہ ماہانہ ۹۶۰؍ منٹ بہت زیادہ نہیں ہے کیونکہ موبائل سے وقت بچتا ہے، سرمایہ بچتا ہے اور توانائی بچتی ہے اور بہت سے کام چٹکی بجاتے انجام پا جاتے ہیں مگر ایسا کہنے والے ایک کال سے پہلے اور اُس کال کے بعد کی ذہنی مصروفیت کو شمار نہیں کرتے۔ اس طرح ایک صارف مصروف ہی نہیں رہتا، اُس کا ذہن بھی بھٹکتا رہتا ہے اور مقصد سے متعلق کوئی خیال بھولے سے بھی اُس کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا لہٰذا معنویت کے احساس کی دستک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلاشبہ موبائل دور جدید کی اشد ضرورت ہے مگر اُس کے استعمال میں کفایت بھی تو اشد ضروری ہے۔ کچھ لوگ بیٹھے بیٹھے گیم ہی کھیلتے رہتے ہیں۔ شارٹس ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ فلم بینی ہی میں غرق رہتے ہیں۔ اس کا یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ مضمون نگار موبائل مخالف ہے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصد ہے کہ موبائل کی مصروفیت  کی وجہ سے وقت گزرتا رہتا ہے اور احساس نہیں ہوتا، پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ اُف کتنا وقت گزر گیا۔  

یہ بھی پڑھئے: ایک نئے دشمن کی تلاش

کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا مقصد اور معنویت ضروری ہے؟ اسکے جواب میں پوچھنا چاہئے کہ کیا بے مقصدیت اور بے معنویت اچھی چیز ہے؟ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کا مخاطب مقصد اور معنویت پر بحث تو کرسکتا ہے مگر بے مقصدیت اور بے معنویت کی تائید نہیں کرسکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُسے بے مقصدیت اور بے معنویت بھلی لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زندگی مقصد کے بغیر اور مقصد معنویت کے بغیر اور مقصد و معنویت انسانیت کے بغیر کچھ نہیں۔ آج کی دُنیاکو بہتر انسان کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے جو تمام انسانیت کو خدا کا کنبہ سمجھے (بقول حالیؔ: یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدیٰ کا)۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK