اقوام متحدہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ساڑھے چار کروڑ افراد کا غذائی تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے،خصوصی طور پر افریقہ اور ایشیائی ممالک کے کروڑوں افراد بھوک اور قحط کا شکار ہوسکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 11:01 AM IST | New York
اقوام متحدہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ساڑھے چار کروڑ افراد کا غذائی تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے،خصوصی طور پر افریقہ اور ایشیائی ممالک کے کروڑوں افراد بھوک اور قحط کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک ٹاسک فورس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد ہی آبنائے ہرمزسے کھادوں کو گزرنے نہ دیا گیا تو کروڑوں افراد بھوک اور قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔اقوام متحدہ او پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریعا دا سلوا نے پیر کو پیرس میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس صرف چند ہفتے ہیں تاکہ ایک بڑے انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسا بحران دیکھ سکتے ہیں جو ساڑھے چار کروڑاضافی افراد کو بھوک اور فاقوں میں دھکیل دے گا۔واضح رہے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو مہینوں سے بند کر رکھا ہے ، جہاں سے دنیا کی ایک تہائی کھادیں معمولاً گزرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پر نئے ایرانی قواعد اور ٹول ٹیکس نافذ، آمدورفت کیلئے اجازت لازمی
ایران کی جانب سے یہ کارروائی۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں کی گئی ہے، جس سے دنیا بھر کے کسانوں کے لیے اہم تجارت متاثر ہوئی ہے، جبکہ پودے لگانے کے موسم ختم ہونے کی دوڑ جاری ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مارچ میں یہ ٹاسک فورس تشکیل دی تاکہ آبنائے ہرمز کے راستے کھادوں اور متعلقہ خام مال جیسے امونیا، گندھک، اور یوریا کو گزرنے کا طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔بعد ازاں موریعا دا سلوا ہفتوں سے جنگجو فریقین کو چند جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت دینے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور انہوں نے۱۰۰؍ سے زائد ممالک سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ رکن ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ان کے مطابق، بڑھتے ہوئے ممالک اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، مگر امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک جو کھادوں کے بڑے پیدا کنندگان ہیں ،ابھی مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بالآخر خطے میں پائیدار امن اور تمام اشیا کی آمد و رفت کی آزادی کی امید ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پودے لگانے کا موسم انتظار نہیں کر سکتا، خاص طور پر افریقی ممالک میں جہاں یہ موسم چند ہفتوں میں ختم ہو رہا ہے۔
جبکہ عالمی توجہ تیل اور گیس کی تجارت پر پڑنے والے معاشی اثرات پر ہے، مگر اقوام متحدہ نے خوراک کے تحفظ پر بندش کے خطرے کے بارے میں انتباہ دیاہے جس سے افریقہ اور ایشیا کے ممالک خاص طور پر شدید متاثر ہوں گے۔
دریں اثناء موریعا دا سلوا نے کہا کہ اقوام متحدہ سات دنوں میں یہ طریقہ کار فعال کر سکتی ہے، لیکن اگر آبی گزرگاہ ابھی کھل بھی جائے تو معمول پر آنے میں تین سے چار ماہ لگیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف وقت کی بات ہے، اگر ہم نے جلد بحران کو نہ روکا تو ہمیں انسانی تباہی سے نمٹنا پڑے گا۔اگرچہ خوراک کی قیمتیں ابھی بے قابونہیں ہیں، مگر کھادوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے ماہرین کے مطابق زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میںبے تحاشہ اضافہ ہوگا۔تاہم موریعا دا سلوا نے کہا کہ روزانہ صرف پانچ اوسط جہازوں کو کھادوں اور خام مال کے ساتھ گزرنے کی اجازت کسانوں کے بحران کو ٹالنے کے لیے کافی ہوگی۔ان کے مطابق، جس چیز کی کمی ہے وہ ’’سیاسی عزم‘‘ ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ ہم ان کاموں میں تاخیر نہیں کر سکتے جو ممکن اور ضروری ہیں یعنی کھادوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دینا، اور اس کے ذریعے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر غذائی عدم تحفظ کے خطرے کو کم کرنا۔