• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ودھو ونود چوپڑہ نے مختلف زمروں کی فلمیں بنائیں

Updated: September 05, 2026, 12:13 PM IST | Agency | Mumbai

ہندوستانی فلمی صنعت میں کامیاب ہدایتکاروں اور فلمسازوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن چند فلم ساز ایسے ہیں جن کی شناخت محض کامیاب فلمیں بنانے سے نہیں بلکہ سنیما کو ایک مخصوص نظریے اور فنی اندازکے ساتھ دیکھنے سے ہوتی ہے۔

The creator of films like `Munna Bhai` and `3 Idiots`. Picture: INN
’منا بھائی‘ اور’ ۳؍ایڈیٹس‘جیسی فلموںکےخالق۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی فلمی صنعت میں کامیاب ہدایتکاروں اور  فلمسازوں  کی کوئی کمی نہیں، لیکن چند فلم ساز ایسے ہیں جن کی شناخت محض کامیاب فلمیں بنانے سے نہیں بلکہ سنیما کو ایک مخصوص نظریے اور فنی اندازکے ساتھ دیکھنے سے ہوتی ہے۔ ودھو ونود چوپڑہ بھی انہی ناموں میں شامل ہیں۔تقریباً۵؍دہائیوں پر محیط اپنے فلمی سفر میں انہوں نے سنجیدہ، رومانوی، سماجی، تھرلر اور تفریحی فلموں کے ذریعے ثابت کیا کہ اچھا سنیما کسی ایک صنف کا پابند نہیں ہوتا۔۵؍ستمبر۱۹۵۲ءکو سری نگر، کشمیر میں پیدا ہونے والے ودھو ونود چوپڑہ کا بچپن وادیٔ کشمیر کے دلکش مگر مخصوص سماجی ماحول میں گزرا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد معاشیات کی تعلیم حاصل کی، لیکن ان کااصل شوق فلم سازی تھا۔ یہی شوق انہیں پونے کے معروف فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، یعنی ایف ٹی آئی آئی تک لے گیا، جہاں انہوں نے فلم سازی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

یہ بھی پڑھئے: جب والد سے کہا کہ مجھے فلم ساز بننا ہے تو انہوں نے مجھے طمانچہ رسید کیا تھا: ودھو ونود چوپڑہ

فلمی طالب علمی کے زمانے ہی میں ان کی صلاحیت نمایاں ہونے لگی تھی۔ ان کی مختصر فلم ’مرڈر ایٹ منکی ہل‘نے انہیں ابتدائی سطح پر شناخت دلائی اور قومی اعزاز بھی حاصل ہوئے۔اس کے بعد ۱۹۷۸ءمیں انہوں نے دستاویزی مختصر فلم’این انکاؤنٹر ود فیسز‘ بنائی، جس میں معاشرے کے محروم اور بے سہارا بچوں کی زندگی کو موضوع بنایا گیا۔ یہ فلم آسکر کے ڈاکیومنٹری شارٹ سبجیکٹ زمرے کے لیے نامزد ہوئی، اور اس نامزدگی نے ایک نوجوان فلم ساز کو عالمی سطح پر متعارف کرا دیا۔بطور فیچر فلم ڈائریکٹر ان کے ابتدائی سفر میں ’سزائے موت‘ شامل رہی، لیکن جس فلم نے انہیں سنجیدہ فلم ساز کے طور پر مضبوط شناخت دی، وہ ’خاموش‘ تھی۔ اس فلم میں انہوں نے سسپنس اور انسانی نفسیات کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا۔ محدود کرداروں اور پراسرار ماحول کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھانے کا ان کا انداز روایتی ہندی فلموں سے مختلف تھا۔ ۱۹۸۹ءمیں آنے والی فلم ’پرندہ‘ ودھو ونود چوپڑہ کے کریئر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔اس کے بعد ۱۹۹۴ءمیں ودھو ونود چوپڑہ نے ’۱۹۴۲ء:اے لو اسٹوری‘  بنائی۔ یہ فلم ان کے فلمی کیریئر کا ایک بالکل مختلف رنگ تھی۔ ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘، ’لگے رہو منا بھائی‘ اور’۳؍ ایڈیٹس‘ جیسی فلموں کی کامیابی میں ودھو ونود چوپڑہ کا بطور پروڈیوسر اور تخلیقی ساتھی اہم کردار رہا۔ ’منا بھائی‘ سیریز نے ہندی سنیما کو کامیڈی کے ذریعے سماجی پیغام دینے کا ایک نیا انداز دیا، جبکہ ’۳؍ ایڈیٹس‘ نے ہندوستانی تعلیمی نظام اور کامیابی کی دوڑ پر سوال اٹھاتے ہوئے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ان کی پروڈکشن کمپنی نے ’’پرینیتا‘‘، ’’فیراری کی سواری‘‘ اور ’’پی کے‘‘ جیسی اہم فلموں سے بھی اپنا دائرہ وسیع کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ارچنا پورن سنگھ کے بیٹے آریہمن سیٹھی نے زندگی کے مشکل تجربات کا انکشاف کیا

حالیہ برسوں میں ودھو ونود چوپڑہ کو سب سے زیادہ تعریف اور عوامی محبت ۲۰۲۳ءکی فلم ’۱۲؍ویں فیل‘ سے ملی۔اس فلم کی کامیابی نےایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ بڑے ستاروں، مہنگے سیٹوں اور غیر معمولی تشہیر کے بغیر بھی ایک مضبوط اور سچی کہانی ناظرین کے دل تک پہنچ سکتی ہے۔ان کے فلمی سفر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے وقت کے ساتھ خود کو محدود نہیں ہونے دیا۔ ’خاموش‘ کا سسپنس، ’پرندہ‘ کی تاریکی، ’۱۹۴۲ء: اے لو اسٹوری‘ کی رومانویت، ’مشن کشمیر‘ کی سیاسی کشمکش، ’منا بھائی‘ کی انسان دوستی اور’۱۲؍ویں فیل‘ کی جدوجہدیہ تمام فلمیں فلم ساز کی مختلف تخلیقی جہتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK