Updated: September 05, 2026, 7:03 PM IST
| Jerusalem
تقریباً تین سال کی معطلی کے بعد فلسطینی فٹبال کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئی ہیں، اور مغربی کنارے، غزہ اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں کلب مقابلے کا آغاز ہوا ہے۔ ’’ہزاروں شہداء کپ‘‘(Thousand Martyrs Cup)کے نام سے منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں ۲۴۴؍کلب حصہ لے رہے ہیں جسے جنگ میں جاں بحق فلسطینی کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کی یاد سے منسوب کیا گیا ہے۔
فلسطینی فٹبال جمعہ کو تقریباً تین سال کی معطلی کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں کلب مقابلے کے ساتھ دوبارہ شروع ہوگئی۔ یہ معطلی اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے باعث ہوئی تھی۔ فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن نے ’’ہزاروں شہداء کپ‘‘ کے نام سے اس مقابلے کا انعقاد کیا، جس کے افتتاحی میچ تینوں علاقوں میں بیک وقت کھیلے گئے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں الرام کے قصبے میں واقع فیصل الحسینی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں جبل المکبر اور شباب الخلیل کے درمیان مقابلہ ہوا، جبکہ وسطی غزہ میں اتحاد دیر البلح کلب کے اسٹیڈیم میں خدمات رفح اور شباب رفح آمنے سامنے آئے۔
لبنان میں عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ کے ابو جہاد الوزیر اسٹیڈیم میں الانصار اور النہضہ کے درمیان میچ کھیلا گیا۔ مغربی کنارے، غزہ اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے تقریباً۲۴۴؍ کلب اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ گروپ مرحلے کا قرعہ اندازی یکم ستمبر کو فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی مختلف شاخوں میں بیک وقت ہوئی تھی۔ اسوسی ایشن نے اس مقابلے کا نام ان فلسطینی کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کی یاد میں رکھا ہے جو غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: نوواک جوکووچ ۲۰؍ سال میں پہلی بار گرینڈ سلیم کے پہلے راؤنڈ میں ہارے
طویل معطلی کے بعد کھیلوں کی واپسی
فلسطینی اسپورٹس میڈیا اسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ سیام نے انادولو کو بتایا کہ یہ مقابلہ تین سے زائد سیزن کی معطلی کے بعد کھیلوں کی سرگرمیوں کی واپسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران فلسطینی کھلاڑیوں اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایک ہزار سے زائد کھلاڑی، کوچز اور ریفریز سمیت کھیلوں سے وابستہ افراد جاں بحق ہوئے۔ سیام نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کا نام کھیلوں کی تحریک کے شہداء کی یاد میں رکھا گیا ہے اور یہ ان کی وفاداری اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ ان کے بقول، ٹورنامنٹ کا آغاز اس بات کا پیغام ہے کہ ’’کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں، اگرچہ محدود پیمانے پر۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ویبھو سوریہ ونشی دلیپ ٹرافی میں نصف سنچری بنانے والے سب سے کم عمر بلے باز بنے
موت اور تباہی کے درمیان کھیلوں کی واپسی
غزہ میں فٹبال میچوں کی واپسی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اکتوبر۲۰۲۳ءمیں جنگ شروع ہونے کے بعد فلسطینی کھیلوں کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مغربی کنارے میں بھی مسلسل تین سیزن تک مقامی ٹورنامنٹس معطل رہے۔ اسرائیلی کشیدگی کے باعث کلبوں اور کھلاڑیوں کیلئےباقاعدگی سے تربیت، سفر اور میچوں کا انعقاد مشکل رہا۔ لبنان میں یہ مقابلہ فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن کی بیرونِ ملک شاخ کے ذریعے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں بنیادی طور پر پناہ گزین کیمپوں میں سرگرم فلسطینی کلب حصہ لے رہے ہیں۔ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ٹورنامنٹ مقامی فٹبال مقابلوں کی مرحلہ وار بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔