Updated: September 05, 2026, 7:03 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھویان نے جنتر منتر پر جین زی کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’انتہائی تکلیف دہ‘‘ اور ’’سنگین معاملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سے متوقع غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ قانون کی حکمرانی اور آئینی اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ہی پولیس عوام کا اعتماد برقرار رکھ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے جج اجل بھویان۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھویان نے جمعہ کو، جنتر منتر پر جین زی احتجاج میں ہوئے پولیس کے ظلم و تشدد پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کو ’’انتہائی تکلیف دہ‘‘ اور ’’سنگین تشویش کا باعث‘‘ قرار دیا ہے۔ جسٹس بھویان نے یہ باتیں نئی دہلی کے وائسرائے ہال میں سابق سکریٹری( سیکوریٹی) یشووَردھن آزاد کی کتاب پولیسنگ دی ریپبلک(Policing the Republic) کی رونمائی کے موقع پر کہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کے ڈھانچے میں مبینہ تبدیلی کی شکایت، جانچ شروع
پیشہ ورانہ غیر جانب داری کا ختم ہونا
جسٹس بھویان نے کہا ’’ہم سب اس وقت سخت مایوس ہوئے جب ہم نے انڈین پولیس سروس (IPS) کے نوجوان افسران کو خود جا کر مظاہرین پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ دیکھنا واقعی انتہائی تکلیف دہ تھا۔ پولیس افسران سے جس غیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے وہ کہیں نہ کہیں ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور یہ واقعی ایک سنگین معاملہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پولیس شہریوں کے حقوق کو پامال کئے بغیر، حد سے زیادہ طاقت کااستعمال کئے بغیر بھی امن و امان برقرار رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ پولیس کو غیر جانبدارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتے ہوئے ، آئینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کا اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا ’’اسی لئےیہ انتہائی ضروری ہے کہ پولیس فورس اپنا اعتبار برقرار رکھے‘‘ اور یہ صرف ’’آئین کی سختی سے پابندی کرنے‘‘ اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کشتی کی خاتون کھلاڑی نے بچوں کے ساتھ قلعے سے کود کر خودکشی کر لی
پولیس تحویل میں تشدد پر تشویش
سپریم کورٹ کے جج نے پولیس تحویل میں تشدد اور اموات کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور ایسے واقعات کو مہذب معاشرے کے بدترین جرائم میں شمار کیا۔انہوں نے پولیس اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور پولیس کے کام کاج میں سیاسی مداخلت کے خلاف خبردار کیا۔ اس تقریب میں کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پی چدمبرم، مہاراشٹر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈی سیوانندن اور دیگر کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمان شوبھا بچھائو کا فون ہیک، جان پہچان والوں سے پیسے مانگے گئے
سپریم کورٹ نے مظاہرین طلباء کے خلاف FIRs منسوخ کیں
جسٹس بھویان کے یہ تبصرے ان خبروں کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ نے نیٹ-یو جی ۲۰۲۶ء کے سوال نامے افشا ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی سے جڑے مظاہروں میں شامل طلبہ کے خلاف درج مجرمانہ مقدمات کو آئین ہند کی دفعہ ۱۴۲؍ کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ان نوجوان مظاہرین کے مستقبل کو مدنظر رکھ رہی ہے جنہوں نے اپنے مطالبات اٹھانے کیلئے پرامن مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ بینچ نے ہدایت دی کہ ۲۰؍ جولائی سے ۲۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان ہونے والے مظاہروں سے متعلق کوئی بھی نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے، سوائے ان کے جن کی عدالت کی طرف سے اجازت دی گئی ہو۔عدالت نے یہ بھی توجہ دلائی کہ صرف پرامن مظاہروں میں حصہ لینے کو تعزیری قوانین کے تحت جرم نہیں مانا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے کچھ دن پہلے، جسٹس بھویان نے کہا تھا کہ طلبہ کو صرف الگ رائے رکھنے یا سوال پوچھنے کی وجہ سے کسی تادیبی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ نیشنل لاء یونیورسٹی، دہلی کی ۱۳؍ ویں کنووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایسی کارروائی غیر آئینی ہوگی اور یہ طاقت کا غلط استعمال ہے۔ انہوں نے مزیدکہا ’’جب طلبہ کسی مختلف نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں، جب طلبہ سوالات پوچھتے ہیں، تو انہیں کارروائی کی دھمکی نہیں دی جا سکتی۔ یہ غیر آئینی ہے اور یہ عہدے و طاقت کا غلط استعمال ہے۔‘‘