• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کے ڈھانچے میں مبینہ تبدیلی کی شکایت، جانچ شروع

Updated: September 05, 2026, 5:59 PM IST | Sambhal

سنبھل کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کے ڈھانچے میں مبینہ تبدیلیوں کی شکایت کے بعد معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے الزامات کی حقیقت جاننے اور ممکنہ غیر مجاز تعمیرات یا قبضے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

Aerial view of Baba Bahauddin Shah Mosque. Photo: INN
بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کا فضائی منظر۔ تصویر: آئی این این

سنبھل کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد اس وقت زیرِ بحث ہے، جب ایک وکیل اور ہندو تنظیم کےلیڈر نے الزام عائد کیا ہے کہ چو دھری سرائے چوکی علاقے میں واقع مسجد کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یہ شکایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق تنازع پہلے ہی جاری ہے۔ اس مسجد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے ہری ہر مندر کی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کے باعث ہندو اور مسلم فریقوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمان شوبھا بچھائو کا فون ہیک، جان پہچان والوں سے پیسے مانگے گئے

سنبھل کے ڈی ایم سے شکایت
شری کلکی سینا کے قومی کنوینر اور وکیل سبھاش چندر تیاگی نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ انکت کھنڈیلوال کو شکایت پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی ہے اور ان کے مطابق یہ عمارت محکمہ آثارِ قدیمہ (ASI) کے تحفظ میں ہے۔ شکایت کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے اسے سب ڈویژنل مجسٹریٹ (SDM) کے حوالے کر دیا۔ تیاگی نے الزام لگایا کہ مسجد کو تبدیل کرکے قلعہ نما شکل دے دی گئی ہے اور ان کے مطابق اس طرح کی تبدیلیاں سکیوریٹی کیلئے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا، ’’یہ مسجد اے ایس آئی کے زیرِ تحفظ عمارت ہے۔ اس کے باوجود اس کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اسے قلعے کی شکل دی گئی ہے، جہاں خانہ جنگی جیسی صورتِ حال پیدا ہونے پر ہتھیار چلائے جا سکتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ماضی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران لوگ مسجد میں جمع ہوئے تھے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا

ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دیا
ضلع مجسٹریٹ انکت کھنڈیلوال نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ قبرستان کے قریب زمین کے دو ٹکڑے جامع مسجد کے نام پر درج ہیں، جبکہ مسجد کی عمارت خود اے ایس آئی کے تحت محفوظ عمارت ہے۔ اب ضلعی انتظامیہ یہ جانچ کرے گی کہ آیا زمین پر کوئی غیر مجاز تعمیر یا قبضہ ہوا ہے یا مسجد کے ڈھانچے میں بغیر اجازت کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ کھنڈیلوال نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: خاتون صحافیوں کو مسلم ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا، کیا مسلمان ہونا جرم ہے: فور پی ایم کے ایڈیٹر

مسجد انتظامیہ کا ابھی تک کوئی ردِعمل نہیں 
مسجد کے متولی نے اس شکایت پر اب تک عوامی طور پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم، تیاگی کے مطابق متولی کا کہنا ہے کہ مسجد وقف کی ملکیت ہے اور یہ سید بابا بہاؤالدین شاہ سے متعلق زمین پر قائم ہے۔ متولی نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اس دعوے کی حمایت میں دستاویزات موجود ہیں۔ مقامی مسلم باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد کئی سو سال پرانی ہے، تاہم موجودہ عمارت تقریباً۱۵؍ سے۲۰؍ سال قبل اس وقت دوبارہ تعمیر کی گئی تھی جب پرانی عمارت کے کچھ حصے کمزور ہو گئے تھے۔ انہوں نے مسجد کی تعمیر کو کسی تنازع کا حصہ قرار دینے کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسے دعوے سیاسی مقاصد کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خلائی پیشقدمی: ملک کا اولین جیو سنکرونس سیٹیلائٹ مدار میں داخل

ہندو باشندوں نے اے ایس آئی کے قوانین پر وضاحت کا مطالبہ کیا
علاقے کے بعض ہندو باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر مسجد وقف کی ملکیت بھی ہو، تب بھی اسے اےایس آئی کے ضوابط کے تحت محفوظ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی محفوظ تاریخی عمارت کی مرمت، ساخت میں تبدیلی یا دوبارہ تعمیر کیلئے متعلقہ اے ایس آئی قوانین اور ضروری اجازتوں کی پابندی کی جانی چاہئے۔ انتظامیہ کی تحقیقات سے یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ آیا ضروری اجازت کے بغیر کوئی تعمیر یا تبدیلی کی گئی اور آیا سرکاری یا محفوظ اراضی پر کوئی غیر مجاز قبضہ ہوا ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سنبھل پہلے ہی حساس صورتحال سے دوچار ہے اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات ماضی میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK