زمین کی سطح تقریباً ۷۱؍ فیصد پانی اور۲۹؍ فیصد زمین پر مشتمل ہے۔اس تناسب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سمندر کا حصہ خشکی سے زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 04, 2023, 10:05 AM IST | Mumbai
زمین کی سطح تقریباً ۷۱؍ فیصد پانی اور۲۹؍ فیصد زمین پر مشتمل ہے۔اس تناسب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سمندر کا حصہ خشکی سے زیادہ ہے۔
زمین کی سطح تقریباً ۷۱؍ فیصدپانی اور۲۹؍ فیصد زمین پر مشتمل ہے۔اس تناسب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سمندر کا حصہ خشکی سے زیادہ ہے۔اسی طرح آبی مخلوقات کی تعداد بھی زمینی مخلوقات سے زیادہ ہے اور کتنی ہی آبی مخلوقات ایسی ہیں جنہیں اب تک دریافت نہیں کیا گیا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر مذکورہ بالا تناسب کو پلٹ دیا جائے یعنی زمین پر موجود خشکی کا حصہ سمندر بن جائے اور سمند ر خشکی بن جائیں تو کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ زمین کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں سمندر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندروں سے پانی کی بڑی مقدار بخارات بن جاتی ہے جو زمین کے درجہ حرارت کو روز معتدل رکھتا ہے اور اسے بڑھنے نہیں دیتا۔ اگر زیادہ تر سطح زمین ہوگی تو زمین انتہائی گرم ہو جائےگی۔ گلوبل وارمنگ میں تیزی آجائے گی اور زمین کا درجہ حرارت بڑھنے لگے گا جس سے اس کا بیشتر حصہ صحراؤں میں تبدیل ہو جائے گاجبکہ گرمی بڑھنے کی وجہ سےبرف کے گلیشیئر پگھلنے لگیں گے جس کی وجہ سے اطراف کے تمام علاقوں میں سیلاب آ جائے گا۔
اگر سمندروں کو خشکی میں تبدیل کر دیا جائے تو پانی کا چکر بگڑ جائے گا اور زمینی علاقوں پر بارش کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ یہ خشک سالی اور زمینی آب و ہوا کے اعلیٰ تغیرات کا باعث بنے گا۔اس کے علاوہ ہوا میں تقریباً ۵۰؍ تا ۷۰؍ فیصد آکسیجن آبی پودوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ اگر سمندر کم رقبہ پر محیط ہوں تو آکسیجن اتنی تیزی سے بھر نہیں پائے گی جتنی تیزی سے زمینی جاندار استعمال کر تے ہیں۔ بالآخر، آکسیجن کی مقدار کم ہو جائے گی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ جائے گی جس سےبہت زیادہ فضائی اور زمینی آلودگی ہو گی نیز وہ صنعتیں اور دیگر کارخانے جو آبی ذخائر کو اپنے فضلے کے ڈمپنگ کیلئے سنک کے طور پر استعمال کرتے ہیں، انہیں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر ایسا ہو تو پانی کی کمی سے نمٹنے کیلئے جانوروں کی جسامت بھی نسبتاً چھوٹی ہوگی جبکہ زمین پر درختوں اور پودوں کی کمی کی وجہ سے گوشت خور بہت زیادہ ہوں گے۔انسانوں کی اناٹومی بھی بہت مختلف ہوگی۔ انسان شاید پانی پر اتنا انحصار نہیں کرے گا جتنا اب کرتا ہے۔سمندر ،تھرمل اور برقی توانائی کا بڑا ذریعہ ہیں اور سمندری حصہ کم ہونے سے توانائی کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے علاوہ چونکہ دریاؤں کو اپنا پانی سمندر میں پھینکنا مشکل ہوجائے گا جس سے تازہ پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہوگی ۔
اس کے برعکس، زمینی اور ہوائی سفر کے ذریعے مقامات کے درمیان رابطے میں آسانی ہوگی۔ تاہم، سمندری نقل و حمل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا اور سمندری غذا اور آبی پیشے پر انحصار کرنے والے ممالک دیوالیہ ہو جائیں گے۔