Updated: June 07, 2026, 10:00 PM IST
| Gandhinagar
گجرات حکومت نے اعلان کیا کہ ۸؍ ایشیائی شیر کے بچے گرمی سے ہلاک ہوئے، بیبیشیا انفیکشن سے نہیں، ایشیائی شیر، جو کبھی ایشیا کے بیشتر حصوں میں پایا جاتا تھا، اب صرف گجرات میں ہی زندہ ہے، جہاں اس کی پوری جنگلی آبادی گِر جنگل کے علاقے اور اس کے آس پاس مرکوز ہے، جس سے یہ ریاست اس کی آخری قدرتی رہائش گاہ ہے۔
گجرات کے ریاستی وزیر جنگلات ارجن مودھواڈیا نے سنیچر کو بتایا کہ گجرات میں حالیہ آٹھ ایشیائی شیر کے بچوں کی موت بیبیشیا انفیکشن یا کسی وائرس کی وجہ سے نہیں، بلکہ گرمی کی وجہ سے ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ۱۷؍ شیروں میں سے۱۲؍، جو بیمار ہو گئے تھے اور احتیاط کے طور پر قرنطینہ کیے گئے تھے، صحت یاب ہونے کے بعد جنگل میں چھوڑ دیے گئے ہیں۔مودھواڈیا نے کہا، ’’آٹھ شیر کے بچے گرمی اور گرمی سے پیدا ہونے والی کمزوری کی وجہ سے مر گئے۔ جن کی قوت مدافعت کم تھی، وہ مر گئے۔ بیبیشیا طفیلینے یہ نہیں کیا۔‘‘انہوں نے ایک الگ ویڈیو بیان میں کہا کہ’’ گِر سینکچری ‘‘کے علاقے میں مختصر عرصے میں شیر کے بچوں کی موت تشویش کا باعث بن گئی تھی، اور ابتدا میں بیبیشیا طفیلیکو ذمہ دار سمجھا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سی بی ایس ای میں بے ضابطگیاں دھرمیندر پردھان کی نااہلی کاثبوت ہیں: کانگریس
دریں اثنا، آس پاس کے علاقے کو پیتھوجین سے پاک کر دیا گیا، جس کے تحت قریب ہی تقریباً ۶۰۰؍ شیروں کا کیڑے مارنے کا علاج کیا گیا۔۱۷؍ شیروں میں سے، جو کافی بیمار تھے اور چلنے کے قابل نہیں تھے،۱۲؍ کو پہلے ہی جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ باقی پانچ شیر اب صحت مند ہیں اور جلد ہی اپنی قدرتی رہائش گاہ میں چھوڑ دیے جائیں گے۔مودھواڈیا نے مزید کہا کہ حال ہی میں کسی بیماری کی وجہ سے شیروں کی کوئی موت نہیں ہوئی، البتہ ایک شیرنی حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے چل بسی۔انہوں نے کہا، ’’اسی طرح، پہلے مرنے والے شیروں میں کوئی خطرناک وائرس نہیں پایا گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: کھوڑا میں جمعہ کی نماز میں خلل، ہندوتوا گروپ کی مسلم مخالف نعرے بازی
واضح رہے کہ اس سے قبل۲۹؍ مئی کو وزیر نے کہا تھا کہ گِیر سومناتھ اور امریلی اضلاع میں مشتبہ `بیبیشیا انفیکشن کی وجہ سے شیر کے آٹھ بچے مر گئے تھے۔ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکام نے ان علاقوں کے۱۰؍ کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے شیروں کو الگ تھلگ کر دیا تھا جہاں انفیکشن کی اطلاع ملی تھی اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔مرنے والے بچوں کے نمونے گاندھی نگر میں واقع گجرات بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر میں جانچے گئے۔بیبیشیا طفیلی حشرات کے ذریعے پھیلتا ہے، اور کینائن ڈسٹمپر وائرس (CDV) جو انتہائی متعدی ہے، متاثرہ جانور کی قوت مدافعت کو کم کر دیتا ہے۔اس سے قبل ۲۰۱۸ء میں، ایک ماہ کے اندر کل۱۱؍ شیر CDV اور پروٹوزوئن انفیکشن کے امتزاج سے مر گئے تھے۔ ذہن نشین رہے کہ ایشیائی شیر، جو کبھی ایشیا کے بیشتر حصوں میں پایا جاتا تھا، اب صرف گجرات میں ہی زندہ ہے، جہاں اس کی پوری جنگلی آبادی گِر جنگل کے علاقے اور اس کے آس پاس مرکوز ہے، جس سے یہ ریاست اس کی آخری قدرتی رہائش گاہ بن گئی ہے۔