Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: خلیجی ممالک کے جنگی نقصان کی تلافی کیلئے ایرانی اثاثوں کے استعمال پرغور

Updated: June 07, 2026, 10:00 PM IST | Washington

امریکہ خلیجی ممالک کے جنگی نقصان کی تلافی کیلئے ایرانی اثاثے استعمال کرنے پر غور کررہا ہے، یہ پیشرفت جاری امن مذاکرات میں نئی کشیدگی پیدا کرسکتی ہے، کیونکہ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے حال ہی میں کہا تھا کہ امن معاہدے کا انحصار امریکہ کی جانب سے منجمد کئے گئے ایرانی اثاثے جاری کرنے پر ہوگا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

خبر رساں ادارے رائٹرز نے سنیچر کو ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ مستقبل میں ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر ممکنہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافیکے لیے ایرانی اثاثے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت ایرانی اثاثوں کو خلیجی ریاستوں کی جانب اس طرح سے منتقل کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے تاکہ ایران کی فوجی کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کے بعد تعمیر نو اور مرمت کا کام کیا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت بھی دی ہے کہ وہ ایران کی طرف سے خلیجی اتحادیوں کو پہنچائے گئے نقصانات کی لاگت کا جائزہ لے۔ امریکہ ان مرمتوں کی ادائیگی کے لیے بھی ایرانی اثاثے استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کی دھمکی پر تشویش: امریکی خفیہ محکمہ

واضح رہے کہ ۲۸؍ مئی کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کا آغاز کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں ،تنصیبات اور اسرائیل  کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔ اس سے قبل ایران نے خطے کے تمام ممالک کو کھلی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کیلئے استعمال ہوگی، اس کو نشانہ بنایا جائےگا۔ بعد ازاں امریکہ نے کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عربیہ، قطر میں موجود اپنی فوجی اڈوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے شہروں، اور تیل کی تنصیبات پر حملے کئے، جس کے جواب میں ایران نے ان تمام ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کردیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: موساد میں بڑی تبدیلی، نئے سربراہ نے نائب ڈائریکٹر رومن گوفمین کو برطرف کر دیا

بعد ازاں پاکستان، ترکی اور قطر کی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم مذاکرات میں تعطل برقرار ہے، جس کی وجہ ایرانی شرائط ہیں، جنہیں امریکہ نے مسترد کردیا ، انہیں شرائط میں ۲۴؍ بلین ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو جاری کرنا بھی تھا۔ اس کے بر خلاف ان اثاثوں سے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کی تلافی کا امریکی فیصلہ ایران کو مزید مشتعل کردے گا۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK