• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قطبین میں برف سال بھر جمی رہتی ہے، کیوں؟

Updated: February 06, 2026, 7:21 PM IST | Mumbai

قطبین زمین کے وہ علاقے ہیں جہاں سال کے بیشتر حصے میں شدید سردی اور برف کی موٹی تہیں موجود رہتی ہیں، حالانکہ یہاں بھی سورج کی روشنی پہنچتی ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آخر زمین کے انہی حصوں میں برف اتنی زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

In the polar regions, the sun does not rise for several months of the year. Photo: INN
قطبی علاقوں میں سال کے کئی مہینوں تک سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔ تصویر: آئی این این

قطبین زمین کے وہ علاقے ہیں جہاں سال کے بیشتر حصے میں شدید سردی اور برف کی موٹی تہیں موجود رہتی ہیں، حالانکہ یہاں بھی سورج کی روشنی پہنچتی ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آخر زمین کے انہی حصوں میں برف اتنی زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

سورج کی شعاعوں کا ترچھا زاویہ 

قطبین پر سورج کی شعاعیں سیدھی نہیں بلکہ بہت ترچھی پڑتی ہیں۔ اس وجہ سے سورج کی حرارت ایک بڑے رقبے میں پھیل جاتی ہے اور زمین کو زیادہ گرم نہیں کر پاتی۔ اس کے برعکس خطِ استوا (Equator) پر سورج کی شعاعیں سیدھی پڑتی ہیں جس سے وہاں زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ کم حرارت کی وجہ سے قطبین پر برف پگھلنے کے بجائے جمتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تقریباً سبھی مصنوعات پر ’بار کوڈ‘ ہوتا ہے، کیوں؟

طویل راتیں اور مختصر د ن 

قطبی علاقوں میں سال کے کئی مہینوں تک سورج غروب نہیں ہوتا اور کئی مہینوں تک طلوع ہی نہیں ہوتا۔ جب طویل راتیں ہوتی ہیں تو مسلسل اندھیرا اور سردی رہتی ہے جس سے درجۂ حرارت بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس طویل سرد موسم میں برف پگھلنے کا موقع نہیں ملتا اور برف کی تہیں موٹی ہوتی چلی جاتی ہیں۔

کم درجۂ حرار ت 

قطبین زمین کے سرد ترین علاقے ہیں۔ یہاں کا درجۂ حرارت اکثر صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے بہت نیچے رہتا ہے۔ اتنی شدید سردی میں پانی فوراً برف میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پہلے سے موجود برف بھی برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں سال پرانی برف بھی قطبین پر محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مختلف رَنگ ملانے سے نیا رنگ بنتا ہے، کیوں؟

البیڈو ایفیکٹ (Albedo Effect)

برف سفید رنگ کی ہوتی ہے اور سفید سطح سورج کی زیادہ تر شعاعوں کو واپس فضا میں منعکس کر دیتی ہے۔ اس عمل کو’ البیڈو ایفکیٹ‘کہتے ہیں۔ چونکہ قطبین پر برف کی مقدار زیادہ ہے، اس لئے زیادہ حرارت واپس چلی جاتی ہے اور زمین مزید گرم نہیں ہو پاتی۔ اس طرح سردی برقرار رہتی ہے اور برف مزید جمنے میں مدد ملتی ہے۔

بارش کے بجائے برف باری 

قطبی علاقوں میں جب نمی موجود ہوتی ہے تو وہ بارش کے بجائے برف باری کی صورت میں گرتی ہے کیونکہ درجۂ حرارت بہت کم ہوتا ہے۔ یہ برف باری آہستہ آہستہ جمع ہو کر موٹی برفانی تہوں اور گلیشیئرز کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بادل ہلکے ہونے کے باوجود نہیں گرتے، کیوں؟

سمندری اور ہوائی گردش

قطبین کے گرد ٹھنڈی ہوائیں اور سمندری دھارائیں پائی جاتی ہیں جو گرم ہوا کو ان علاقوں تک پہنچنے نہیں دیتیں۔ اس قدرتی نظام کی وجہ سے قطبین مستقل طور پر سرد رہتے ہیں اور برف پگھلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔n

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK