Updated: February 06, 2026, 7:49 PM IST
| Islamabad
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ایک مسجد کے اندر دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کم و بیش ۳۰؍ افراد کے جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس اور سیکوریٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد شہریوں کو مسجد کے احاطے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج نمازِ جمعہ کے دوران ایک مسجد کے اندر اچانک دھماکہ ہوا، جس سے مسجد میں موجود نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ متعدد رپورٹس کے مطابق کم و بیش ۳۰؍ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ دھماکے کی آواز سن کر مسجد کے اندر بھگدڑ مچ گئی، جبکہ کئی افراد زمین پر گر پڑے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ مسجد کے اندر ہی ہوا، جس کے فوراً بعد لوگ جان بچانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ پڑے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور بیشتر کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم مکمل تفصیلات کا انتظار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راین روتھ کو ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش پر عمر قید کی سزا
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کا تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔ پولیس اور سیکوریٹی اداروں نے مسجد اور اس کے اطراف کے علاقے کو سیل کر دیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر موجود رہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دھماکہ کسی دہشت گرد کارروائی کا نتیجہ تھا یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مصدقہ معلومات پر اعتماد کریں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: غزہ امداد روکنے پر دو فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف وارنٹ جاری
واقعے کے بعد دارالحکومت میں سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے، خاص طور پر مساجد اور دیگر حساس مقامات کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ جمعہ کو ہونے والے اس واقعے نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ واقعہ عبادت کے دوران پیش آیا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاحال کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکوریٹی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کی جانچ کر رہے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔