ہندی سنیما کی تاریخ میں کچھ فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے صرف کامیابی ہی حاصل نہیں کی بلکہ آنے والی نسلوں کے فلم سازوں کے لیے نئی راہیں بھی متعین کیں۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 2:20 PM IST | Mumbai
ہندی سنیما کی تاریخ میں کچھ فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے صرف کامیابی ہی حاصل نہیں کی بلکہ آنے والی نسلوں کے فلم سازوں کے لیے نئی راہیں بھی متعین کیں۔
ہندی سنیما کی تاریخ میں کچھ فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے صرف کامیابی ہی حاصل نہیں کی بلکہ آنے والی نسلوں کے فلم سازوں کے لیے نئی راہیں بھی متعین کیں۔ ۱۹۶۱ءمیںریلیزہونے والی دلیپ کمار کی فلم ’گنگا جمنا‘بھی ایسی ہی ایک شاہکار فلم تھی، جس کی کہانی، کردار، مکالمے اور پیشکش نے بعد کے برسوں میں بننے والی کئی بڑی فلموں کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ فلمی ماہرین’گنگا جمنا‘کو ہندوستانی سنیما کی سب سے بااثر فلموں میں شمار کرتے ہیں۔ اس فلم کے بنیادی خیال سے متاثر ہوکر بعد میں ’دیوار(۱۹۷۵ء)، ’نام‘ (۱۹۸۶ء) اور’آندولن‘ (۱۹۹۵ء)جیسی فلمیں بنیں، جن میں سے۲؍ بلاک بسٹر ثابت ہوئیں، جبکہ ایک فلم اوسط کاروبار کے باوجود اپنے لازوال گیتوں کی وجہ سے آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شہناز گل نے راگھو جویال کے ساتھ تعلقات کی افواہوں پر خاموشی توڑی
۱۹۷۵ءمیں ریلیز ہونےوالی یش چوپڑا کی فلم ’دیوار‘ کو’گنگا جمنا‘سےسب سے زیادہ متاثر فلم سمجھا جاتا ہے۔ سلیم جاوید کی تحریر کردہ اس فلم میں امیتابھ بچن نے وجے کا کردار ادا کیا، جو جرائم کی دنیا میں طاقتور بن جاتا ہے، جبکہ ششی کپور نے اس کے چھوٹے بھائی روی ورما کا کردار نبھایا، جو ایک ایماندار پولیس افسر بنتا ہے۔ فلم کے آخری حصے میں دونوں بھائی آمنے سامنے آتے ہیں اور یہی تصادم ’گنگا جمنا‘کی یاد تازہ کرتا ہے۔’دیوار‘ نہ صرف ۱۹۷۵ءکی سب سے کامیاب فلموں میں شامل ہوئی بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کی عظیم ترین فلموں میں بھی شمار کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۶ءمیں مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی ’نام‘ بھی اسی بنیادی خیال پر مبنی تھی۔ فلم میں سنجے دت اور کمارگورو نے دو بھائیوں کے کردار ادا کیے۔ ایک بھائی جرائم کی دنیا میں پھنس جاتا ہے جبکہ دوسرا سیدھی راہ اختیار کرتا ہے۔ فلم میں جذبات، خاندانی رشتوں اور قربانی کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اس فلم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے گیت ثابت ہوئے، خصوصاً پنکج ادھاس کی آواز میں ’چٹھی آئی ہے‘آج بھی غزلوں کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تقریباً دو کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے شاندار کاروبار کیا اور۱۹۸۶ءکی کامیاب ترین فلموں میں شامل رہی۔اسی کہانی کی جھلک ۱۹۹۵ءمیںریلیزہونےوالی ’آندولن‘میں بھی دیکھی گئی۔ عزیز سیجاول کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں سنجے دت اور گووندا نے ۲؍بھائیوں کے کردار نبھائے۔ ایک بھائی جرائم کی دنیا کا حصہ بنتا ہے جبکہ دوسرا تعلیم حاصل کرکے ایماندار انجینئر بنتا ہے۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر صرف اوسط کامیابی حاصل کر سکی، لیکن اس کا موسیقی البم بے حد مقبول ہوا اور اس کے کئی گیت آج بھی سنے جاتے ہیں۔