روس سے تیل خریدنے پر بطور سزا مسودہ ٔقانون سینیٹ میں پیش ، وہائٹ ہاؤس کی حمایت، اگست سے پہلے پاس ہوسکتاہے۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 1:27 PM IST | Washington
روس سے تیل خریدنے پر بطور سزا مسودہ ٔقانون سینیٹ میں پیش ، وہائٹ ہاؤس کی حمایت، اگست سے پہلے پاس ہوسکتاہے۔
روسی تیل خریدنے کی پاداش میں امریکہ میں ہندوستان، چین اور دیگر ۳؍ کمپنیوں پر امریکہ میں ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کی تیاری کی جاری ہے۔اس سلسلے میں منگل کو سینیٹ میں قانون کا مسودہ پیش کیاگیا۔ یہ مسودہ نظرثانی شدہ ہے ۔ پہلے ۵۰۰؍ فیصد ٹیرف کی تجویز تھی جسے گھٹا کر ۱۰۰؍ فیصد کئے جانے کو ہندوستانی میڈیا کے ایک بڑے طبقہ نے حیرت انگیز طور پر بطور راحت پیش کیا ہے۔
کن ۵؍ ممالک پر ٹیرف کی تجویز ہے
خبر رساں ادارے رائٹرس کے مطابق پہلے تجویز کردہ۵۰۰؍ فیصد یکساں ٹیرف کو کم کرکے زیادہ سے زیادہ۱۰۰؍ فیصد کر دیا گیا ہے، جو صرف روسی خام تیل کے پانچ بڑے خریدار ممالک پر لاگو ہوگا۔ یہ ممالک چین ، ہندوستان ، سلوواکیہ ، ہنگری اور آذربائیجان ہیں۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹروں کی حمایت یافتہ اس۲؍جماعتی بل کا مقصد روسی حکام، مالیاتی اداروں اور توانائی کے منصوبوں پر پابندیاں عائد کرکے ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹاٹا گروپ مسلسل ۱۸؍ویں سال ملک کا سب سے قیمتی برانڈ
وہائٹ ہاؤس کی حمایت
قانون کے اس نظرثانی شدہ مسودے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کئی ماہ کی بات چیت کے بعد تیار کیا گیا۔اس طرح اسے وہائٹ ہاؤس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اس بل کو آگے بڑھانے کی حمایت کی تھی۔ یہ بل پہلی بار اپریل۲۵ء میں جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور کنیکٹی کٹ کے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے پیش کیا تھا۔لنڈسے گراہم جو کٹر اسرائیل حامی سنیٹر تھے، سنیچر کو اچانک انتقال کر گئے۔
قانون میں کچھ ممالک کو استثنیٰ
پہلے اس مسودہ قانون میں اُن تمام ممالک پر جو روس سے تیل یا قدرتی گیس خریدتے ہیں، ۵۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز تھی مگر اب اسے صرف ۵؍ بڑے ممالک ( چین ، ہندوستان ، سلوواکیہ ، ہنگری اور آذربائیجان) تک محدود کر دیا گیا ہے۔ روسی قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان میں فرانس، جاپان اور بلجیم بھی شامل ہیں۔نئے بل میں ان ممالک کیلئے استثنیٰ بھی رکھا گیا ہے جو روس کی قدرتی گیس کی مجموعی برآمدات کا۱۵؍فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اس میں بھی کمی کیلئے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔ اس شق کے تحت جاپان، فرانس، ہنگری اور بلجیم کو استثنیٰ مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روسی تیل پر امریکی ٹیرف میں نرمی، ہندوستان او رچین کو بڑی راحت
بل میں روس کے ان ٹینکروں کے بیڑے پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے جو مغربی سمندری خدمات سے باہر کام کرتے ہیں، نیز روسی مرکزی بینک، دیگر مالیاتی اداروں اور یامال ایل این جی، آرکٹک ایل این جی۱،۲، اور۳؍ جیسے سرکاری توانائی منصوبوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔نظرثانی شدہ مسودے میں امریکی صدر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر قومی مفاد میں ضروری سمجھا جائے تو وہ ان پابندیوں سے استثنا دے سکتے ہیں۔
اگست تک بل کی منظوری کا امکان
سینیٹ کے معاونین کے مطابق منگل تک اس بل کو پیش کرنے کے تعلق سے ۲۶؍ اراکین کی سرپرستی مل چکی ہے اور مزید اراکین کی حمایت متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ یہ بل بالآخر قانون بن جائے گا۔انہوں نے کہاکہ’’یہ بل لنڈسے گراہم کے اعزاز میں ہے۔ یہ ان کا مشن تھا۔ وہ اسے سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا سوچتے تھے، اور اس بات کا اچھا امکان ہے کہ یہ بل منظور ہو جائے گا۔‘‘