Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: سرکاری اسپتال کی تجویز کردہ ۱۲؍ ادویات میں سے ایک بھی دوا اسپتال سے نہیں ملی

Updated: July 16, 2026, 1:16 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے زیر انتظام شاستری نگر سرکاری اسپتال کی بدانتظامی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے زیر انتظام شاستری نگر سرکاری اسپتال کی بدانتظامی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے سرکاری دعوے اس وقت دم توڑتے نظر آئے جب  ۲؍ سالہ بچے کے علاج کیلئے  ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ ۱۲؍ ضروری ادویات میں سے ایک بھی دوا اسپتال کے سرکاری میڈیکل اسٹور پر دستیاب نہیں تھی۔ نتیجتاً بچے کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت اور مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعہ نے  سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی اور صحت عامہ کے انتظامات پر سنگین سوالات قائم کر دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈومبیولی کے جگدیش راٹھور کا دو سالہ بیٹا ویدانش راٹھور جلد کی بیماری میں مبتلا تھا جس کے جسم پر چٹّے ابھر آئے تھے اور شدید خارش ہو رہی تھی۔ پریشان حال والد اپنے معصوم بچے کو علاج کیلئے میونسپل کارپوریشن کے شاستری نگر اسپتال لےکر پہنچے۔ اسپتال کے ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچے کا ابتدائی معائنہ کرنے کے بعد مختلف اقسام کی کل ۱۲؍ادویات تجویز کیں اور والدین کو تسلی دی کہ یہ تمام ادویات اسپتال کی حدود میں موجود سرکاری میڈیکل اسٹور سے بالکل مفت مل جائیں گی۔ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جب جگدیش راٹھور ادویات کی پرچی لےکر اسپتال کے سرکاری میڈیکل کاؤنٹر پر پہنچے تو انہیں شدید ذہنی صدمے اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹور کے عملے نے پرچی دیکھتے ہی صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ان ۱۲؍دواؤں میں سے ایک بھی دوا اس وقت موجود نہیں۔ عملے نے غریب والد کو مشورہ دیا کہ وہ یہ تمام ادویات باہر کسی نجی میڈیکل اسٹور سے اپنے پیسے سے خرید لیں۔اس چونکا دینے والے واقعہ کے بعد ڈومبیولی کے شہریوں اور سماجی کارکنان میں شدید ناراضگی دیکھی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر میونسپل اسپتالوں میں غریب مریضوں کو خارش اور جلد کی بیماری جیسی عام ادویات بھی دستیاب نہیں ہوں گی تو عام آدمی آخر علاج کے لیے کہاں جائے؟شہریوں کا کہنا ہے کہ جب سرکاری اسپتالوں کا یہ حال ہے اور مریضوں کو مہنگی دوائیں باہر سے ہی خریدنی ہیں تو حکومت کی بڑی ہیلتھ اسکیموں اور مفت علاج کے دعووں کا کیا فائدہ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK