Inquilab Logo Happiest Places to Work

۹۷؍ کروڑ روپے خرچ کئے گئے، ’باہوبلی‘ کی پریکوئل سیریز کیوں منسوخ ہوئی؟

Updated: August 27, 2026, 7:01 PM IST | Mumbai

نیٹ فلکس کی منسوخ شدہ سیریز ’’باہوبلی: بِفور دی بِگننگ‘‘ کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ سینماٹوگرافر مکیش جی کے مطابق سیریز کے دو مکمل سیزنز اور تیسرے سیزن کے کچھ حصے فلمائے جا چکے تھے، جبکہ منصوبے پر تقریباً ۹۷؍ کروڑ روپے خرچ بھی ہو چکے تھے۔ مجموعی طور پر ۲۷۰؍ کروڑ روپے کے بجٹ والی اس سیریز کو نیٹ فلکس میں قیادت کی تبدیلی کے بعد نئی کاسٹ اور تخلیقی تبدیلیوں کی تجاویز کے باعث بالآخر منسوخ کر دیا گیا۔

Bahubali: Before the Beginning. Photo: INN
باہوبلی: بفور دی بگننگ۔ تصویر: آئی این این

سینماٹوگرافر مکیش جی نے انکشاف کیا ہے کہ نیٹ فلکس کی منسوخ شدہ سیریز ’’باہوبلی: بِفور دی بِگننگ‘‘ کے دو مکمل سیزن اور تیسرے سیزن کے کچھ حصے فلمائے جا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق سیریز پر تقریباً ۹۷؍ کروڑ روپے خرچ ہو چکے تھے، جبکہ اس کے لیے مجموعی طور پر ۲۷۰؍ کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا تھا۔ ’وَرائٹی انڈیا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مکیش جی نے بتایا کہ انہوں نے اس سیریز میں تقریباً ۱۸؍ ماہ تک پرنسپل ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی کے طور پر کام کیا۔ یہ سیریز ایس ایس راجامولی کی مشہور ’’باہوبلی‘‘ فلموں کا پریکوئل تھی۔ منصوبہ منسوخ ہونے کے وقت تقریباً ۶۰؍ سے ۷۰؍ دن کی شوٹنگ باقی تھی۔ مکیش نے کہا کہ اس منصوبے کے اچانک رک جانے کا ان پر گہرا اثر پڑا اور وہ تقریباً چھ ماہ تک ڈپریشن میں رہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ایک ہی دن میں منسوخ نہیں ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا، جسے قبول کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ انہوں نے اسے اپنے کیریئر کے انتہائی اہم منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ آج بھی ان کے لیے انتہائی افسوس ناک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یش کی ’ٹاکسک‘ نے باکس آفس پر مچایا دھوم، ہندوستان میں ۱۰۱؍ کروڑ روپے کی اوپننگ

نیٹ فلکس نے ۲۰۱۸ء میں سیریز ’’باہوبلی: بِفور دی بِگننگ‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ یہ سیریز فلم ’’باہوبلی‘‘ کی کہانی کے اہم کردار شیوگامی کے عروج پر مبنی تھی۔ سیریز میں مرونال ٹھاکر شیوگامی کا کردار ادا کر رہی تھیں اور وہ کئی ماہ تک اس کے لیے شوٹنگ بھی کر چکی تھیں۔ مکیش جی کے مطابق ابتدائی طور پر نیٹ فلکس کی سابق قیادت کے دور میں منصوبہ معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا تھا اور ایس ایس راجامولی بھی تیار کیے گئے مواد سے مطمئن تھے۔ تاہم نیٹ فلکس میں قیادت تبدیل ہونے کے بعد نئی انتظامیہ نے کئی بڑی تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان میں پہلے سیزن میں مزید ایکشن شامل کرنا اور مرکزی اداکارہ کو تبدیل کرنا بھی شامل تھا، کیونکہ نئی انتظامیہ مرونال ٹھاکر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھی۔ مکیش نے کہا کہ ایس ایس راجامولی خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے اور وہ بھی تیار شدہ مواد سے خوش تھے۔ ان کے مطابق اگر کسی قسم کے خدشات یا اعتراضات تھے تو انہیں منظوری دیے جانے سے پہلے ہی سامنے آ جانا چاہیے تھا۔ مکیش کے مطابق نیٹ فلکس نے منصوبہ چھوڑنے کے بجائے مزید ۷۰؍ کروڑ روپے دے کر نئی کاسٹ کے ساتھ سیریز دوبارہ شوٹ کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ تاہم پروڈیوسرز دیوا کٹا اور پروین سٹارو کے لیے معاملہ صرف پیسے کا نہیں تھا بلکہ ۱۸؍ ماہ کی محنت اور وقت بھی اس میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’ ’مونسٹر‘‘ کو سلمان خان کی واپسی والی فلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

اس دوران مرونال ٹھاکر کے کیریئر میں بھی نمایاں ترقی ہوئی اور وہ اس وقت کے مقابلے میں کہیں بڑی اسٹار بن چکی تھیں جب انہوں نے شیوگامی کا کردار قبول کیا تھا۔ اس لیے نئی کاسٹ کے ساتھ پورے منصوبے کو دوبارہ شروع کرنا عملی اور مالی اعتبار سے بھی پیچیدہ ہو گیا۔ مکیش نے بتایا کہ مرکزی اداکاروں کو تبدیل کرنے کا مطلب ۱۸؍ ماہ کی مکمل شوٹنگ ضائع کرنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیریز کے کئی اداکاروں نے اپنے کرداروں کے لیے طویل عرصے تک جسمانی تبدیلیاں اختیار کی تھیں، جن میں سر منڈوانا یا لمبی داڑھی رکھنا شامل تھا۔ منصوبہ منسوخ ہونے کے بعد اداکار دیگر کاموں میں مصروف ہوگئے اور اسی کاسٹ کو دوبارہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں رہا۔ مکیش جی نے کہا کہ چند سال تک انہیں امید تھی کہ نیٹ فلکس اس منصوبے کو دوبارہ شروع کر سکتا ہے، لیکن اب انہیں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق سیریز میں مہاراشٹرا کے چند بزرگ اداکاروں نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے، جو اب دنیا میں نہیں رہے۔ ان حالات میں منصوبے کو اسی شکل میں دوبارہ زندہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK