Updated: August 27, 2026, 7:01 PM IST
| Tehran
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنی سرزمین کو کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا دفاع کرنے کا مطلب پڑوسی ممالک کے خلاف دشمنی نہیں ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر: آئی این این
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں۴۰؍ ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کانفرنس کے دوران ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشریاتی خطاب میں کہا کہ مسلم ممالک کو اپنی سرزمینوں کو دوسری مسلم قوموں کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا، ’’ایران کا دفاع کرنے کا مطلب مسلم قوموں یا پڑوسی ممالک کے خلاف دشمنی نہیں ہے۔‘‘صدر نے امریکہ کے ساتھ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنے پڑوسیوں کے عدم تحفظ کے ذریعے اپنی سلامتی نہیں تلاش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن مکمل ذمہ داری قبول کرے: ایران کا امریکی پابندیوں پر ہرجانے کا مطالبہ
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں تب ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جب حملے شروع ہوئے، جن میں ایرانی کمانڈرز، افسران، سائنسدان، طلباء، اسکول کے بچے اور شہری مارے گئے، نیز شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ایران - امریکہ مذاکرات اسی مہینے دوبارہ شروع ہوئے تھے تاکہ سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
بعد ازاں ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق،۴۰؍ ممالک (جن میں عراق، پاکستان، ترکی، لبنان اور افغانستان شامل ہیں) سے تقریباً۶۰۰؍ گھریلو اور بین الاقوامی مہمان اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔یہ کانفرنس اتوار تک جاری رہے گی، جس میں تہران، قم اور مشہدمیں پروگرام ہوں گے، نیز مغربی آذربائیجان، کردستان ،گلستان اور رضوی خراسان صوبوں میں چار خصوصی اجلاس منعقد ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں عارضی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان اتفاق
واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان حالیہ امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے کئے حملوں کے پس منظر میں تھا، جو خطے میں واقع دیگر اسلامی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے کئے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس بیان کے ذریعے وہ اسلامی ممالک پر ایران کے ذریعے کئے گئے حملوں کو جواز بھی فراہم کررہے تھے۔