Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر خالد، شرجیل امام کی ضمانت کیلئے اپیل عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش: دہلی پولیس

Updated: August 27, 2026, 6:32 PM IST | New Delhi

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں دائر ضمانت کی درخواستیں ’غیر قانونی‘ اور ’عدالت کو گمراہ کرنے والی‘ ہیں۔ پولیس نے دونوں طلباء کارکنوں کو فسادات کا ’ماسٹر مائنڈ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مسلسل حراست کا دفاع کیا ہے، جبکہ اس مقدمے میں ان کے خلاف ٹرائل ابھی شروع ہونا باقی ہے۔

Sharjeel Imam and Umar Khalid. Photo: INN
شرجیل امام اور عمر خالد۔ تصویر: آئی این این

بار اور بنچ کے مطابق، دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی طرف سے ۲۰۲۰ء کے فسادات کی سازش کے معاملے میں دائر ضمانت کی درخواستیں ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’عدالت کو گمراہ کرنے والی‘‘ ہیں۔ لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، پو لیس نے اپنے الزامات کو بھی دہرایا کہ خالد اور امام فسادات کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ تھے۔ فروری ۲۰۲۰؍ میں شمال مشرقی دہلی میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کے مخالفین کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں جنوری اور ستمبر ۲۰۲۰؍ کے درمیان خالد، امام اور کئی دیگرطلباء کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تشدد میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ اس معاملے میں ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ، عوامی املاک کو نقصان کی روک تھام ایکٹ، اسلحہ ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تشدد مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا اور اس کی منصوبہ بندی ان لوگوں نے کی تھی جنہوں نے ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا انعقاد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حقوقِ نسواں کی کارکن اور PARI کی شریک بانی سونیا گِل کا۷۰؍ برس کی عمر میں انتقال

واضح ہو کہ خالد اور امام کے خلاف ٹرائل شروع ہونا ابھی باقی ہے۔ طلباء کارکنوں کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں کا یہ تیسرا دور ہے۔ پہلے دو موقعوں پر جب انہوں نے ضمانت حاصل کرنے کی درخواست کی تو سپریم کورٹ نے ان کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ لائیو لاء کے مطابق جنوری میں سپریم کورٹ کے ذریعےخارج کی گئی ضمانت کی درخواستوں کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے، پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ حکم کے مطابق، تمام ملزمان کے ’’خطرے کی پروفائلز‘‘، ’’نمایاں طور پر مختلف‘‘ ہیں، جو طلباء کارکنوں کی مسلسل قید کا جواز پیش کرتی ہیں۔ ۵؍ جنوری کو جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے دہلی فسادات معالے میں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دی تھی۔ بنچ نے کہا تھا کہ خالد اور امام تمام محفوظ گواہوں کی جانچ کے بعد یا ایک سال کے بعد نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات میں تاخیر قانونی تحفظات کو زیر کرنے والے ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: عدالتیں جبر کا مرکز بن گئیں تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہوجائیگا: جسٹس مرلی دھر

بار اور بنچ کی خبر کے مطابق، پو لیس نے ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ حد ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے۔ دونوں طلباء کارکنوں کی درخواستیں سپریم کورٹ کے مئی میں دیئے گئے فیصلے پر منحصر ہیں، جبکہ پولیس نے کہا کہ ایک مختلف کیس میں کوآرڈینیٹ بنچ کا فیصلہ جنوری میں جاری کردہ ہدایات کو ختم نہیں کر سکتا۔ ۱۸؍ مئی کو، جسٹس بی وی ناگارتھنا اور اُجل بھویان کی سپریم کورٹ بنچ نے جنوری کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات میں بھی ’’ضمانت ایک اصول ہے اور جیل ایک استثناء ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK