• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریش پوری کی اداکاری کے مداحوں میں اندرا گاندھی اور اٹل بہاری بھی شامل تھے

Updated: October 18, 2026, 2:25 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

انہوں نے ۶۰؍ سے زیادہ ڈراموں میں کام کیا، جن میں ایک ڈرامے ’آدھے ادھورے‘ میں ۵؍ کردار ادا کیے تھے۔ انہیں ۱۹۷۹ء میں سنگیت ناٹک اکادمی کی طرف سے بہترین اداکاری کیلئے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا،۴۰؍ سال کی عمر میں فلموں میں آئے تو وہاں بھی چھا گئے۔

Amrish Puri’s portrayal of Mogambo in the film `Mr. India` proved to be a milestone in his career. Photo: INN
فلم ’مسٹر انڈیا‘ میںامریش پوری کا موگیمبو کا کردار ان کے کریئر کیلئے سنگِ میل ثابت ہوا ۔ تصویر: آئی این این

صوبہ پنجاب کے نواں شہر میں لالہ نہال سنگھ کے یہاں ۲۲؍جون ۱۹۳۲ء کو امریش پوری کا جنم ہوا تھا۔ امریش پوری کی والدہ کا نام وید کور تھا۔ امریش پوری کے چار اور بھائی بہن تھے، جن کے نام چمن پوری، مدن پوری، بڑی بہن چندرکانتا اور اُن کے چھوٹے بھائی ہریش پوری ہیں۔ اُن کے دو بڑے بھائی، چمن پوری اور مدن پوری بھی فلموں میں اداکاری کرتے تھے۔مشہور گلوکار کے ایل سہگل ان کے چچیرے بھائی تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم پنجاب سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے شملہ چلے گئے، جہاں انہوں نے بی ایم کالج سے گریجویشن مکمل کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے  انہیں تھیٹر سے محبت تھی، یہی وجہ تھی کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی  وہ تھیٹر سے جڑ گئے۔۱۹۵۷ء میں ان کی شادی اُرملا دِویکر سے ہوئی۔ فلموں میں آنے سے پہلے وہ کرمچاری راجیہ بیمہ نگم میں ملازمت کرتے تھے جہاںاُن کی ملاقات اُرملا دِویکر سے ہوئی اور رفتہ رفتہ یہ دوستی پیار میں اور پھر شادی میں تبدیل ہو گئی۔
۱۹۶۱ء میں امریش پوری کی ملاقات پدم وِبھوشن انعام یافتہ ہدایت کار ابراہیم القاضی سے ہوئی۔ اس ملاقات نے ان کی زندگی کا رُخ ہی بدل دیا۔ابراہیم القاضی سے ملاقات کے بعد انہیں باقاعدہ ڈراموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ستیہ دیو دوبے اور گریش کرناڈ کے لکھے ڈراموں میں بھی اداکاری کی اور اپنی پہچان بنائی۔ رفتہ رفتہ  امریش پوری ڈراموں کی دُنیا کے ایک مشہور اداکار بن گئے۔ انہوں نے تقریباً ۶۰؍ سے زیادہ  ڈراموں میں کام کیا، جن میں ایک ڈرامے ’آدھے ادھورے‘ میں ۵؍ کردار ادا کیے تھے۔ امریش پوری کی خوش بختی کا ایک دَور ایسا بھی آیا کہ اُن کی اداکاری کی تعریف سن کر آنجہانی اندرا گاندھی اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جیسی مشہور شخصیات بھی امریش پوری کے ڈرامے دیکھنے جاتے تھے۔
۴۰؍برس کی عمر میں انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کی شروعات ۱۹۷۰ء میں ریلیز ہوئی فلم ’پریم پجاری‘ سے کی تھی۔ فلمساز و ہدایت کار دیوآنند کی اس فلم میں مرکزی کرداروں میں دیوآنند، وحیدہ رحمان، اشوک کمار، شتروگھن سنہا، اور مدن پوری وغیرہ تھے۔ اس کے بعد کچھ اور فلموں میں انہوں نے کام کیا، مگر کوئی خاص کامیابی اُن کے حصے میں نہیں آئی۔ان کے دوبھائی، مدن پوری اور چمن پوری پہلے ہی سے فلموںمیں تھے۔ فلم انڈسٹری میں ان دونوں کے تعلقات کی وجہ سے ہی امریش پوری کو بھی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ملنے شروع ہو گئے مگر جب بھی امریش پوری کسی فلمساز یا ہدایت کار کے پاس کام مانگنے جاتے تھے، تو اُن کو دیکھتے ہی فلمساز کہا کرتے تھے کہ اُن کا چہرہ ہیرو جیسا نہیں لگتا ہے۔ یہ سن کروہ مایوس ہو جاتے تھے۔ حالانکہ بعد میں اُنہیں ہیرو تو نہیں مگر ویلن کے کردار ملنے شروع ہو گئے، جن کو اُنہوں نے اس خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا کہ آگے چل کر وہ کامیاب ولین ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: اوم پوری اچھے اداکار کےساتھ بہترین انسان اور لوگوں کی پسندیدہ شخصیت بھی تھے

۱۹۸۰ء میں انہوں نے فلم ’ہم پانچ‘ میں اداکاری کی۔ اس فلم کے پروڈیوسر بونی کپور تھے اور سنجیو کمار، شبانہ اعظمی، متھن چکرورتی، نصیر الدین شاہ اور راج ببر وغیرہ نے اس میں مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم باکس آفس پر سُپر ہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم میں امریش پوری نے ویر پرتاپ سنگھ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کردار کو کرنے کے بعدانہیں تھوڑی بہت شہرت مل گئی تھی۔ اس کے بعد اِسی سال امریش پوری کو فلم ’دوستانہ‘ میں بلونت سنگھ کے کردار میں بھی دیکھا گیا۔ رائٹر جوڑی سلیم جاوید کی کہانی پر بنی فلم ’دوستانہ‘ کے ہدایت کار راج کھوسلہ تھے اور یہ فلم باکس آفس پر  زبردست کامیاب رہی تھی۔
اس کے بعد۱۹۸۱ء میں ریلیز ہوئی فلمساز ششی کپور و ہدایتکار شیام بینیگل کی فلم ’کل یگ‘ میں امریش پوری نے کشن چند نام کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کو تین فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوئے، بہترین فلم، بہترین معاون اداکار اوربہترینسائونڈ ڈیزائن.... اس طرح بڑے بینر کی فلمیں کرتے ہوئے  ان کی شہرت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 
منموہن دیسائی کی فلم ’نصیب‘ ۱۹۸۱ء میں ناظرین کیلئے پیش کی گئی، جس میں انہوں نے ڈان کا کردار کیا تھا۔۱۹۸۲ء میں پہلی بار ایک انگریزی فلم’گاندھی‘ میں بھی انہوں نےایک رول ادا کیا۔۸۰ء کی دہائی میں امریش پوری اداکاری کی دُنیا میں ایک بڑا نام بن چکا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں شیکھر کپور کی ہدایت میں پردے پر پیش کی گئی فلم ’مسٹر انڈیا‘ امریش پوری کے کریئر کا سنگِ میل ثابت ہوا اور اس فلم کو کرنے کے بعد وہ بام عروج پر پہنچ گئے۔ انل کپور، شری دیوی، انو کپور، اشوک کمار، اور ستیش کوشک کی اداکاری سے سجی یہ فلم ۱۹۸۷ء کی کامیاب ترین فلم تھی۔ اس فلم میں موگیمبو کے کردار میں امریش پوری کو خوب شہرت حاصل ہوئی۔ فلم ’شعلے‘ کے گبر سنگھ کے بعد اگر کسی ویلن کو شہرت ملی، تو وہ’مسٹر انڈیا‘ کا موگیمبو تھا۔ فلم کے ریلیز ہونے کے بعد اس فلم کا مشہور ڈائیلاگ ’موگیمبو خوش ہوا‘ ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ گیا تھا۔
ویلن کے طور پر جتنی شہرت امریش پوری نے حاصل کی، اُتنی ہی مقبولیت انہوں نے مثبت کردار ادا کرکے بھی حاصل کی۔ فلم ’مسٹر انڈیا‘ سے لے کر ’دل والے دلہنیاں لے جائیں گے‘ کے بائوجی کے کردار تک امریش پوری نے عوام و خواص کے دلوں میں اپنی غیرمعمولی شناخت قائم کی ہے۔ جب بھی کوئی عام آدمی بہت خوش ہوتا ہے، تو امریش پوری کا مشہور ڈائیلاگ ’موگیمبو خوش ہوا‘ اُس کی زبان پر آجاتا ہے۔
انہوں نے ’نشانت (۱۹۷۵ء)، گاندھی (۱۹۸۲ء)، قلی (۱۹۸۳ء)، نگینہ (۱۹۸۶ء)، رام لکھن (۱۹۸۹ء)، تری دیو (۱۹۸۹ء)، پھول اور کانٹے (۱۹۹۱ء)، وِشواتما (۱۹۹۲ء)، دامنی (۱۹۹۳ء)، کرن ارجن (۱۹۹۵ء) اور کوئلہ (۱۹۹۷ء)‘ جیسی کئی بڑی اور مقبول فلموں میں کام کیا اور ہر فلم میں اُن کا کام، گزشتہ فلم سے بہتر ہی ہوتا تھا۔ انہوں نے ہندی کے علاوہ کنڑ، ملیالم، پنجابی، تیلگو اور تمل فلموں میں بھی کام کیا۔
امریش پوری کے اندر ایسی فنکارانہ مہارت تھی کہ وہ جو کردار بھی کرتے تھے، اُس میں جان ڈال دیتے تھے۔ اگر ناظرین نے اُنہیں ’مسٹر انڈیا‘ کے موگیمبو کے کردار میں دیکھ کر نفرت کی تھی، تو وہیں دُوسری طرف امریش پوری نے فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ میں سمرن کے باپ کے کردار سے سب کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔  کہا جاتا ہے کہ ایک  دور تھا جب امریش پوری ہیرو سے زیادہ معاوضہ لیتے تھے۔ ’ناگن (۱۹۸۶ء)‘ میں تانترک بابا کا خطرناک چہرے والا کردار آج بھی فلم بینوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔
 پردہ سیمیں کے برعکس حقیقی زندگی میں وہ بہترین، سادگی اور اصول پسند انسان تھے۔ ۳۰؍برس سے زیادہ عرصے تک فلمی دُنیا میں کام کرتے ہوئے انہوں نے ۴۰۰؍ سے زائد فلموں میں  اداکاری کی۔فلموں کیلئے وہ جس طرح گیٹ اَپ اختیار کرتے تھے، وہ اَب تک کوئی نہیں کر پایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گرودت کی فلمیں حقیقت سے قریب ہوا کرتی تھیں

امریش پوری کو بہترین اداکاری کی وجہ سےکئی اہم  انعامات و اعزازات سے نوازا گیا ہے۔  ۱۹۷۹ء میں اسٹیج پر بہترین اداکاری کی وجہ سے سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ۱۹۸۶ء میں فلم ’میری جنگ‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر کا ایوارڈ پیش کیا گیا۔ ۱۹۹۴ء میں سڈنی فلم فیسٹیول اور سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم ’سورج کا ساتواں گھوڑا‘ میں بہترین اداکار کا اعزاز  دیاگیا تھا۔ ۱۹۹۷ء میں فلم ’گھاتک‘  اور ۱۹۹۸ء میں فلم’وراثت‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کے فلم فیئرایوارڈ بھی امریش پوری نے حاصل کئے۔
۱۲؍جنوری ۲۰۰۵ء کو وہ اس دنیا سے چل بسے۔ اُن کےانتقال سے صرف بالی ووڈ نہیںپورا ملک غمزدہ ہو گیا۔
عامرخان سے پہلا سابقہ
ہدایتکار ناصر حسین کی فلم ’زبردست‘ میں امریش پوری  کام کر رہے تھے۔  عامر خان اپنے چاچا ناصر کے ساتھ بطور معاون ہدایتکار وابستہ تھے۔ اُس وقت امریش پوری کو نہیں معلوم تھا کہ عامر اور ناصرکے درمیان کیا رشتہ ہے۔ شوٹنگ کے دَوران عامر خان نے ایک شاٹ کے سلسلے میں امریش پوری کو ٹوک جسے انہوں نے پہلی بار نظرانداز کر دیا لیکن جب دوسری تیسری بارعامرنے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ پچھلے شاٹ میں آپ کا ہاتھ کہیں اور تھا اور اب کہیں اور ہے تو وہ برہم ہوگئے اور عامر کو ڈانٹ دیئے۔ بعد میں ناصرحسین نے بتایا کہ ’’عامر صحیح کہہ رہے تھے،  پہلے کے شاٹ میں آپ کا ہاتھ اِدھر نہیں تھا۔‘‘اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے عمر کا لحاظ کئے بغیر عامر خان سے معافی مانگ لی۔
اسٹیون اسپیل برگ اور امریش پوری
ایک زمانے میں جب فلم ’انڈیانا جونس اینڈ دی ٹیمپل آف ڈومز‘ کیلئے ہالی ووڈ کے مشہور ہدایتکار اسٹیون اسپیل برگ نے امریش پوری کا آڈیشن لینے کیلئے امریکہ بلوایا، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آڈیشن لینا ہے تو خود ہندوستان آئیں۔ بالآخر اسٹیون کو ہی ہندوستان آنا پڑا۔ قیاس تھا کہ  اب وہ سائن نہیں کریں گے مگر اِتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اسٹیون نے اُنہیں اپنی فلم کیلئے منتخب کیا۔ امریش پوری نے فلم ’انڈیانا جونس اینڈ دی ٹیمپل آف ڈومز‘ میں بھولارام نام کے ایک تانترک کا کردار ادا کیا تھا اور پوری دُنیا میں اپنی بہترین اداکاری کا لوہا منوایا تھا۔ اس فلم کے بعد انہیں بین الاقوامی سطح پر ایک بہترین اداکار کے طور پر شہرت حاصل ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK