• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرودت کی فلمیں حقیقت سے قریب ہوا کرتی تھیں

Updated: October 10, 2026, 2:33 PM IST | Agency | New Delhi

ہندوستانی فلمی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوتےہیںجو اپنے فن، اداکاری اور منفرد اندازسے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتےہیں۔ گرو دت بھی ایسے ہی ایک عظیم فنکار تھے، جنہوںنےاپنی اداکاری، ہدایت کاری اور فلم سازی کے ذریعے ہندی سنیما کو نئی پہچان دی۔

Guru Dutt, an outstanding filmmaker and director. Photo: INN
ایک بہترین فلم ساز اور ہدایت کار گرودت۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی فلمی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوتےہیںجو اپنے فن، اداکاری اور منفرد اندازسے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتےہیں۔ گرو دت بھی ایسے ہی ایک عظیم فنکار تھے، جنہوںنےاپنی اداکاری، ہدایت کاری اور فلم سازی کے ذریعے ہندی سنیما کو نئی پہچان دی۔ ان کی فلموں میں محبت، تنہائی، سماجی ناانصافی، غربت اور انسانی جذبات کی ایسی عکاسی ملتی ہے جو آج بھی ناظرین کو متاثر کرتی ہے۔ گرو دت کو ہندی سنیما کے ان فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے جن کا کام اپنے زمانے سے آگے تھا۔

ان کی پیدائش۹؍جولائی ۱۹۲۵ءکو بنگلور میں ہوئی تھی تاہم تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔گرودت ۲۰؍برس کی عمر میں ایک اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے طور پر فلمی دنیا میں داخل ہو چکے تھے۔جہاں انہیںگیان مکرجی اور امیہ چکروتی جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ انھیں دنوں ان کی ملاقات گورنمنٹ کالج لاہور سےتعلیم مکمل کرنے والے  ایک خوبرو نوجوان دیو آنند  سے ہوئی جو فلموں میں اداکار کے طور پر قسمت آزما رہے تھے دونوں میں خاصی دوستی ہوگئی اور پھر دونوں میں ایک دوستانہ معاہدہ ہوا۔طے یہ پایا کہ اگر گرُو دت پہلے ہدایتکار بن جاتے ہیں  تو وہ اپنی پہلی فلم میں دیوآنند کو کام کرنے کا موقع دیں گے اور اگر دیوآنند نے پہلے فلمسازی  کی تو وہ گرودت کا انتخاب ڈائرکٹر کے طور پر کریں گے۔ اس واقعے کے ڈھائی تین برس بعد دیو آنند کے بڑے بھائی نے اپنی فلم کمپنی شروع کرکے پہلی فلم ’بازی‘کا اعلان کیا۔ دیوآنند اس فلم میں ہیرو تھے۔ انھوں نے وعدے کے مطابق ہدایتکاری کے فرائض گرُو دت کے حوالے کردیئے اور یوں دونوں وعدے ایک ساتھ پورے ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں اسٹارلنک: ایلون مسک کی مکیش امبانی پر تنقید تیز

فلموں میں اپنے کیرئر میں اُنہوں نے بطور اداکار کُل ۱۷؍فلموں میں کام کیا اور اُن میں سے۸؍فلمیں انہوں نے خود ڈائریکٹ کیں اور یہی فلمیں اُن کی سب سے بہترین فِلمیں بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’صاحب، بیوی اور غلام‘ اور’چودہویں کا چاند‘شامل ہیںجو انہوں نے خود ڈائریکٹ نہیں کیں۔

گُرو دت کو اُردو سے محبت تھی۔ اُن کی فِلموں میں ایسی اردو شاعری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس کا جنم بمبئی کی فلم انڈسٹری میں ہوا اِور جس کا اثر آج بھی فلم انڈسٹری پر صاف نظر آتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کی اس اردوسے محبت کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ یہ وہ اردو تھی جو خود گرو دت کے جذبات اور حالات سے واقف تھی۔

انہوں نے اپنے زمانے سے بہت آگے کی کہانی پر مبنی فلم مسٹر اینڈ مسز۵۵؍پیش کی جسے آج اتنا وقت گزر جانے کے  بعد بھی دیکھتے ہیں تو وہ بالکل نئی فلم معلوم پڑتی ہے۔ ’آر پار‘اور’مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو‘کا شمار ہندوستان کی یادگار مزاحیہ فلموں  میں کیا جاتا ہے جبکہ ’پیاسا‘اور’کاغذ کے پھول‘نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیما کی دو نہایت ہی اہم فِلمیں مانی جاتی ہیں۔ اِن دو فِلموں میں سے ’پیاسا‘ ایک بہترین فلم تھی جو کافی  مقبول ہوئی۔

۱۹۵۶ءمیں گرودت کی فلم سی آئی ڈی منظرِ عام پر آئی، بازی اور آر پار کی طرح یہ بھی جرم و سزا کی ایک کہانی تھی لیکن اس میں گرُو دت نے وحیدہ رحمان کو متعارف کرایا۔وحیدہ رحمان کے ساتھ انہوں نے کئی یادگار فلمیں بنائیں جو آج بھی مشہور ہیں۔ یہ ہونہار ہدایت کار ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۶۴ءکو اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK