۳۳؍لاکھ روپے کا اسٹاک ضبط، ۱۰؍افراد کیخلاف ایف آئی آر درج۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 1:07 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
۳۳؍لاکھ روپے کا اسٹاک ضبط، ۱۰؍افراد کیخلاف ایف آئی آر درج۔
ایکسپائر ہو چکی (میعاد ختم ہو چکی)، خراب اور آلودہ غذائی اشیاء کو تلف کرنے کے بجائے دوبارہ بازار میں فروخت کرنے کی مبینہ کوشش کا بھیونڈی میں انکشاف ہوا ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی شکایت پر شانتی نگر پولیس نے ۱۰؍افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ۱۴؍اور ۱۵؍اکتوبر کو مختلف دکانوں اور گوداموں میں کارروائی کے دوران ۳۳؍ لاکھ ۷۱؍ہزار روپے سے زائد مالیت کا مشتبہ غذائی اسٹاک سامنے آیا۔
شکایت کے مطابق، مال کی خریداری، نقل و حمل اور اسے تلف کرنے سے متعلق ضروری ریکارڈ دستیاب نہیں تھے۔ ایف ڈی اے کی کارروائی گلزار نگر کے ڈسکاؤنٹ اسٹور سے شروع ہوئی، جہاں ۸۰؍ہزار ۵۷۵؍ روپے مالیت کی ۱۸؍اقسام کی ایکسپائرڈ اور خراب غذائی اشیاء ملیں۔ اس کے بعد چاوندرہ کے گودام سے بھی ۸۶؍ ہزار ۸۲۵؍ روپے مالیت کا مشتبہ اسٹاک ملا۔ کھونی میں بی کے ڈسپوز کے ۲؍ مراکز سے تقریباً ۱۹ء۵۸؍ٹن مال ضبط کیا گیا، جس کی مالیت ۲۶؍ لاکھ۶۰؍ ہزار روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ ان مراکز پر روزانہ ۳؍سے ۵؍ ٹن مال سنبھالا جا رہا تھا، جبکہ اجازت نامے میں گنجائش صرف ایک ٹن درج تھی۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے، کلیان، نوی ممبئی اور اطراف میں ۲۲؍ اکتوبر سے ۳۶؍ گھنٹے پانی بند
بڑی کمپنیوں کے ذمہ داران بھی نامزد
ایف آئی آر میں ریلائنس کنزیومر پروڈکٹس لمیٹڈ کے ڈائریکٹر وی سبرامنیم اور گودام و اسٹاک کے انچارج اشوک کمار سنگھ کے نام شامل ہیں۔ ریلائنس ریٹیل کے وجے بھیکاجی کھرمالے اور نلیش رام داس راؤ دیشمکھ، بلنک اِٹ کے اروندر سنگھ دھِنسا اور دیپک سنگھ، نیز زومیٹو ہائپر پیور کے عابد شیخ کے نام بھی درج ہیں۔ مقامی کاروباری افراد میں بی کے ڈسپوز کے بابر میاں احمد صدیقی، گلزار ٹریڈرس کے گلزار عبدل خان اور ڈسکاؤنٹ اسٹور کے مالک عبدل مبین خان شامل ہیں۔ شکایت میں گرین ارتھ ویسٹ مینجمنٹ سروسز اور ایس کے ٹریڈرس سے وابستہ ذمہ داران کا بھی ذکر ہے، تاہم ان کے نام اور پتے دستیاب نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔
ایف ڈی اے کا الزام ہے کہ ایکسپائری اور آلودہ غذائی اشیاء کو تلف کرنے کے بجائے دوبارہ فروخت کیلئے بھیجنے کی مبینہ کوشش سے صارفین کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ شانتی نگر پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایف آئی آر میں درج الزامات کی تصدیق اور ملزمین کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔