• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وکلاء پر مبینہ مظالم کیخلاف کلیان میں ’سوراج سے آئین تک‘ مارچ

Updated: October 18, 2026, 1:08 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔

Lawyers held a march from Chhatrapati Shivaji Chowk to Dr. Babasaheb Ambedkar Udyan. Photo: INN
وکلاء نےچھترپتی شیواجی چوک سے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اُدیان تک مارچ نکالا۔ تصویر: آئی این این

ملک میں آئینی حقوق اور آزادی اظہار کے تحفظ کو لےکر چہار جانب سے احتجاجی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ دہلی میں وکلاء اور ’جین زی‘ نوجوانوں پر مبینہ مظالم کے خلاف کلیان میں وکلاء نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر ’سوراج سے آئین تک‘ مارچ نکال کر ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو انصاف فراہم کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ سنیچر کو چھترپتی شیواجی چوک سے وکلاء کے مارچ کا آغاز ہوا جو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اُدیان میں واقع ان کے مجسمہ کے قریب پہنچ کرختم ہوا۔ کلیان فوجداری عدالت کی وکلاء تنظیم کے اراکین سمیت کلیان ڈومبیولی کے ترقی پسند اور ہم خیال وکلاء نے بڑی تعداد میں اس مارچ میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: سڑکوں پر پٹاخوں پر پابندی سال بھر تمام تہواروں پرعائد: بامبے ہائی کورٹ

مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے آئینی حقوق، آزادیٔ اظہار اور اختلافِ رائے کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنےوالے شہریوں اور نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مسائل سنے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ وکلاء پر مبینہ مظالم کی روک تھام اور جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس مارچ میں وکلاء تنظیم کے صدر پرکاش جگتاپ، نوین سنگھ اور جئیش وانی سمیت تنظیم کے دیگر عہدیداران اور اراکین شریک ہوئے۔ مارچ کے اختتام پر مظاہرین کی جانب سے اپنے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم تحصیلدار کے دفتر میں پیش کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK