Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہالی ووڈ میں کام کی کمی، اداکار اب طبی تربیت میں ’’مریض‘‘ بن رہے ہیں

Updated: March 07, 2026, 10:16 PM IST | Mumbai

تفریحی صنعت میں کام کے مواقع کم ہونے کے باعث کئی اداکار ایک غیر معمولی پیشہ اختیار کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ اداکار اب میڈیکل اداروں میں ’’ مریض‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں، جہاں وہ مستقبل کے ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے مریضوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو طبی تعلیم میں ایک مؤثر تربیتی نظام سمجھا جاتا ہے اور اسے ڈاکٹروں کی عملی مہارتوں کے جائزے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

تفریحی دنیا میں اداکاری کو اکثر شہرت، دولت اور گلیمر سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس شعبے میں مستقل کام حاصل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ایسے اداکار جو ابھی بڑی شہرت حاصل نہیں کر سکے، انہیں روزگار کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جب ہالی ووڈ میں اداکاری کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں تو بعض اداکار طبی اداروں میں ’’معیاری مریض‘‘ (Standardized Patient) کے طور پر کام کرنے لگے ہیں۔ اس رجحان کا ذکر امریکی تفریحی جریدے ورائٹی نے اپنی رپورٹ میں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: خاتون مداح نے سیکڑوں سوڈا کین سے شاہ رخ خان کا پورٹریٹ بنایا

معیاری مریض کیا ہوتے ہیں؟
معیاری مریض دراصل ایسے افراد ہوتے ہیں جو طبی طلبہ یا ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے مریضوں کے کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار میڈیکل اسکولوں اور اسپتالوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو حقیقی مریضوں جیسے حالات میں تربیت دی جا سکے۔ ان کرداروں کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ مستقبل کے ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ کیسے گفتگو کرتے ہیں، ان کی علامات کو کس طرح سمجھتے ہیں اور حساس طبی حالات میں کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
اس پروگرام کی ایک منتظم فرینی باوارو نے بتایا کہ ان کے زیر انتظام تقریباً ۴۰؍ معیاری مریضوں میں سے ۳۰؍ پیشہ ور اداکار ہیں۔ ان کے مطابق یہ پروگرام طبی پیشہ ور افراد کو پیچیدہ اور حساس طبی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت فراہم کرتا ہے، جو ڈاکٹر بننے کے عمل کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

طبی تعلیم میں اہمیت
طبی تحقیق کے مطابق یہ طریقہ کار جدید طبی تعلیم میں اہم مقام رکھتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ’’معیاری مریض اب ڈاکٹروں اور دیگر صحت کے پیشہ ور افراد کی صلاحیت اور ان کے عملی معیار کو جانچنے کے لیے سونے کا معیار بن چکے ہیں۔‘‘ 

اداکار اس پیشے کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟
تفریحی صنعت میں کام کی غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سے اداکار متبادل روزگار کے طور پر اس پیشے کو اختیار کر رہے ہیں۔ اسٹیج اداکار ٹام اسکیرا نے بتایا کہ براڈوے جیسے پلیٹ فارمز پر بھی اداکاروں کو مسلسل کام نہیں ملتا۔ ان کے مطابق ایک اسٹیج اداکار عام طور پر تقریباً چار سال کسی شو میں کام کر سکتا ہے، لیکن اس کے بعد کئی ماہ تک بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آمدنی اور کام کی نوعیت
معیاری مریض کے طور پر کام کرنے والے افراد کو نیویارک جیسے شہروں میں عموماً ۲۵؍ سے ۳۰؍ ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ یہ رقم بعض اوقات ریٹیل، مہمان نوازی یا ذاتی خدمات کے شعبوں میں ابتدائی سطح کی ملازمتوں سے زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کئی اداکار اس پیشے کو اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رجنی کانت کی فلم ’’جیلر ۲‘‘ میں شاہ رخ خان کے ممکنہ کیمیو کی خبر سے جوش

کردار کی تیاری
معیاری مریض بننے والے اداکاروں کو ہر سیشن سے پہلے مریض کی ایک مختصر طبی تاریخ دی جاتی ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر وہ اپنی اداکاری تیار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے کردار مکمل طور پر اسکرپٹ شدہ نہیں ہوتے، تاہم انہیں صورتحال کے مطابق فوری ردعمل دینا ہوتا ہے تاکہ طبی طلبہ کو حقیقت سے قریب تر تجربہ مل سکے۔ کچھ پیچیدہ کرداروں کے لیے اداکاروں کو ہفتوں تک تحقیق اور تربیت بھی کرنی پڑتی ہے، مثال کے طور پر اگر انہیں شیزوفرینیا جیسے نفسیاتی مریض کا کردار ادا کرنا ہو۔ بعض اوقات میک اپ اور ہیئر ٹیم بھی استعمال کی جاتی ہے تاکہ مریض کی حالت کو زیادہ حقیقت کے قریب دکھایا جا سکے، خاص طور پر صدمے یا شدید بیماریوں کے کیسز میں۔

ایک غیر معمولی مگر اہم کردار
ماہرین کے مطابق یہ نظام طبی تعلیم میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے طلبہ کو محفوظ ماحول میں عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح اداکار نہ صرف اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے ڈاکٹروں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK