ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق اس سال سونے کے سکوں، بسکٹ اور گولڈ ای ٹی ایف کی مانگ بہت تیزی سےبڑھی ہے۔
سونے کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
رواں سال ۳۱؍ مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں ملک کےصرافہ بازار میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اوریہ پہلا موقع ہے جب سونے کی سرمایہ کاری کی طلب نے زیورات سازی کے لئے سونے کی خریداری کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق اس سال کی پہلی سہ ماہی میں سونے کے سکوں، بسکٹ اور ایکسچینج ٹریڈیڈ فنڈز میں زبردست دلچسپی کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لیے پیلی دھات کی خریداری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ دوسری جانب زیورات کی طلب میں گراوٹ دیکھی گئی۔ سونے کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے صرافہ کی طلب متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سہ ماہی میں سرمایہ کاری کی طلب سال بہ سال ۵۲؍ فیصد بڑھ کر۸۲؍ ٹن ہوگئی جبکہ زیورات کی کھپت ۱۹؍فیصد کم ہو کر ۶۶؍ٹن رہ گئی ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں سونے کی طلب میں ۱۰ء۲؍ فیصد اضافہ ہوا اور یہ ۱۵۱؍ ٹن تک پہنچ گئی۔ ڈبلیو جی سی کا خیال ہے کہ آنے والی سہ ماہی میں اس رجحان میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے کیوں کہ خردہ اور مالیاتی سرمایہ کار دونوں ہی اس قیمتی دھات میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔
مارچ کی سہ ماہی میں سونے کی کل کھپت میں سرمایہ کاری کا حصہ ۵۴؍فیصد رہا جو کہ روایتی رجحان سے بالکل مختلف ہے، جہاں یہ عام طور پر مجموعی طلب کا تقریباً ایک چوتھائی ہوتا تھا۔ مقامی بازار میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ایک طرف سرمایہ کاری کی طلب کو رفتار دی ہے تو دوسری طرف اسی وجہ سے زیورات کی طلب میں کمی آئی ہے۔ پیلی دھات کی قیمت ۲۰۲۵ء کے آغاز سے اب تک تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ گولڈ ای ٹی ایف اس تبدیلی کی بڑی وجہ بن کر ابھرا ہے۔ اس میں سرمایہ کاری سال بہ سال ۱۸۶؍ فیصد بڑھ کر مارچ کی سہ ماہی میں ریکارڈ ۲۰؍ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔