امریکی خفیہ اداروں کی انٹیلی جنس رپورٹ ،اسکے برعکس امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا بحری بیڑہ ختم ہوگیا اورتما م جہاز تباہ ہوگئے۔
دارالحکومت تہران میں ایران کی فوجی نمائش کے موقع کی تصویر۔تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا مکمل بحری بیڑا تباہ کر دیا گیا ہے اور تہران اب اپنی بحری اور فضائی قوت سے محروم ہو چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا، ایران کے بحری بیڑے میں۱۵۹؍ جہاز تھے، لیکن اب ان میں سے ہر ایک سمندر کی تہہ میں پڑا ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایرانی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور تہران اپنی فضائیہ سے بھی محروم ہو چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ بحال کر لیا ہے، جس میں لانچنگ سائٹس اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے۔ یہ تفصیلات نیویارک ٹائمز نے شائع کی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی تزویراتی عسکری صلاحیتوں کے ایک بڑے حصے کو محفوظ رکھا ہے۔
ادھر امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگان جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے ہیوی ہیمرنامی آپریشن دوبارہ فعال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کی ناکامی اور حالیہ امریکی تجاویز کو ایران کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد دوبارہ عسکری دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرے، بصورت دیگر ناکامی کا سامنا کرے گا۔ قالیباف کا بیان ٹرمپ کے اُس تبصرے کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ جنگ بندی اب آئی سی یو میں پہنچ چکی ہے، یعنی اس کے خاتمے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے ممکنہ تصادم کی تیاری کے لیے دارالحکومت تہران میں فوجی مشقیں بھی کی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ۸؍ اپریل سے نافذ جنگ بندی اب اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ادھر پینٹاگان کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر اب تک تقریباً۲۹؍ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی کانگریس میں اس تنازع اور اس کے مالی و عسکری اثرات پر ٹرمپ انتظامیہ کو بڑھتی ہوئی تنقید اور چھان بین کا سامنا ہے۔
ایران جنگ کی کوریج پر ٹرمپ امریکی میڈیا پر برہم
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ سے متعلق خبروں کی کوریج پر امریکی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بعض رپورٹس کو عملی غداری قرار دے دیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسی رپورٹس، جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تہران عسکری طور پر واشنگٹن کے مقابلے میں اچھی پوزیشن میں ہے، دراصل دشمن کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا، یہ لوگ دشمن کی مدد اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔ اس کا واحد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایران کو جھوٹی امید ملتی ہے، حالانکہ ایسی کوئی امید ہونی ہی نہیں چاہیے۔ ٹرمپ نے میڈیا اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، صرف ہارے ہوئے لوگ، ناشکرے اور احمق ہی امریکہ کے خلاف کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی حالیہ دنوں میں جنگ کی تنقیدی کوریج پر مختلف امریکی میڈیا اداروں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران سی این این نے نامعلوم حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ذاتی طور پر امریکی محکمۂ انصاف پر زور دیا کہ جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو سمن جاری کیے جائیں تاکہ ان کے ذرائع تک رسائی حاصل کی جا سکے۔