Inquilab Logo Happiest Places to Work

عامر خان نے’ ’ٹھگس آف ہندوستان‘‘ کا موازنہ ’شعلے‘ سے کیا

Updated: May 19, 2026, 3:04 PM IST | Mumbai

عامر خان کو اکثر پرفیکشنسٹ کہا جاتا ہے، لیکن اداکار کو بھی باکس آفس پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بعض اوقات اُن کے فلمی انتخاب بھی غلط ثابت ہوئے۔

Aamir Khan. Photo: INN
عامر خان۔ تصویر: آئی این این

عامر خان کو اکثر پرفیکشنسٹ کہا جاتا ہے، لیکن اداکار کو بھی باکس آفس پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بعض اوقات اُن کے فلمی انتخاب بھی غلط ثابت ہوئے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں عامر خان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وہ فلموں کا انتخاب کیسے کرتے ہیں اور کہا کہ اُن کے لیے کہانی ہمیشہ اُن کے کردار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
عامر نے وِسلنگ ووڈز میں اسکرین کے ایک سیشن کے دوران کہا’’میرے لیے میں کون سا کردار ادا کر رہا ہوں، یہ دوسری ترجیح ہوتی ہے۔ جب میں ’دنگل‘ کے لیے ہاں کہتا ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مجھے اس کی اسکرپٹ بہت پسند آتی ہے۔ یہ ایک شاندار کہانی ہے جس میں ہر کردار کے پاس کرنے کے لیے بہت اچھا مواد ہے۔ پھر میں اپنے کردار مہاویر پر توجہ دیتا ہوں۔ لیکن میں نے فلم کے لیے صرف اس لیے ہاں نہیں کی کہ ’مہاویر کیا زبردست کردار ہے!‘‘‘

یہ بھی پڑھئے : جنگلی میوزک نے کامیڈی فلم’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کا دھماکہ دار ٹائٹل ٹریک ریلیز کر دیا

نتیش تیواری کی ہدایت کاری میں بننے والی ’دنگل‘ میں عامر نے سابق پہلوان مہاویر پھوگاٹ کا کردار ادا کیا تھا، جو اپنی بیٹیوں کو چیمپئن بننے کی تربیت دیتا ہے۔ عامر خان پروڈکشنز کے تحت بننے والی یہ فلم دنیا بھر میں ۲۰۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کمائی کرکے ہندوستانی سنیما کی سب سے بڑی عالمی کامیابیوں میں شامل ہوگئی۔
گفتگو کے دوران عامر نے اعتراف کیا کہ ایک موقع پر انہوں نے کہانی کے بجائے اپنے کردار کو ترجیح دی، اور یہ فیصلہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ’ٹھگس آف ہندوستان‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کی ہدایت کاری وجے کرشن اچاریہ نے کی تھی، عامر نے کہا کہ یہ فیصلہ “بری طرح الٹا پڑا۔عامر نے کہا کہ ’’ٹھگس آف ہندوستان کی کہانی بہت عام سی ہے۔ یہ ’شعلے‘ ہے۔‘‘ انہوں نے دونوں فلموں کے درمیان مماثلت کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’’شعلے‘ میں سنجیو کمار کا ٹھاکر ہے، جو اپنے خاندان کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ پھر دو لوگ آتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں، جے (امیتابھ بچن) اور ویرو (دھرمندر)۔ یہاں زفیرا (فاطمہ ثنا شیخ) ہے، جس کا خاندان ختم کر دیا جاتا ہے۔ اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اور فرنگی (عامر) آتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘ : آیوشمان کھرانہ کی فلم نے عالمی سطح پر ۲۴؍ کروڑ روپے کمائے

انہوں نے مزید کہاکہ ’’یہ بہت ملتا جلتا فارمیٹ ہے۔ جے اور ویرو فلم کے ہیرو ہیں، لیکن کہانی اُن کی نہیں بلکہ ٹھاکر کی ہے۔ اسی طرح یہ فرنگی کی کہانی نہیں بلکہ زفیرا کی کہانی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا فارمولا ’شعلے‘ جیسی فلم سے زیادہ مشابہ تھا۔‘‘عامر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ’ٹھگس آف ہندوستان‘ کی آخری شکل اصل اسکرپٹ سے کافی مختلف تھی کیونکہ کاسٹنگ سے متعلق تبدیلیوں کے باعث اسکرپٹ میں بار بار رد و بدل کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کاسٹنگ کی وجوہات کی بنا پر ہم اسکرپٹ تبدیل کرتے رہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں اتنی بنیادی غلطی کر بیٹھوں گا، لیکن ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہمیں اسکرپٹ تبدیل نہیں کرنی چاہیے تھی، چاہے ہمیں مطلوبہ کاسٹ نہ بھی ملتی۔ جب آپ نے ’ٹھگس‘ دیکھی، تو آپ نے وہ اصل اسکرپٹ نہیں دیکھی جو وکٹر (آچاریہ) نے لکھی تھی، کیونکہ اس میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔‘‘ اداکار نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ فلم کی کہانی کو اوسط سمجھتے تھے، لیکن وہ فرنگی کے کردار سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK