Inquilab Logo Happiest Places to Work

لاہور میں تقسیم سے قبل کے تاریخی ناموں کی بحالی، پرانی شناخت واپس لانے کا فیصلہ

Updated: May 19, 2026, 8:00 PM IST | Lahore

لاہور میں تاریخی شناخت کی بحالی کے سلسلے میں پنجاب حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے کئی سڑکوں اور محلّوں کے تقسیمِ ہند سے پہلے والے پرانے نام دوبارہ رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت شہر کے متعدد معروف مقامات اپنی اصل تاریخی پہچان کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

Punjab Chief Minister Maryam Nawaz. Photo: INN
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز۔ تصویر: آئی این این

پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت نے لاہور کی کئی سڑکوں اور محلّوں کے وہ اصل نام بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے جو تقسیمِ ہند سے پہلے رائج تھے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق یہ فیصلہ ’’لاہور ہیریٹیج ایریاز ریوائیول پروجیکٹ ‘‘کا حصہ ہے، جسے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا تصور قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لاہور کی تاریخی شناخت کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے بعد ہندو اور سکھ ورثے سے جڑے کئی علاقوں، سڑکوں اور پارکوں کے نام بدل کر اسلامی یا قومی شناختوں پر رکھ دیئے گئے تھے۔ پنجاب حکومت کے ایک عہدیدار نے پی ٹی آئی کو بتایا:’’چند روز قبل وزیرِ اعلیٰ مریم نوازکی زیرِ صدارت ہونے والے پنجاب کابینہ کے اجلاس میں لاہور اور اس کے نواحی علاقوں کی مختلف سڑکوں اور محلّوں کے اصل اور تاریخی نام بحال کرنے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن کے اشارے کا انتظار، اسرائیل ایران پر حملے کیلئے تیار

کن علاقوں اور سڑکوں کے نام بحال کئے جا رہے ہیں؟
رپورٹس کے مطابق جن علاقوں اور سڑکوں کو ان کے پرانے نام واپس دیئے جا رہے ہیں ان میں شامل ہیں :کوئنز روڈ، جیل روڈ، ڈیوس روڈ، لارنس روڈ، ایمپریس روڈ، کرشن نگر، سنت نگر، دھرم پورہ، برینڈرتھ روڈ، رام گلی، ٹیمپل اسٹریٹ، لکشمی چوک، جین مندر روڈ، کمہار پورہ، موہن لال بازار، سندر داس روڈ، بھگوان پورہ، شانتی نگر اور آؤٹ فال روڈ وغیرہ۔ رپورٹس کے مطابق مقامی انتظامیہ نے بحال شدہ ناموں والے سائن بورڈز لگانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ لاہور کے مشہور لارنس گارڈنز، جو کئی دہائیوں سے ’’باغِ جناح‘‘کہلاتے تھے، انہیں بھی ان کا پرانا نام واپس دیا جا رہا ہے۔ 
پی ٹی آئی کے مطابق نواز شریف نے لاہور کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈز اور منٹو پارک میں موجود قدیم کشتی اکھاڑے کو بھی بحال کرنے کی تجویز دی ہے، جسے اب ’’گریٹر اقبال پارک‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ابوظہبی: کویتی فائٹر کا اسرائیلی فائٹر سے ہاتھ ملانے سے انکار، پوڈیم چھوڑ دیا

مکمل فہرست: تبدیل کئے گئے نام
اسلام پورہ۔ دوبارہ کرشن نگر 
بابری مسجد چوک۔ دوبارہ جین مندر چوک 
سنت نگر۔ دوبارہ سنت نگر 
مصطفیٰ آباد۔ دوبارہ دھرم پورہ 
مولانا ظفر علی خان چوک۔ دوبارہ لکشمی چوک 

یہ بھی پڑھئے: مودی کا نیدرلینڈس دورہ: اقلیتوں اور میڈیا آزادی پر ڈچ خدشات مسترد

نوآبادیاتی دور کے نام بھی بحال
سر آغا خان روڈ۔ اب دوبارہ ڈیوس روڈ 
فاطمہ جناح روڈ۔ دوبارہ کوئنز روڈ 
باغِ جناح۔ دوبارہ لارنس گارڈنز 
گریٹر اقبال پارک۔ دوبارہ منٹو پارک 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK