Updated: March 10, 2026, 5:04 PM IST
| Mumbai
معروف اداکار آصف شیخ نے کہا ہے کہ انہوں نے متعدد ویب سیریز اور فلموں کی پیشکشیں صرف اس لیے مسترد کر دیں کیونکہ ان کی اولین ترجیح کامیڈی سیٹ کام ’’بھابی جی گھر پر ہیں‘‘ ہے۔ انہوں نے موجودہ ٹیلی ویژن انڈسٹری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان اداکاروں میں ماضی کے اداکاروں جیسی کمٹمنٹ کم دکھائی دیتی ہے۔
فلم اور ٹی وی اداکار آصف شیخ۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی ٹیلی ویژن کے معروف اداکار آصف شیخ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے مقبول سیٹ کام ’’بھابھی جی گھر پر ہیں‘‘ کی وجہ سے کئی ویب سیریز اور فلمی منصوبوں کو مسترد کر دیا۔ یہ شو، جو مارچ ۲۰۱۵ء میں نشر ہونا شروع ہوا تھا، گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ناظرین کو محظوظ کر رہا ہے اور اسے ہندوستانی ٹیلی ویژن کے طویل عرصے تک چلنے والے کامیڈی پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آصف شیخ اس سیٹ کام میں وبھوتی نارائن مشرا کا کردار ادا کرتے ہیں۔
ویب سیریز اور فلمیں چھوڑنے کی وجہ
آصف شیخ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس اکثر پروڈیوسرز اور ہدایت کار نئے منصوبوں کی پیشکش لے کر آتے ہیں، لیکن وہ اپنے موجودہ شو کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے ورائٹی انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کامیڈی کردار ادا کرنے والے اداکار کم ہیں۔ میرے پاس بہت سے پروڈیوسر اور ہدایت کار آتے ہیں لیکن بھابی جی میری ترجیح ہے۔ میں شو کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، میں اسے اپنا بہترین دینا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بعض ویب سیریز کے لیے طویل شوٹنگ شیڈول کی وجہ سے انہیں ان منصوبوں کو چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے کچھ ویب سیریز چھوڑنی پڑیں کیونکہ انہوں نے تقریباً ۴۳؍ دن کی شوٹنگ کا وقت مانگا تھا۔ جب آپ روزانہ نشر ہونے والے شو کا حصہ ہوتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہوتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پرسنالٹی رائٹس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے شِلپا شیٹی کے حق میں فیصلہ سنایا
طویل سفر کے پیچھے کمٹمنٹ
آصف شیخ نے کہا کہ کسی بھی ٹیلی ویژن شو کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے لیے اداکاروں اور ٹیم کی بھرپور کمٹمنٹ ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ’’بھابی جی گھر پر ہیں‘‘ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کردار کو اس وقت تک ادا کرتے رہیں گے جب تک انہیں اداکاری میں لطف آتا رہے گا۔
آج کے اداکاروں پر تبصرہ
انٹرویو کے دوران آصف شیخ نے موجودہ ٹیلی ویژن انڈسٹری کے رجحانات پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل بہت سے ٹی وی شوز چند ماہ کے اندر ہی بند ہو جاتے ہیں کیونکہ چینلز کے لیے ناظرین کی تعداد اہم ہوتی ہے۔ان کے مطابق:’’آخر میں سب کچھ نمبروں پر آ کر رک جاتا ہے۔ چینل خیرات کے لیے نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘ انہوں نے نوجوان اداکاروں کے بارے میں کہا کہ ان میں بعض اوقات ماضی کے اداکاروں جیسی لگن اور سنجیدگی نہیں دکھائی دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ نوجوان اداکاروں میں کمٹمنٹ کم ہو گئی ہے۔ ان کے لیے ٹی وی فاسٹ فوڈ کی طرح ہے۔ ہمارے زمانے میں یہ کرو یا مرو کی صورتحال ہوتی تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ستارے زمین پر‘‘ کی او ٹی ٹی ریلیز، ۹؍ ماہ کا انتظار ختم
تجربہ اور محنت کی اہمیت
آصف شیخ نے کہا کہ اگر کسی اداکار میں حقیقی صلاحیت موجود ہو تو اسے کام ضرور ملتا ہے۔ ان کے مطابق: ’’اگر کوئی باصلاحیت ہے تو اسے کام ملے گا، چاہے اس کا پہلا شو اچانک بند ہو جائے یا نہ ہو۔‘‘ چار دہائیوں سے زیادہ طویل کریئر رکھنے والے آصف شیخ نے ٹیلی ویژن کے علاوہ فلموں اور دیگر پروجیکٹس میں بھی کام کیا ہے، لیکن ان کے مطابق بھابی جی گھر پر ہیں ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔