• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’فلم کی شوٹنگ شروع ہوئی تو ایسا لگا کہ میں فلموں ہی کیلئے بنا ہوں‘‘

Updated: February 11, 2024, 12:48 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

اداکار ابھینندن جندال کا کہنا ہےکہ مسلسل ۹؍ برسوں کی جدوجہد کے بعدفلم میں کام کرنے کا موقع ملا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، میں اول دن سے فلموں میں کام کرنا چاہتا تھا۔

Abhinanadan Jindal. Photo: INN
ابھینندن جندال۔ تصویر : آئی این این

ابھینندن جندال نے ٹی وی انڈسٹری میں مسلسل ۹؍برس تک کام کیا اور انہیں اب فلم میں موقع مل گیا ہے۔ ان کی فلم ’کچھ کھٹا ہوجائے ‘ اس ہفتے ریلیز ہونے والی ہے جس میں انہوں نے اہم رول نبھایاہے۔ انہوں نے اس میں نئے اور تجربہ کار اداکاروں کے ساتھ کام کیاہے اور وہ اپنے رول سے بہت خوش ہیں۔ وہ پہلی بار بڑے پردے پر نظرآنے والے ہیں جس کیلئے انہوں نے کافی محنت کی ہے۔ ابھینندن نے ’گُڈن تم سے نہ ہو پائے گا‘، ’تھپکی پیار کی‘ اور ’سسرال سمر کا‘ جیسے معروف شوز میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ مسلسل کوشش کررہے تھے کہ انہیں بڑے پردے پر موقع ملے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اداکار کو ان کی محنت کا صلہ مل گیا ہے۔ نمائندہ انقلاب نے ابھینندن جندال سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ کوکریئر کی پہلی فلم میں موقع کس طرح ملا ؟
 ج:پروڈکشن ہاؤس کی ایک ٹیم سے مجھے کال آیا کہ میں آڈیشن کیلئے اسٹوڈیو آ جاؤں۔ میں آڈیشن کیلئے پہنچا تو مجھے مکمل آزادی دی گئی تھی کہ میں جس طرح بھی چاہوں، اپنے فن کو ظاہر کرسکتاہوں۔ ۲؍ہفتوں کے بعد مجھے حتمی آڈیشن کیلئے بلایاگیا تھا۔ اس کے ۳؍ دن بعد پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے مجھے مثبت جواب ملا اورمیں رول کیلئے منتخب کرلیا گیا۔ یہ آڈیشن میرے کریئر کا سب سے یادگار آڈیشن تھا۔ میں نے اس میں اپنی اداکاری سے آڈیشن لینے والوں متاثر کیا اور انہیں آمادہ کرلیا تھا کہ میں اس فلم کیلئے سب سے موزوں شخص ہوں۔ میں جانتا تھا کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا کیونکہ میں نے اس کیلئے کافی محنت کی تھی اور بہت تیاری کے ساتھ اسٹوڈیو گیا تھا۔ 
کیا آپ اپنے رول پر تھوڑی سی روشنی ڈال سکتے ہیں ؟
 ج: میرا کردار بہت پیارا ہے اور وہ کہانی کا اہم حصہ ہے۔ اس کے بغیر کہانی مکمل نہیں ہوسکتی۔ میرے کردارکو بہت ہی ملنسار بتایا گیا ہے جو ہر کسی مدد کیلئے تیار رہتاہے۔ ہر فلم کی کہانی ہوتی ہے اور اس میں ایک پیغام بھی ہوتاہے۔ اس فلم میں بھی ایک کہانی اور پیغام ہے۔ کہانی کے مطابق اداکارہ ’سئی مانجریکر‘ ایک اہم منصوبے کو انجام دینے والی رہتی ہیں اوراس کارخیر میں وہ میری مدد لیتی ہیں۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس فلم میں مجھے ’سئی‘ کا قریبی بتایا گیا ہے۔ میرے بغیر وہ اپنے منصوبے کو انجام نہیں دے سکتی ہے۔ بس میں آپ کو اس سے زیادہ اپنے رول کے بارے نہیں بتا سکتاکیونکہ اس تعلق سے پروڈکشن ہاؤس کی طرف سے کچھ ممانعت ہے۔ 
ٹی وی میں کام کرنے کے بعد فلم میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ؟
 ج:بہت اچھے تجربات تھے، ساتھ ہی اچھے جذبات بھی تھے۔ جس راہ پر میں مسلسل ۹؍برس تک چلتا رہا، اسی راستے پر اچانک میری منزل میرے سامنے آگئی تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے کس طرح کے تجربات حاصل کئےہیں۔ جب مجھے اس فلم کی پیشکش کی گئی تو اس وقت میں کچھ بیان ہی نہیں کرپایا تھا۔ جب میں نے فلم کی شوٹنگ شروع کی تو مجھے احساس ہوا کہ میں اسی انڈسٹری کیلئے بناہوں اوریہاں تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ میں ہمیشہ فلموں میں کام کرنا چاہتا تھا اور میں جانتا تھا کہ میں اس کا حقدار ہوں۔ ایسا لگتاہے کہ مجھے میرا حق مل گیا ہے۔ 
پہلی فلم کے تعلق سے کوئی خوف نہیں رہا؟
 ج:جی نہیں، مجھے جو کام کرنا تھا وہ میں نے کردیا ہے اور اب نتیجے کا انتظار ہے۔ ڈر اس وقت ہوتاہے جب آپ کو موقع ملے اور آپ ناکام ہوجائیں۔ مجھے موقع ملا او رمیں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے اور اب شائقین کی طرف سے رد عمل کا انتظار ہے۔ میں ایک مثال کے ذریعہ آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتاہوں کہ جب آپ اسکول میں امتحان دینے جاتے ہیں اور اس کی مکمل تیاری نہیں کی ہوتی ہے تو آپ کو ناکامی کا ڈر ہوتاہے۔ میں نے جب اس فلم کو سائن کیا تھا تو اس وقت میں نے اپنی طرف سے پورا ہوم ورک کر لیا تھا۔ بہت محنت کرنے کے بعد میں سیٹ پر پہنچا تھا اوراس کے بعد پہلا شاٹ دیا تھا۔ اس لئے میرے ذہن اور دل دونوں میں کوئی ڈر یا خوف نہیں ہے۔ بس خواہش ہے کہ میری پہلی فلم شائقین کو پسند آئے اور وہ میرے کام کی بھی پزیرائی کریں۔ 
سئی مانجریکر اور گرو رندھاوا جیسے نئے اداکاروں کے ساتھ کام کرنا کتنا آسان یا کتنا مشکل رہا ؟
 ج:سئی مانجریکر، مہیش مانجریکر کی بیٹی ہیں اور گرو رندھاوا یوتھ آئیکن ہیں، ان دونوں کے ساتھ کام کرنے کے دوران معلوم ہی نہیں پڑا کہ میں اتنے معروف فنکاروں کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ گرو رندھاوا کی یہ پہلی ہندی فلم ہے لیکن پنجاب میں وہ بہت بڑے اسٹار ہیں اور ان کے گیت وہاں بہت مشہور ہیں۔ جب میں نے پنجاب میں میرے اہل خانہ سے کہا کہ میں نے گرو رندھاوا کے ساتھ فلم کی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ہماری بہت ہی خوشگوار ماحول میں ہوتی تھی اور میرے لئے ان کے ساتھ کام کرنا آسان تھا۔ میں بھی انہی کی طرح سنجیدہ اداکار ہوں اور میں رات میں اپنے اسکرین پلے کو پڑھتا ہوں اور ریہرسل کرتا ہوں۔ اس کے بعد ہی صبح شوٹنگ کیلئے جاتاہوں۔ میں ان ٹی وی اداکاروں کی طرح نہیں ہوں جو اپنے مکالمے ادا کئے اور شوٹنگ ختم کر کے گھرکیلئے روانہ ہوگئے۔ سئی اور گرو کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا اور میں چاہوں گاکہ ان کے ساتھ آگے بھی کام کرنے کا موقع ملے۔ 
اِلا ارون اور انوپم کھیر نے آپ کے تعلق سے کیا رائے قائم کی؟ 
 ج:اِلا ارون سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہاتھاکہ میرے مداحوں کی تعداد بڑھنے والی ہے اور وہ اب ٹی وی کی نہیں ہوگی بلکہ فلم کی ہوگی۔ انہوں نے کہا تھاکہ میں ٹی وی کا اداکار نہیں ہوں بلکہ فلم اور ویب سیریز کا اداکار ہوں۔ انہوں نے مجھے اپنی پارکھی نظر سے پہچان لیا تھا۔ وہ اتنی بڑی آرٹسٹ ہیں لیکن انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی تھی۔ جب مجھے اس فلم کی اسٹار کاسٹ کے بارے میں بتایا گیا تو میں خوش تھا کہ میں انوپم کھیر کے ساتھ کام کررہاہوں۔ وہ اپنے کام کو بہت سنجیدگی اور ڈسپلن سے کرتے ہیں۔ یہ ہنر میں نے ان سے سیکھا تھا۔ انہیں انڈسٹری میں ۴۰؍ سال ہوگئے ہیں اور وہ آج بھی اسی توانائی کے ساتھ مصروف ہیں۔ انہوں نے میرے سامنے ہارٹ اٹیک کا ایک شو ٹ کیا تھا، وہ دیکھ کر میں دنگ رہ گیا کہ یہ شخص اس عمر میں بھی اتنا اچھا پرفارم کرتاہے۔ انوپم کھیر کے ساتھ میرے بہت سے شاٹس ہیں اور انہوں نے مجھے بہت کچھ بتایا تھا کہ میں کبھی بھی اس انڈسٹری میں مایوس نہ ہوں۔ انوپم جی اس وقت اتنے محنتی ہیں تو وہ اپنی جوانی کے وقت کتنی زیادہ محنت کیا کرتے رہے ہوں گے۔ میں بہت خوش ہوں کہ ان کے ساتھ فلم کرنے کا موقع ملا۔ 
کیا آپ اب ٹی وی سے بریک لے لیں گے؟
 ج:میں ایک مثال کے ذریعہ آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں گاکہ جب آپ تیرنا جانتے ہیں تو سمندر کی گہرائی میں بھی جانا چاہیں گے۔ میں چھوٹے سے تالاب میں رہنے کے بجائے اب سمندر کی گہرائی میں جانا چاہوں گا۔ میں ٹی وی پر بھی وہی اداکاری کرتا تھا جو میں نے اس فلم میں کی ہے۔ ممکن ہے کہ میں اب فلموں کی طرف زیادہ توجہ دوں اور اس میں ہی اپنا کریئر بنانے کی کوشش کروں۔ میں نے ٹی وی میں ۹؍سال گزارے ہیں اور میں اب آگے کے سفر کیلئے تیار ہوں۔ امید کرتاہوں کہ قسمت اس سفر میں میرا ساتھ دے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK