• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب، قطر اور یو اے ای میں رمضان کا آغاز، روزے شروع

Updated: February 17, 2026, 10:14 PM IST | Riyadh

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بدھ سے رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ چاند نظر آنے کی تصدیق کے بعد روزے شروع ہو گئے، جبکہ چند دیگر ممالک میں فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر جمعرات سے رمضان کا آغاز ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بدھ سے رمضان المبارک کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ متعلقہ حکام نے تصدیق کی کہ ماہِ مقدس کا چاند منگل کی شام نظر آ گیا تھا، جس کے بعد بدھ سے روزوں کا آغاز کر دیا گیا۔ سعودی عربیہ کی رائل کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شوال کی رویت کے لیے قائم کمیٹیوں نے ملک کے مختلف حصوں میں چاند دیکھنے کی شہادتوں کی تصدیق کی۔ بیان کے مطابق منگل کی شام نیا چاند نظر آنے کے بعد بدھ کو یکم رمضان قرار دیا گیا اور ملک بھر میں روزے شروع ہو گئے۔ اسی طرح قطر کی چاند دیکھنے والی کمیٹی نے بھی اعلان کیا کہ شرعی شہادتوں کی بنیاد پر رمضان المبارک کا آغاز بدھ سے ہوگا۔ کمیٹی نے کہا کہ مستند گواہیوں کے بعد ماہِ صیام کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پرھئے: کیلیفورنیا کے یہودی سیاستداں رینڈی فائن کو مسلم مخالف پوسٹ پر استعفیٰ کا سامنا

متحدہ عرب امارات کی صدارتی عدالت نے بھی اسی نوعیت کا اعلان جاری کرتے ہوئے بدھ کو رمضان المبارک کا پہلا روزہ قرار دیا۔ اماراتی حکام نے عوام کو اس بابرکت مہینے کی آمد پر مبارکباد دی اور عبادات، خیرات اور روحانی تزکیے کی تلقین کی۔ دوسری جانب چند ممالک نے فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر رمضان کے آغاز کی تاریخ کا تعین کیا ہے۔ حکام کی جانب سے سائنسی اندازوں اور فلکیاتی ڈیٹا کی روشنی میں تصدیق کے بعد عمان، ترکی، سنگاپور اور آسٹریلیا میں مسلمان جمعرات سے روزے رکھیں گے۔
رمضان اسلامی قمری تقویم کا نواں مہینہ ہے اور اسے عبادت، صبر، تقویٰ اور اجتماعی ہم آہنگی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں، نماز، تلاوتِ قرآن اور صدقات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ یہ مہینہ نہ صرف روحانی تربیت کا ذریعہ ہے بلکہ سماجی ہمدردی اور مساوات کا بھی پیغام دیتا ہے۔ دنیا بھر میں رمضان کے آغاز کے تعین کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ کئی ممالک اب بھی روایتی طور پر مقامی سطح پر چاند دیکھنے کی شہادت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک سائنسی اور فلکیاتی حسابات کو بنیاد بناتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے مواقع پر جب سائنسی ماہرین یہ واضح کر دیں کہ کسی مخصوص خطے میں چاند کا نظر آنا ممکن نہیں، تو فلکیاتی اندازوں کو فیصلہ کن اہمیت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے امام کو ایک ہفتےکیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا

حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی اور فلکیات میں ترقی کے باعث متعدد اسلامی ممالک نے چاند کی رویت کے معاملے میں جدید سائنسی طریقوں کو اپنانا شروع کیا ہے، تاہم روایتی شہادت کا نظام بھی بدستور برقرار ہے۔ اسی اختلافِ طریقہ کار کی وجہ سے بعض اوقات مختلف ممالک میں رمضان کا آغاز ایک یا دو دن کے فرق سے ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی ان ممالک میں مساجد میں خصوصی انتظامات، تراویح کی نمازوں کا اہتمام اور فلاحی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے عوام کو اس مہینے کے تقدس کو ملحوظ رکھنے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK