ویب سیریز اور فلم اداکارابھیشیک بنرجی کا کہنا ہے کہ’’میں اب تک کے اپنے کام سے بہت خوش ہوں اورچاہتا ہوں کہ اسی طرح اچھے کرداروں سے شائقین کو تفریح فراہم کرتارہوں ‘‘
EPAPER
Updated: August 31, 2025, 12:22 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ویب سیریز اور فلم اداکارابھیشیک بنرجی کا کہنا ہے کہ’’میں اب تک کے اپنے کام سے بہت خوش ہوں اورچاہتا ہوں کہ اسی طرح اچھے کرداروں سے شائقین کو تفریح فراہم کرتارہوں ‘‘
ویب سیریز اور فلموں کے کیریکٹر اداکار ابھیشیک بنرجی نے شائقین کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔ وہ آج کل اہم کرداروں میں نظرآرہے ہیں۔ انہوں نے استری، بھیڑیااور استری ۲؍ جیسی کامیاب فلموں میں کام کیاہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈریم گرل اور ڈریم گرل۲، ویدا، رشمی راکیٹ اور اسٹولن میں بھی اپنے فن کی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ مغربی بنگال کے کھڑگ پور سے تعلق رکھنے والے اداکار نے اداکاری کے ساتھ ہی فلموں میں کاسٹنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سےبھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ وہ سرکاری ملازمت بھی کرچکے ہیں لیکن اداکاری قسمت میں لکھی تھی اسلئے وہ فلم انڈسٹری میں آگئےاور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ نمائندہ انقلاب نےاداکار ابھیشیک بنرجی سے طویل گفتگو کی ہے جس کے اہم اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں :
اپنے رول کیلئے آپ کس طرح کی تیاری کرتے ہیں ؟
ج:گزشتہ چند برسوں سے میں نے ویب شوز نہیں کئے ہیں۔ اس دوران میری پوری توجہ فلمو ں پر ہے۔ میں یہ نہیں دیکھتا کہ میری فلمیں تھیٹرمیں ریلیز ہورہی ہیں یا اوٹی ٹی پر، بس میں اپنی اداکاری پر پوری توجہ دیتا ہوں۔ میں ویب سیریز کی گہرائی دیکھتاہوں، اس کے بعد ہی اپنے رول کےبارے میں سوچتاہوں۔ اگر کہانی اچھی ہے تو مجھے اس کے مطابق ہی تیاری کرنی پڑتی ہے۔ حالانکہ فلم اور ویب سیریز کے رول کے درمیان ایک باریک لائن ہوتی ہے، اسلئے اس لائن کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرتاہوں۔ اس طرح میں اپنے رول کی تیاری کرتا ہوں۔ یہی میرا کسی بھی ویب شو اور فلم کیلئے تیاری کرنے کا طریقہ ہے۔
کیا آپ اس وقت صرف فلمیں کرنا ہی پسند کرتے ہیں ؟
ج:میں نے ابھی کہاکہ میں نے بہت وقت سے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ویب شوز میں کام نہیں کیا ہے، اسلئے ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا۔ میں نے تھیٹر اور فلموں پر ہی توجہ مرکوز کی ہے اور اس کے مطابق ہی کام کررہا ہوں۔ گزشتہ ایک سال میں میری زیادہ فلمیں تھیٹر میں ریلیز ہوئی ہیں اور ایک فلم اوٹی ٹی پر ریلیز ہوئی تھی لیکن وہ اوٹی ٹی اوریجنل نہیں تھی بلکہ ہم نے اسے فلم کےمطابق ہی بنایا تھا لیکن چینل نے اسے او ٹی ٹی پر ریلیز کردیا۔ میں نے اب طے کرلیا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ توجہ فلموں پر دوں گاکیونکہ یہی میرا ہدف ہے۔
جن اداکاروں کو فلموں میں سائیڈ ہیرو کا رول ملتاہے، وہی اداکار جب ویب شوز میں کام کرتے ہیں تو اچھا پرفارم کرتے ہیں ، اس کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
ج:جنہیں سائیڈہیرو کہا جاتاہے، انہیں ویب سیریز میں اچھے مواقع مل رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے اداکاروں کیلئے ویب سیریز ایک اچھا پلیٹ فارم ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ایک بات اور کہنا چاہوں گاکہ کچھ صحافیوں نے فلموں میں سائیڈ ہیرو کی اصطلاح بنا دی ہے۔ فلمی صحافی جب بھی فلم کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اس کردار کا نام لکھنے کے بجائے اسے سائیڈ ہیرو کہتے ہیں۔ اگر صحافی میرے کیریکٹر کے ساتھ میرا نام لکھیں تو پڑھنے والا سمجھ جائے گا کہ یہ کردار میں نے ادا کیاہے۔ اگر آپ اپنے تجزیے میں لکھیں گے کہ یہ سائیڈ ہیرو نے بھی اچھاکام کیا ہے توقاری میرا نام اور میری شناخت سمجھنے سےقاصر رہے گا۔ اسلئے میں چاہتاہوں کہ صحافی حضرات سائیڈ ہیرو کی جگہ ہمارے کردار کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھیں۔
آپ نے ابھی تک جس طرح کے کردار نبھائے ہیں، انہیں دیکھ کر فلم شائقین کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ اب وہ سوچتے ہیں کہ ابھیشیک اگلا کردار کون سا ادا کریں گے؟
ج:میں چاہتاہوں کہ میں ہمیشہ ایسے ہی تجربات جاری رکھوں۔ میں کسی کیلئے نہیں بلکہ اپنے آپ کیلئے کرداروں کے ساتھ تجربات کرتا ہوں کیونکہ مجھے خود سے محبت ہے۔ اپنے کرداروں سے محبت کرتاہوں اور ان کے ساتھ تجربات کرتا رہتا ہوں۔ انہی تجربات کی وجہ سے انڈسٹری میں میری شناخت قائم ہوئی ہے۔ مجھ سے پہلے عرفان بھائی، نواز بھائی، منوج، نصیر الدین سر اور اوم پوری سر نےبھی اپنے کرداروں کے ساتھ کافی تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے مزاحیہ کردار نبھائے ہیں، انہوں نے سنجیدہ کردار بھی نبھائے ہیں۔ انہوں نے منفرد رول نبھاکر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اچھے ایکٹر ہیں۔ میں کاسٹنگ ڈائریکٹر بھی ہوں، جہاں مجھے لگتاہے کہ میں اس کردار کیلئے بالکل صحیح پسند ہوں تو اسے اپنےلئے منتخب کرتاہوں ، ورنہ چھوڑدیتاہوں۔
درمیان میں کچھ اس طرح کی خبریں گشت کررہی تھیں کہ آپ بنگالی زبان کی انڈسٹری میں قدم رکھنے والے ہیں ؟
ج:میں اس کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرسکتاکیونکہ کچھ پابندیاں ہوتی ہیں اور میں اس بارے میں آپ کو زیادہ نہیں بتا سکتا، صرف اتنا کہہ سکتاہوں کہ میں اس وقت کولکاتا میں ہوں۔
کیا آپ بالی ووڈ کے باہر بھی قسمت آزما رہے ہیں ؟
ج:میں ایک اداکارہوں، اسلئے میں چاہوں گاکہ جہاں بھی اداکاری کا موقع ملے، وہاں جاؤں۔ اسلئے الگ الگ انڈسٹری میں قسمت آزمانا اچھی بات ہے۔ بالی ووڈ کےکئی بڑے اداکار جنوبی ہند میں کام کررہے ہیں۔ میں بنگالی اور تمل زبان جانتا ہوں۔ ان دونوں ہی زبانوں میں بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ میں تو چاہوں گاکہ میں دیگر زبانوں کی فلموں میں بھی کام کروں۔ میرے والد فوج سے تعلق رکھتے تھے، اسلئے ان کی پوسٹنگ الگ الگ جگہ پر ہوتی تھی۔ اس کی وجہ سے میں بھی ان کے ساتھ ہی جایا کرتا تھا۔ میری فلم اسٹولن ممبئی کی نہیں تھی بلکہ وہ دہلی میں بنی تھی اور اسے دہلی والوں نے بنا یا تھا۔ میں چاہو ں گا کہ میری اداکاری سے سبھی زبان کے شائقین لطف و اندوز ہوں اور میں انہیں بھرپور تفریح فراہم کرتا رہوں۔
کیا ’استری ۳‘ کی شوٹنگ شروع ہوگئی ہے؟
ج:نہیں اس کیلئے ابھی کافی وقت ہے۔ ابھی تو اس کی شوٹنگ کے بارے میں بھی نہیں سوچا جارہا ہے۔ اس کے پہلے تھاما آئے گی او ر اس کے بعد بھیڑیا ۲ ؍ اور مونجیا ۲؍ کی ریلیز متوقع ہے۔ اس کے بعد استری ۳؍ کا نمبر آئے گا۔ میرے خیال میں اس کیلئے ابھی بہت وقت ہے۔ میں چاہوں گا کہ مداحوں کا تجسس اسی طرح برقرار رہے۔
اب تک کے اپنے کام سے آپ کتنے مطمئن ہیں ؟
ج:میں اپنے اب تک کے کام سے بہت خوش ہوں۔ میں نے جتنے بھی کردار نبھائے ہیں وہ شائقین کے ہرطبقے کو پسند آئے ہیں اور میری خواہش ہے کہ لوگ مجھے اسی طرح پیار دیتے رہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے کام سے ہر طبقے کے شائقین کو تفریح فراہم کرتا رہوں۔ میرے مداحوں میں بچے بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں ، جین زی بھی ہیں اور خواتین بھی ہیں۔ وہ سبھی میرے سبھی کردار وں کو پسند کرتے ہیں۔