Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے ہندوستان اور ۱۵؍ دیگر ممالک کے مبینہ ”غیر منصفانہ تجارتی طریقوں“ کی تحقیقات کا آغاز کیا

Updated: March 12, 2026, 10:08 PM IST | Washington

امریکہ کے نمائندہ برائے تجارت نے کہا کہ ”امریکہ کے بہت سے تجارتی شراکت دار متعدد شعبوں میں اپنی مقامی کھپت سے زیادہ اشیاء کی پیداوار کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی اضافی پیداوار امریکی صنعت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔“

Jamieson Greer. Photo: X
جیمی سن گریر۔ تصویر: ایکس

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے ہندوستان اور ۱۵؍ دیگر ممالک کی ”مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں “ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ اس انکوائری کے نتیجے میں ان ممالک کی مصنوعات پر رواں سال کے آخر میں درآمدات پر نئے ٹیرف عائد کئے جا سکتے ہیں۔ جن ممالک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے ان میں ہندوستان کے علاوہ چین، یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سنگاپور، تائیوان، کمبوڈیا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: روپیہ ۳۹؍ پیسے کم ہو کر۲۱ء۹۲؍ فی ڈالر کی ریکارڈ نچلی سطح پر بند

امریکہ کے نمائندہ برائے تجارت جیمی سن گریر نے ان تحقیقات کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹریڈ ایکٹ ۱۹۷۴ء‘ کے سیکشن ۳۰۱ کے تحت کی جانے والی اس انکوائری میں ان دعوؤں کا جائزہ لیا جائے گا کہ متعدد ممالک نے اہم مینوفیکچرنگ شعبوں میں ”ساختی اضافی گنجائش“ پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ پیداوار ہو رہی ہے اور امریکہ کو کم قیمت پر اشیاء برآمد کی جا رہی ہیں۔

گریر نے کہا کہ امریکہ اب دیگر معیشتوں کو امریکی مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”امریکہ کے بہت سے تجارتی شراکت دار متعدد شعبوں میں اپنی مقامی کھپت سے زیادہ اشیاء کی پیداوار کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی اضافی پیداوار امریکی صنعت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: چین کا ملک کی بڑی ریفائنریز کو ڈیزل اور پیٹرول کی برآمدات روکنے کا حکم

تحقیقات کے اعلان کے نوٹس کے مطابق، ہندوستان نے ۲۰۲۵ء میں امریکہ کے ساتھ تقریباً ۵۸ ارب ڈالر کا دو طرفہ تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا تھا۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی سولر ماڈیول بنانے کی صلاحیت اس کی مقامی طلب سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے اور اس نے پیٹرو کیمیکلز اور اسٹیل جیسی صنعتوں میں نمایاں اضافی پیداواری صلاحیت پیدا کرلی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں ٹرمپ کے لگائے گئے متعدد عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دیئے جانے کے چند ہفتوں بعد یہ تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ اپنے فیصلے میں امریکی عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، ٹرمپ نے اسی تجارتی قانون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے درآمدی اشیاء پر عارضی طور پر ۱۰ فیصد ٹیرف نافذ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز سے ہندوستان کا ٹینکرگزرے گا، جے شنکر اور عراقچی کی گفتگو کے بعد فیصلہ

حکام نے بتایا کہ نئی تحقیقات کے نتیجے میں رواں موسمِ گرما کے آغاز ہی میں مذکورہ بالا ۱۶ ممالک کے خلاف اضافی ٹیرف لگائے جا سکتے ہیں۔ اس انکوائری پر عوامی رائے ۱۵ اپریل تک قبول کی جائے گی جبکہ سماعت کا آغاز ۵ مئی سے ہونا طے پایا ہے۔ ایک علاحدہ اقدام میں، امریکہ نے تقریباً ۶۰ ممالک سے مبینہ طور پر ’جبری مشقت‘ کے ذریعے تیار کردہ درآمدات کے خلاف دوسری تحقیقات کا بھی اعلان کیا۔ انتظامیہ کو امید ہے کہ جولائی میں عارضی ٹیرف کی مدت ختم ہونے سے پہلے یہ دونوں تحقیقات مکمل کرلی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK