متعدد آن لائن پلیٹ فارمز پر انڈکشن اسٹو کااسٹاک ختم۔ ہوٹل مالکان نے ۷۵؍فیصد پکوان بنانا بندکردیئے۔صارفین کوگیس سلنڈرحاصل کرنے میں دشواریاں
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 12:03 AM IST | Ejaz Abdul Ghani and Saadat Khan | Mumbai
متعدد آن لائن پلیٹ فارمز پر انڈکشن اسٹو کااسٹاک ختم۔ ہوٹل مالکان نے ۷۵؍فیصد پکوان بنانا بندکردیئے۔صارفین کوگیس سلنڈرحاصل کرنے میں دشواریاں
کئی دنوں سے گیس سلنڈروںکی قلت ہوگئی ہے جس سے متبادل الیکٹرک چولہوں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اضافہ ۵۰ یا ۱۰۰؍ فیصد نہیں بلکہ ۳۰۰؍ فیصد ہوگیا ہے۔متعدد آن لائن پلیٹ فارمز پر انڈکشن اسٹو کی فروخت میں اضافہ ہونے سے کئی معروف کمپنیوں کے انڈکشن اسٹو جمعرات کی صبح تک ختم ہوچکے تھے۔دوسری جانب شہر و مضافات کے مختلف ہوٹلوں میں کمرشیل گیس سلنڈروں کی کمی سے ہوٹل مالکان نے تقریباً ۷۵؍فیصد پکوان بنانا بند کر دیئے ہیں جن میں بالخصوص تلے ہوئے پکوان شامل ہیں جنہیں پکانے کیلئے زیادہ گیس کی ضرورت ہوتی ہے ۔
امیزون، فلپ کارٹ اور بلنک ا ٹ جیسے ای کامرس پلیٹ فارمز پر انڈکشن اسٹو کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور حالت یہ ہے کہ کئی مشہور کمپنیوں کے انڈکشن ا سٹو جمعرات کی صبح تک ختم ہو گئے۔رسوئی گیس سلنڈر کی بکنگ میں حائل رکاوٹوں سے شہریوں نے کھانا پکانے کیلئے متبادل ذرائع کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکٹرک انڈکشن چولہے کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے ۔ گزشتہ دو تین دنوں میں بہت سے لوگوں نے انڈکشن اسٹو خریدنے کیلئے مقامی دکانوں اور آن لائن ویب سائٹس سے رجوع کیا ہے ۔ ملٹن، پیجن، پریسٹج، فلپس، بجاج اور ہیولز وغیرہ جیسے مشہور برانڈز کے انڈکشن اسٹو تیزی سے فروخت ہو رہے ہیں اور بیشتر ماڈلز کا اسٹاک ختم ہوچکا ہے ۔
مارکیٹ ڈیٹا فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۲؍ دنوں میں کھانا پکانے کیلئے استعمال ہونے والے بجلی کے آلات کی فروخت میں ۳۰۰؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن فروخت کے ساتھ مقامی دکانوں میں بھی برقی آلات خریدنے والے صارفین کی بھیڑ ہے۔ دریں اثناء انڈکشن ا سٹو کے ساتھ دیگر الیکٹرک کوکنگ اپلائنسز کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شہری الیکٹرک کوکر، ملٹی کوکر، الیکٹرک کیٹلز اور روٹی میکر جیسے آلات کی طرف بھی تیزی سے رجوع کر رہے ہیں۔
ہوٹل کاروبار بری طرح متاثر
دریں اثناء کمرشل گیس سلنڈروں کی کمی سے ہوٹل مالکان نے تلےہوئے پکوان بنانے بند کردیئے ہیں کیونکہ انہیں پکانے کیلئے زیادہ گیس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مثلاً شکرقندی وڑا، دھنیا وڑا، سابودانہ وڑا، سموسے، پیاز اور آلوکی بھجیا ، دہی وڑا، اڈلی اور پوری جیسے کئی پکوان ممبئی کے مختلف ہوٹلوں میں اب دستیاب نہیں ہیں جس سے ہوٹل کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
گیس کی کمی سے جنوبی ممبئی کےسی ایس ایم ٹی پر واقع معروف پنچم پوری والا نے کھانے پینے کی اشیاء کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔ اس ہوٹل میں دستیاب۷۸؍ قسم کی اشیاءمیں سے فی الحال صرف ۲؍پکوان دستیاب ہیں۔ صرف دال کھچڑی اور سبزی والی تھالی فراہم کی جارہی ہے۔
گیس سلنڈرحاصل کرنے میں صارفین کو پریشانیوں کا سامنا
رسوئی گیس(ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے اور بکنگ کے نظام میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیوں نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔گیس بکنگ کے نئے ضوابط کے باعث صارفین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔گیس سلنڈر بروقت ملے گا یا نہیں اس خوف سے اب بہت سے شہری متبادل کے طور پر الیکٹرک اور انڈکشن چولہوں کے استعمال کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔مشرقی وسطی میں جنگی صورتحال کے عالمی اثرات کے پیش نظر انڈین آئل کارپوریشن نے گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۶۰ ؍روپے جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت میں ۱۱۵ ؍روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گیس بکنگ کے درمیانی وقفے کو ۱۵ ؍دن سے بڑھا کر ۲۵ ؍دن کر دیا گیا ہے جس نے متوسط طبقے کیلئےگیس سلنڈر کا حصول مشکل ہوگیاہے۔
قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس بکنگ کے آن لائن پورٹل کی مسلسل خرابی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گیس کی قلت کےحوالے سے پھیلنے والی افواہوں کے باعث شہری وقت سے پہلے سلنڈر بک کرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ویب سائٹ بار بار ڈاؤن ہونے سےرجسٹریشن کا عمل معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
اس بارے میں ایک پریشان حال صارف نے کہا کہ ’’میرا سلنڈر ختم ہو چکا ہے اور میں تین دن سے مسلسل آن لائن بکنگ کی کوشش کر رہا ہوں مگر ویب سائٹ کام نہیں کر رہی ہے۔ اب مجبوراً ہمیں انڈکشن چولہا خریدنا پڑ رہا ہے کیونکہ یہ بھی یقین نہیں کہ سلنڈر کب تک دستیاب ہوگا۔ پربھات ہوم اپلانئسس کے مالک گرجو بھائی نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں ہم نے۵۰؍ سے ۶۰ ؍ انڈکشن چولہے فروخت کئے ہیں۔ مانگ اتنی زیادہ ہے کہ ہمارا اسٹاک ختم ہونے والا ہے اور ہمیں فوری طور پر مزید مال کا آرڈر دینا پڑا ہے۔