Inquilab Logo Happiest Places to Work

دشمن پر دبائو ڈالنے کیلئے آبنائے ہرمز بطور ہتھیار استعمال ہو: مجتبیٰ خامنہ ای

Updated: March 12, 2026, 10:08 PM IST | Tehran

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے اولین بیان میں کہا کہدشمن پر دبائو ڈالنے کیلئے آبنائے ہرمز بطور ہتھیار استعمال ہونا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے تمام اڈے علاقے سے فوری طور پر بند کر دیے جائیں، ورنہ ان پر حملے کیے جائیں گے۔

Iran`s Supreme Leader Mojtaba Khamenei. Photo: X
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں موجود امریکہ کے تمام اڈے فوری طور پر بند کر دیے جائیں، ورنہ ان پر حملے کیے جائیں گے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ جاری جنگ اس کے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانی چاہیے، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے انہی ممالک میں واقع امریکی اڈوں سے کیے گئے ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے قومی یکجہتی کی اپیل کی اور شہریوں سے یوم القدس کی تقریبات میں شرکت کی درخواست کی۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کو ایران کے مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعہ کے طور پر جاری رکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ روکنے کیلئے ایرانی صدر پزشکیان نے تین شرائط پیش کیں

بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ علاقے میں موجود امریکہ کے تمام فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیںورنہ ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران اپنا جوابی حملہ انہی اڈوں پر مرکوز کرے گا اور یہ مہم جاری رہے گی۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ’’ ایران ’شہداء‘ کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گا۔میں، سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، آپ کا خادم، میرے لیے اس جگہ پر بیٹھنا مشکل ہے جو دو عظیم رہنماؤں، امام خمینی اور شہید خامنہ ای کی رہائش گاہ رہی ہے۔ مجھے ان کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ خاکی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا؛ میں نے وہاں استقامت کا پہاڑ دیکھا، اور سنا کہ انہوں نے اپنے صحت مند ہاتھ کی مٹھی بند کر رکھی تھی۔حالیہ واقعے میں عظیم ایرانی قوم کی بصیرت اور دانائی، ان کے استقامت، جرات اور میدان میں موجودگی نے دوستوں کو تحسین اور دشمنوں کو حیرت پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ لوگ تھے جنہوں نے ملک کی قیادت کی اور اس کے وقار کی ضمانت دی۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے چھن گئی، تو اس کے بدلے میں اس نظام کو ایک بار پھر ایرانی قوم کی عمار جیسی موجودگی عطا ہوئی۔‘‘ یہ بیانات ان کے نئے بنائے گئے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK