ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ مالک نے بتایا کہ ایل پی جی کی قلت اور مغربی ایشیا کی جنگ کی وجہ سے انہیں۹؍ ہزار روپے والا انڈکشن کک ٹاپ۲۳؍ ہزار روپے میں خریدنا پڑا۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 10:09 PM IST | New Delhi
ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ مالک نے بتایا کہ ایل پی جی کی قلت اور مغربی ایشیا کی جنگ کی وجہ سے انہیں۹؍ ہزار روپے والا انڈکشن کک ٹاپ۲۳؍ ہزار روپے میں خریدنا پڑا۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگ نے ہندوستان کے بہت سے لوگوں کو انڈکشن کک ٹاپ استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے، لیکن اب یہ آخری ذریعہ بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دکانوں میں اسٹاک ختم ہو رہا ہے۔ یہ آلہ آن لائن سائٹس سے بھی غائب ہو رہا ہے۔ دہلی این سی آر اور ملک کے دیگر شہروں میں فوری ڈلیوری والی ایپس پر یہ’’ سولڈ آؤٹ‘‘ نظر آ رہا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج اومان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز کی ایران کے ذریعے ناکہ بندی کی وجہ سے ہندوستان میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی تقریباً ۸۵؍سے ۹۰؍ فیصد ایل پی جی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی بی ایس ای ریاضی کے پرچے کا کیو آر, میوزک ویڈیو پر لے جائیگا، انٹرنیٹ پر ہلچل
بعد ازاں اس صورتحال نےکالابازاری کو فروغ دیا ہے؛ گھبراہٹ میں خریداری سے لے کر ذخیرہ اندوزی کے الگ تھلگ واقعات درج ہوئے ہیں۔ ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرنے والوں کے لیے صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے، جبکہ پی این جی پائپ لائن استعمال کرنے والے آرام سے سروس لے رہے ہیں اور ابھی تک انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔ممبئی میں واقع ایک ریسٹورنٹ مالک اومکار کھنڈر اپنے ریسٹورنٹ کے لیے کمرشل انڈکشن رینج خریدنے پر غور کر رہے تھے کہ اسی دوران قلت کی خبریں آنے لگیں۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ حالات قابو میں آ جائیں گے۔ جب قلت واضح ہو گئی، تب انہوں نے وہی کک ٹاپ جو اس سے قبل ۹؍ ہزار روپئے کا تھا، ۲۳؍ ہزار میں خریدا۔ ہلی این سی آر کی رہائشی شریا وادھوانی نے بتایا، ’’جب میرے شوہر نے مجھے اس بحران کے بارے میں بتایا تو میں فوراً گھبرا گئی اور انڈکشن حاصل کرنے کے لیے فوری ڈلیوری پلیٹ فارمز کو چیک کیا۔ لیکن میرے حیرت کی بات یہ تھی کہ متعدد پلیٹ فارمز پر پروڈکٹ آؤٹ آف اسٹاک تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رسوئی گیس بحران:’مہیلا کانگریس‘ کا احتجاج، وزیر پٹرولیم پوری کا استعفیٰ مانگا
دریں اثناء حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میںخریداری سے گریز کریں۔ پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ پوری نے منگل۱۰؍ مارچ کو کہا، ’’ہم نے اقدامات کیے ہیں تاکہ جنگ کی صورتحال کے باوجود گھریلو صارفین کو سی این جی اور پی این جی کی۱۰۰؍ فیصد فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور دیگر صنعتوں کو ان کی۷۰؍ تا ۸۰؍ فیصد سپلائی جاری رہے۔ ہم اپنے گھریلو صارفین کو سستی توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ گھریلو صارفین کے لیے کوئی قلت نہیں ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘