بالی ووڈ کی معروف فلم ’’ویلکم‘‘ میں ’بلو‘ کا یادگار کردار ادا کرنے والے اداکار مشتاق خان انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد فلم اور کامیڈی انڈسٹری میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 8:15 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ کی معروف فلم ’’ویلکم‘‘ میں ’بلو‘ کا یادگار کردار ادا کرنے والے اداکار مشتاق خان انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد فلم اور کامیڈی انڈسٹری میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بالی ووڈ کی معروف فلم ’’ویلکم‘‘ میں ’بلو‘ کا یادگار کردار ادا کرنے والے اداکار مشتاق خان انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد فلم اور کامیڈی انڈسٹری میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق مشتاق خان طویل عرصے سے کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور ان کی حالت گزشتہ کچھ عرصے سے تشویش ناک تھی۔ قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں آخری سانس لی۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی ضوابط کے مطالبے پر ٹرمپ کے حامیوں کی ڈاریو امودی پر تنقید تیز
مشتاق خان کے قریبی دوست اور کامیڈین سنیل پال نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ سنیل پال کے مطابق مشتاق خان کافی عرصے سے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کی بیماری آخری مرحلے تک پہنچ چکی تھی۔ ان کا علاج ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں جاری تھا، جہاں انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی۔ مشتاق خان کے انتقال کی خبر نے ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کو صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔ وہ کئی دہائیوں تک ہندی فلموں اور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہے اور مختلف نوعیت کے کرداروں کے ذریعے اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
مشتاق خان کو ۲۰۰۷ء میں ریلیز ہونے والی کامیڈی فلم ’’ویلکم‘‘ میں ادا کیے گئے ’بلو‘ کے کردار سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ فلم میں ان کا مکالمہ ’میری ایک ٹانگ نقلی ہے، میں ہاکی کا بہت بڑا کھلاڑی تھا‘ آج بھی ناظرین اور سوشل میڈیا پر مقبول ہے۔ ان کا کردار فلم کے یادگار مزاحیہ کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مشتاق خان نے’’ویلکم‘‘ کے علاوہ ’’ہم ہیں راہی پیار کے‘‘، ’’جوڑی نمبر ۱‘‘، ’’مجھ سے شادی کروگی‘‘ اور متعدد دیگر فلموں میں کام کیا۔ حالیہ برسوں میں انہیں ’’استری ۲‘‘ میں بھی دیکھا گیا، جس میں ان کی موجودگی نے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔
مشتاق خان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے فلم، ٹیلی ویژن اور کامیڈی سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا۔ ان کے کریئر کا بڑا حصہ معاون کرداروں پر مشتمل رہا، لیکن اپنی اداکاری اور مزاحیہ انداز کے باعث انہوں نے کئی فلموں میں نمایاں اثر چھوڑا۔ اگست ۲۰۲۶ء میں بھی مشتاق خان نے ایک انٹرویو میں اپنے ابتدائی فلمی سفر اور معروف فلمساز مہیش بھٹ تک پہنچنے کی جدوجہد کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اپنے کریئر کے ابتدائی دور میں انہیں فلم انڈسٹری میں مواقع حاصل کرنے کے لیے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:’’اڑتا تیر‘‘ کا ٹریلر جاری، پاکستانی جاسوس کے کردار میں الجھے نظر آئے آیوشمان کھرانہ
۲۰۲۵ء میں مشتاق خان نے ’’ویلکم‘‘ میں اپنی فیس کے حوالے سے بھی ایک حیران کن انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ فلم میں کام کرنے کے باوجود انہیں توقع کے مطابق معاوضہ نہیں ملا تھا اور ان کے مطابق ان کی فیس اکشے کمار کے ذاتی اسٹاف کی تنخواہ سے بھی کم تھی۔ اس انکشاف کے بعد ان کا نام ایک مرتبہ پھر خبروں میں آیا تھا اور مداحوں نے ’’ویلکم‘‘ میں ان کے کردار اور فلم کے لیے ان کی خدمات کو یاد کیا تھا۔ مشتاق خان کی زندگی میں ایک اور افسوسناک واقعہ نومبر ۲۰۲۴ء میں پیش آیا تھا، جب انہیں ایک ایونٹ میں شرکت کے بہانے مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان کے بزنس پارٹنر شیو م یادو نے اس وقت بتایا تھا کہ مشتاق کو میرٹھ میں ایک ایوارڈ شو میں شرکت کے لیے بلایا گیا تھا، ایڈوانس رقم اور فلائٹ ٹکٹ بھی فراہم کیے گئے تھے، لیکن دہلی پہنچنے کے بعد انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر بجنور کے قریب لے جایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق مبینہ اغوا کاروں نے انہیں تقریباً ۱۲ ؍گھنٹے تک قید رکھا اور ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ مشتاق خان نے صبح اذان کی آواز سننے کے بعد موقع پا کر فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد میں اس معاملے میں پولیس کارروائی بھی ہوئی۔
مشتاق خان کے انتقال کے ساتھ ہی ہندی فلم انڈسٹری نے ایک ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس نے کئی دہائیوں تک چھوٹے اور معاون کرداروں کو اپنی منفرد اداکاری سے یادگار بنایا۔ خاص طور پر’ ’ویلکم‘‘ کے ’بلو‘ کے طور پر ان کی شناخت ناظرین کے ذہنوں میں طویل عرصے تک زندہ رہے گی۔