دلیپ کمارکے انداز بیان نے مجھے بہت زیادہ متاثر اور متوجہ کیا

Updated: July 12, 2020, 10:40 AM IST | Abdul Kareem Qasam Ali | Mumbai

’گلابو ستابو‘ میں اداکاری سے سب کو متوجہ کرلینے والی سینئر اداکارہ فرخ جعفر کے مطابق ’’اگر موقع ملتا تو میں دلیپ کمار کے ساتھ ہر فلم میں ان کی ہیروئن بننا پسند کرتی ‘۔ فلم ’سودیس ‘ میں ایک مکالمہ ’برف کا مقدر پانی ہے ‘جو مجھے بہت اچھا لگا تھا اور اس مکالمے کو لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی فرخ جعفر نے اداکیا تھا۔ گزشتہ ماہ امیزون پر ریلیز ہونے والی فلم ’گلابو ستابو ‘ میں بھی انہوں نے فاطمہ بیگم کا کردار اداکیا  اور وہ امیتابھ بچن کی بیوی کے رول میں نظرآئیں۔

F Jaffer
فرخ جعفر

فلم ’سودیس ‘ میں ایک مکالمہ ’برف کا مقدر پانی ہے ‘جو مجھے بہت اچھا لگا تھا اور اس مکالمے کو لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی فرخ جعفر نے اداکیا تھا۔ گزشتہ ماہ امیزون پر ریلیز ہونے والی فلم ’گلابو ستابو ‘ میں بھی انہو ںنے فاطمہ بیگم کا کردار اداکیا  اور وہ امیتابھ بچن کی بیوی کے رول میں نظرآئیں ۔ ۲۰۰۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم میں بھی وہ فاطمہ بی کے کردار میں تھیں اور وہ اس فلم میں بھی فاطمہ بیگم کا کردار اداکررہی ہیں۔ فرخ جعفر نے ۱۹۶۳ء میں ریڈیوکے ووِدھ بھارتی سے اناؤنسر کی حیثیت سے کریئر کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے  فلم ’امراؤ جان ‘ میں ریکھا کی والدہ کا رول نبھایا تھا۔ اس کے بعد وہ ٹی وی شوز کرنے میں مصروف ہوگئیں۔۲۰۰۴ء میں ریلیز ہونے والی   شاہ رخ خان کی فلم ’سودیس ‘میں پنچایت کی رکن کا رول نبھایا تھا۔ عامر خان کی فلم ’پیپلی لائیو ‘ سے انہیں زبردست شناخت ملی اور شہرت ملی تھی۔ انہیں فلمی شائقین نے پردے پر بڑی دلچسپی سے دیکھنا شروع کیا۔ ’پیپلی لائیو ‘ میں ان کے مکالمے زبردست تھے۔یاد رہے کہ  ان کے مکالمو ں کی وجہ ہی سے ہدایتکارمظفر علی نے انہیں امراؤ جان میں موقع دیا تھا۔فرخ جعفر نے فلم ’سلطان ‘ میں  سلمان خان کی دادی کا رول بھی نبھایا تھا۔ اس طرح انہو ںنے بالی ووڈ کے سبھی خان صاحبان کے ساتھ کام کیاہے۔ عامر کی خان ایک اور فلم ’سکریٹ سپراسٹار‘ میں بھی وہ نظر آئی تھیں۔ وہ ا ب بھی مسلسل کام کررہی ہیں اور انہوںنے پرانے لکھنؤ اورنئے لکھنؤ دونوں کو دیکھا ہے۔ نمائندہ انقلاب نے لکھنؤ میں مقیم ۸۷؍سالہ فرخ جعفر سے ان کی بیٹی مہرو جعفر کے توسط سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
س:آپ دلیپ کمار کی مداح کیوں ہیں؟ 
ج:سبھی کو معلوم ہے کہ دلیپ کمار شہنشاہ جذبات ہیں اور ہر کوئی ان سے محبت کرتا ہے۔ لیکن مجھے ان کا اندازِ بیان بہت پسندہیں۔ جس انداز سے وہ گفتگو کرتے ہیں کوئی بھی ان کا قائل او ر مداح بن جائے۔ وہ میرے پسندیدہ اداکار ہیں اور میں ان کی گفتگو سے بہت متاثر ہوں۔ میرے لئے ان کی اداکاری تو بعد کی بات ہے۔ جب میں انہیں سنتی ہوں تو انہیں سننے کا ہی دل کرتاہے۔ 
س:اگر آپ کو کبھی ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا توکون سی فلم میں ہیروئن بننا پسند کرتیں؟ 
ج: میں نے ان کی سبھی فلمیں دیکھی ہیںاور انہیں دیکھتے وقت صرف اس بات کا افسو س ہوتاہے کہ میں ان کی ہیروئن نہیں بن پائی۔ اگر کبھی مجھے دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا تو میں ان کے ساتھ سبھی فلموں میں کام کرنا چاہتی۔ میں ان کی اتنی بڑی مداح ہوں کہ میرے لئے ان کی ہر فلم خاص ہے اور میں ان کے سامنے سبھی فلموں میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہوں ۔ 
س:دلیپ کمار سے ملاقات کی خواہش ہے یا کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہے ؟ 
ج: میری یہ دلی تمنا اب تک پوری نہیں ہوئی ہے حالانکہ مدت سے میری خواہش ہے کہ میں ان سے ملاقات کروں لیکن ممبئی جانے پر بھی ان سے ملاقات نہیں ہوپاتی۔ پتہ نہیں میری یہ خواہش کب پوری ہوگی اور میں کب اپنے پسندیدہ اداکار سے ملاقات کروں گی۔ 
س:آپ نے تینوں خان صاحبان کے ساتھ کام کیا ہے ، ان میں سے کون آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ 
ج:  عامر خان مجھے بہت زیادہ پسند ہیں کیونکہ پیپلی لائیو بھی میں نے ان کی وجہ ہی سے کی تھی۔ عامرخان مجھ سے بہت محبت اور والہانہ انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ جب میں ممبئی جاتی ہوں تو وہ مجھ سے ملاقات کرتے ہیں اور میرا زبردست استقبال کرتے ہیں۔ پیپلی لائیو کے بعد انہو ںنے مجھے اپنی ایک اور فلم سکریٹ سپراسٹار میں بھی رول دیا تھا۔ عامر خان اکثر کہتے ہیں کہ مجھ میں انہیں اپنی والدہ نظرآتی ہیں۔ عامر خان سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ بھی بہت شریف آدمی ہیں اس لئے تینوں خان میں میں انہیں زیادہ پسند کرتی ہوں ۔ سلمان خان سے  سلطان کے دوران تھوڑی اچھی بات ہوئی تھی اور جب میں انہیں شادی کی دعا دیتی تو وہ کہتے کہ  ایسی دعائیں نہ   دیجئے  کیونکہ بزرگوں کی دعائیں قبول ہوجاتی ہیں۔     
س:اتنی عمر ہوجانےکے باوجودبھی فلموں میں سرگرم ہیں ،کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کی ؟
ج: مجھے بہت اچھا لگتاہے کہ ۸۷؍برس کی عمر میں بھی مجھے اچھی فلموں کی پیشکش ہورہی ہے۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں ایسی فلموں میں کام کررہی ہیں جن میں میرے لئے اچھے رول ہیں۔ میں نے اپنے اس سفر میں کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کی ہے ۔لاک ڈاؤن سے پہلے بھی میں نے ۲؍فلموں کی شوٹنگ مکمل کی تھی لیکن اس لاک ڈاؤن میں میرے ہاتھوں سےدو فلمیں نکل گئیں۔بہرحال مجھے اب بھی فلموں کی پیشکش ہوتی رہتی  ہے۔ 
س:پرانے اور نئے لکھنؤمیںکیا تبدیلی محسوس کرتی ہیں؟
 ج: ایسے تو دونوں زمانے کے لکھنؤ میں کوئی خراب تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تہذیبی معاملات میں نیا لکھنؤ ، پرانے لکھنؤ سے بہتر نہیں ہے۔ نئے لکھنؤ میں تہذیبی گراوٹ نہیں آئی ہے۔پرانے لکھنؤ کے مقابلے اب شہر میں آبادی زیادہ ہے۔ پہلے خالی خالی نظر آتا ہے لیکن اب نوابوں کے شہر میں زیادہ بھیڑ ہوگئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK