نیویارک پبلک لائبریری میں محفوظ عثمانی دور کے قرآن کا انتخاب کرکے ممدانی نے اپنے ذاتی عقیدے اور ایک وسیع تر شہری پیغام دونوں پر زور دیا ہے اور نیویارک کی متنوع تاریخ کو اس کے موجودہ سیاسی لمحے سے جوڑ دیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 10:00 PM IST | New York
نیویارک پبلک لائبریری میں محفوظ عثمانی دور کے قرآن کا انتخاب کرکے ممدانی نے اپنے ذاتی عقیدے اور ایک وسیع تر شہری پیغام دونوں پر زور دیا ہے اور نیویارک کی متنوع تاریخ کو اس کے موجودہ سیاسی لمحے سے جوڑ دیا ہے۔
نیویارک شہر کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا حلف قرآن مجید کے ایک ایسے نسخے پر لیا، جسے ۱۸؍ ویں صدی کے عثمانی دور کے شام (Syria) میں نقل کیا گیا تھا۔ یہ نسخہ اب نیویارک پبلک لائبریری میں محفوظ ہے۔ بدھ کے دن دیئے گئے ایک بیان میں ممدانی نے کہا کہ قرآن مجید کا یہ سیاہ سیاہی سے لکھا گیا ہے جس میں متن کی تقسیم کیلئے سرخ نشانات استعمال کئے گئے ہیں۔ اس میں کوئی پُرتکلف آرائش نہیں کی گئی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسے کسی شاہی فرد کے بجائے عام قاری کے استعمال کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ نسخہ عثمانیہ دور کے شام میں نقل کیا گیا تھا اور اب یہ ہمارے شہر کے اگلے باب کے حصے کے طور پر تمام نیویارک والوں کی ملکیت ہے۔“ ایک پبلک لائبریری میں محفوظ عثمانی دور کے قرآن کا انتخاب کرکے ممدانی نے اپنے ذاتی عقیدے اور ایک وسیع تر شہری پیغام دونوں پر زور دیا ہے اور نیویارک کی متنوع تاریخ کو اس کے موجودہ سیاسی لمحے سے جوڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کا عملی اقدام، پل کے متنازع ’ابھار‘ کی مرمت کی
قرآن مجید کا یہ قلمی نسخہ کبھی آرتورو شومبرگ کی ملکیت تھا۔ شومبرگ، پورٹو ریکو میں پیدا ہونے والے ایک سیاہ فام اسکالر اور مؤرخ تھے۔ انہیں افریقی تاریخ کی نایاب چیزیں جمع کرنے کا شوق تھا۔ شومبرگ نے ۱۹۲۶ء میں تقریباً ۴ ہزار کتابوں اور نسخوں پر مشتمل اپنا مجموعہ نیویارک پبلک لائبریری کو فروخت کردیا تھا، جس کے بعد اس مرکز کی بنیاد رکھی گئی جسے آج ’شومبرگ سینٹر فار ریسرچ ان بلیک کلچر‘ کہا جاتا ہے۔
لائبریری کے مطابق، شومبرگ ’لاس ڈوس اینٹیلاس‘ (Las Dos Antillas) نامی نوآبادیاتی مخالف تنظیم کے شریک بانی بھی تھے۔ یہ تنظیم کیوبا اور پورٹو ریکو کی آزادی کی وکالت کرتی تھی۔ نیویارک پبلک لائبریری کے صدر اور سی ای او انتھونی ڈبلیو مارکس نے کہا کہ قرآن مجید کا یہ نسخہ ”شمولیت، نمائندگی اور شہری شعور کی عظیم داستان کی علامت ہے۔“ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ نسخہ اب لائبریری کی مرکزی برانچ میں عوام کیلئے دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کا دفتر میں پہلا دن، ان کا لباس بہت کچھ بیان کرتا ہے
یاد رہے کہ ممدانی نے گزشتہ ہفتے سٹی ہال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران نیویارک شہر کے ۱۱۲ ویں میئر کے طور پر حلف لیا۔ وہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی بن گئے ہیں۔ ۳۴ سال کی عمر میں، وہ کئی نسلوں میں سب سے کم عمر میئر اور نیویارک شہر کے پہلے ایسے میئر بھی ہیں جو افریقہ میں پیدا ہوئے۔ ممدانی کمپالا، یوگانڈا میں ہند نژاد مہاجر والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ۴ نومبر کو ہونے والے میئر الیکشن میں نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا کو شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند ونگ کیلئے ایک اہم فتح حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کی پہلی تقریر، ٹرمپ پر تنقید، قرآن مجید کے ۳؍ نسخوں پر حلف کیوں؟
ممدانی پہلی بار ۲۰۲۰ء میں نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کی نشست جیتنے کے بعد منظرِ عام پر آئے تھے جب انہوں نے کوئینس (Queens) کی نمائندگی کی۔ ان کی انتخابی مہم کی توجہ زیادہ تر قابل برداشت اخراجات والی زندگی اور سماجی مساوات پر مرکوز رہی۔ انہوں نے مفت پبلک بسوں، مفت یونیورسل چائلڈ کیئر، سٹی ہال کے زیرِ انتظام گروسری اسٹورز، کرایوں میں استحکام اور ۲۰۳۰ء تک کم از کم اجرت ۳۰ ڈالر فی گھنٹہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔