Updated: February 13, 2026, 3:01 PM IST
| New Delhi
صحافی روی نائر کو اڈانی انٹرپرائزیز کی جانب سے دائر فوجداری ہتک عزت مقدمے میں ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ فیصلے پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) سمیت متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔
صحافی روی نائر۔ تصویر: ایکس
ہندوستان میں آزادیٔ صحافت سے متعلق ایک اہم پیش رفت میں گجرات کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے صحافی روی نائر کو فوجداری ہتک عزت کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ مقدمہ اڈانی انٹرپرائزیز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ نائر کی سوشل میڈیا پوسٹس اور تحریروں سے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ رپورٹس کے مطابق مقدمہ ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ء کے دوران شائع ہونے والے مواد سے متعلق تھا، جس میں کارپوریٹ سرگرمیوں اور مبینہ مالی معاملات پر تنقیدی تبصرے شامل تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مذکورہ مواد ہتک عزت کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے کمپنی کی شہرت متاثر ہوئی۔ عدالت نے نائر کو ایک سال سادہ قید کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا۔ قانونی ذرائع کے مطابق انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: میونسپل اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن کی تشکیل کیلئے پیش رفت
اس فیصلے کے فوراً بعد صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ سی پی جے نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری ہتک عزت کے قوانین کا استعمال صحافیوں کے خلاف کیا جانا تشویشناک ہے اور اس سے تحقیقی رپورٹنگ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے ہندوستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے قوانین پر نظرثانی کریں جو آزادیٔ اظہار کو محدود کر سکتے ہیں۔ دیگر پریس باڈیز اور صحافتی یونینوں نے بھی سزا کو غیر متناسب قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ اداروں کی جانب سے فوجداری دفعات کا سہارا لینا ایک ایسا رجحان بن سکتا ہے جو تنقیدی صحافت کو دبانے کا باعث ہو۔ بعض ماہرین کے مطابق ہتک عزت کے معاملات کو دیوانی (سول) دائرہ کار میں رکھا جانا چاہیے، نہ کہ فوجداری سزاؤں کے ذریعے نمٹایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: اویسی نے پارلیمنٹ میں حکومت کو آئینہ دکھایا
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی قانون میں فوجداری ہتک عزت کی دفعات موجود ہیں اور عدالت نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری موقف میں کہا گیا کہ کسی بھی ادارے کی ساکھ کا تحفظ قانونی حق ہے اور عدالت کا فیصلہ اسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ملک میں ہتک عزت کا قانون طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ سپریم کورٹ ماضی میں اس قانون کی آئینی حیثیت برقرار رکھ چکی ہے، تاہم آزادیٔ صحافت کے حامی حلقے اسے اظہارِ رائے کے حق پر قدغن سمجھتے ہیں۔ حالیہ فیصلہ اسی وسیع تر بحث کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔ روی نائر نے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر مختصر پیغام جاری کیا اور قانونی چارہ جوئی جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ ان کے وکلا کے مطابق وہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے اور فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔