Updated: February 28, 2026, 7:27 PM IST
| Mumbai
رومانوی بقا کی تھریلر ’’تو یا میں‘‘ باکس آفس پر ناکام رہی، جس کے بعد اداکار آدرش گورو نے ناظرین کے رجحان پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا کے بعد لوگ صرف بڑی ٹکٹ والی فلموں کے لیے سنیما گھروں کا رخ کرتے ہیں، جس سے چھوٹے اور درمیانی بجٹ کی فلمیں متاثر ہو رہی ہیں۔
آدرش گورو ۔ تصویر: آئی این این۔
آدرش گورو اور شنایا کپور کی فلم ’’تو یا میں‘‘ کو ناقدین کی جانب سے متوازن جائزے ملے، مگر فلم تھیٹرز میں ناظرین کو متوجہ نہ کر سکی۔ عالمی سطح پر فلم نے تقریباً ۸ء۶؍ کروڑ روپے کمائے۔ یہ فلم ۲۰۱۸ء کی تھائی فلم ’’دی پول‘‘ کا آفیشل ریمیک تھی جس کے ہدایتکار بیجوئے نامبیار ہیں۔ زوم ٹی وی سے گفتگو میں آدرش گورو نے کہا کہ ’’چھوٹی فلموں کو یہ دکھانے کا موقع دیا جانا چاہیے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ لوگ چھوٹی کمرشیل فلمیں دیکھیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وبا کے بعد ناظرین کا رجحان بدل چکا ہے ’’لوگ صرف بڑی ٹکٹ والی فلموں کے لیے جا رہے ہیں۔ وہ ’’اینیمل‘‘، ’’بارڈر ۲‘‘ یا ’’دھرندھر‘‘ جیسی فلمیں چاہتے ہیں۔‘‘
(نوٹ: اداکار نے بطور مثال بڑی فلموں کا حوالہ دیا۔)
یہ بھی پڑھئے: تباہی:فلم ’’ ٹاکسک‘‘ کا پہلا گیت ۲؍ مارچ کو ریلیز ہوگا
ان کا مؤقف تھا کہ اگر ناظرین درمیانی اور چھوٹے بجٹ کی فلموں کو نظرانداز کرتے رہے تو نئی کہانیاں اور نئے چہرے جگہ نہیں بنا سکیں گے۔ آدرش نے مزید کہا کہ ’’مجھ جیسے اداکار کہاں جائیں گے؟ نئے اداکار کہاں جائیں گے؟ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بھی اب اسی طرح کی سوچ ہے۔‘‘ ان کے مطابق، جن لوگوں نے فلم دیکھی، ان میں سے اکثر کا ابتدائی تاثر منفی تھا، مگر دیکھنے کے بعد رائے بدل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ دی کیرالا اسٹوری۲‘‘ ریلیز پر سے پابندی ہٹائی گئی
خیال رہے کہ وبا کے بعد ہندوستانی سنیما میں ایک واضح رجحان سامنے آیا ہے جہاں بڑے بجٹ، بڑے ستاروں اور وسیع پیمانے کی مارکیٹنگ والی فلمیں باکس آفس پر حاوی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ مواد پر مبنی چھوٹی فلمیں نمائش اور اسکرینز کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ آدرش گورو کا بیان اسی وسیع بحث کا حصہ ہے جس میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سنیما ہال اب صرف ایونٹ فلموں تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔