Updated: May 08, 2026, 8:08 PM IST
| Jaipur
راجستھان ہائی کورٹ نے پولیس کو گرفتار افراد کی’’ تذلیل‘‘ کرنے، سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوشیئر کرنے کے خلاف ہدایات جاری کیں، جسٹس فرزند علی نے مشاہدہ کیا کہ ایسے طریقے قانون کے تحت تسلیم شدہ ’’ماورائے قانون سزا‘‘ کے مترادف ہیں اور بریت کے قیاس کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
راجستھان ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
لائیو لاء کی خبر کے مطابق راجستھان ہائی کورٹ نے گرفتار افراد کی عوامی تذلیل روکنے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جسٹس فرزند علی نے مشاہدہ کیا کہ ایسے طریقے قانون کے تحت تسلیم شدہ ’’ماورائے قانون سزا‘‘ کے مترادف ہیں اور بریت کے قیاس کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔عدالت نے اسے ’’پولیس کی طرف سے میڈیا ٹرائل‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی پریس کانفرنسوں، اسٹیج کی گئی تصاویر اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پرواز میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے، مہوا موئترا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا
واضح رہے کہ یہ مشاہدات ایک مجرمانہ مقدمے میں ملزمان کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران سامنے آئے، جنہوں نے الزام لگایا کہ گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا گیا، ان کی تذلیل آمیز حالت میں تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں، اور پھر انہیں پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شیئر کیا گیا۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات آئین کے آرٹیکل ۱۴؍، ۲۱؍ اور ۲۲؍ کے تحت ان کے وقار، ساکھ اور منصفانہ مقدمے کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔اس معاملے میں امیکس کیوری نے استدلال کیا کہ گرفتار افراد کو عوام میں گھسیٹنا، انہیں ننگا کرنا اور ایسی تصاویر گردش کرنا ادارہ جاتی تذلیل اور نفسیاتی تشدد کے مترادف ہے، جس سے افراد کی ساکھ کو مستقل نقصان پہنچتا ہے چاہے بعد میں وہ بری ہی کیوں نہ ہوں۔
بعد ازاں سماعت کے دوران، عدالت نے پولیس حکام کی طرف سے پیش کردہ تعمیل رپورٹس اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) کا جائزہ لیا، جن میں گرفتار افراد کی تصاویر اور ویڈیوز کی گردش پر پابندی تھی اور حراست میں موجود افراد کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ہائی کورٹ نے زور دیا کہ پولیس عدلیہ کا کردار نہیں ادا کر سکتی۔عدالت نے مزید خبردار کیا کہ گرفتار افراد کے مستقل ڈیجیٹل ریکارڈ بنانا اور گردش کرنا ناقابل تلافی نفسیاتی نقصان اور سماجی شرمندگی کا سبب بن سکتا ہے۔عدالت نے بالآخر ہنما اصول پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی، گرفتار افراد کی عوامی گھسیٹ اور سوشل میڈیا مذمت پر پابندی لگائی، اور حکم دیا کہ تھانوں میں آنے والے تمام افراد کے بنیادی انسانی حقوق اور وقار کی ہر وقت حفاظت کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: خاتون آئی پی ایس افسر کا خفیہ آپریشن، سادہ لباس میں سڑک پر نکلیں
واضح رہے کہ یہ ہدایات راجستھان میں پولیس کے ان طریقوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان سامنے آئی ہیں جن میں گرفتار افراد کو گھسیٹنے، جبری اعتراف کروانے اور سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز گردش کرکے ان کی عوامی تذلیل کی جاتی ہے۔جیسلمیر ضلع کے گاؤں بسں پیر جونی کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے گرفتار افراد بشمول خواتین اور کنواری لڑکیوں کو تھانوں کے دروازوں پر ذلیل حالت میں بٹھایا، ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، اور پھر انہیں آفیشل پولیس سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مقامی میڈیا کے ذریعے گردش کیا۔تاہم عدالت نے اس عمل کو ’’ادارہ جاتی تذلیل‘‘اور ’’ماورائے قانون سزا‘‘ قرار دیتے ہوئے آرٹیکل۲۱؍ کے تحت ضمانت کردہ وقار کی خلاف ورزی قرار دیا۔چنانچہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں وکیل موہن سنگھ رتنو کے معاملے میں بھی مداخلت کرتے ہوئے جودھ پور پولیس کمشنر کو وکیل کی تصاویر ہٹانے کی ہدایت کی جو ان کی گرفتاری کے بعد وسیع پیمانے پر آن لائن گردش کر رہی تھیں۔