Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوکیش کا جذباتی جشن شطرنج کی دنیا میں توجہ کا مرکز بنا

Updated: May 08, 2026, 9:08 PM IST | New Delhi

ڈی گوکیش شطرنج کے بورڈ پر اپنے پرسکون چہرے اور غیر معمولی تحمل کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولینڈ میں منعقدہ گرینڈ چیس ٹور سپر ریپڈ اینڈ بلٹز ۲۰۲۶ء میں جاووخیر سندھاروف کو شکست دینے کے بعد ان کا جذباتی جشن شطرنج کی دنیا میں فوری توجہ کا مرکز بن گیا۔

Gukesh.Photo:INN
ڈی گوکیش۔ تصویر:آئی این این

ڈی گوکیش شطرنج کے بورڈ پر اپنے پرسکون چہرے اور غیر معمولی تحمل کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولینڈ میں منعقدہ گرینڈ چیس ٹور سپر ریپڈ اینڈ بلٹز ۲۰۲۶ء میں جاووخیر سندھاروف کو شکست دینے کے بعد ان کا جذباتی جشن شطرنج کی دنیا میں فوری توجہ کا مرکز بن گیا۔


ہندوستانی گرینڈ ماسٹر عام طور پر کھیل کے دوران اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتے، لیکن ازبک نوجوان کھلاڑی کے خلاف فتح یقینی بنانے کے فوراً بعد گوکیش نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے مکا ہوا میں لہرایا، جو اس بات کی ایک نایاب جھلک تھی کہ یہ جیت ان کے لیے کتنی اہم تھی۔ اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ عالمی چمپئن شپ کے لیے اس سال کے آخر میں سندھاروف کو گوکیش کے حریف کے طور پر سامنے آنے کے بعد یہ دونوں کھلاڑی پہلی بار آمنے سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کردیا


یہ نتیجہ گوکیش کے لیے ایک اہم وقت پر بھی آیا۔ موجودہ عالمی چیمپئن نے حال ہی میں اپنی عالمی ٹائٹل کے دفاع کی تیاری اور فارم بحال کرنے کے لیے گرینڈ چیس ٹور کے مرکزی مقابلوں سے کچھ وقت کے لیے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ پچھلے راؤنڈ میں پولینڈ کے رادوسواف وویتاشیک کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کے بعد ان کی فارم پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ دوسری جانب سندھاروف بھی ٹورنامنٹ لیڈر ویسلی سو کے خلاف شکست کھا کر اس مقابلے میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن اپنے مستقبل کے عالمی ٹائٹل حریف کے خلاف گوکیش مکمل طور پر پراعتماد دکھائی دیے۔کالے مہروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہندوستانی کھلاڑی نے کاروکان دفاع اختیار کیا اور سندھاروف کی غیر روایتی حکمت عملی کے بعد ایک تیز اور پیچیدہ پوزیشن میں اعتماد کے ساتھ داخل ہوئے۔یہ جارحانہ انداز گوکیش کے لیے بالکل موزوں ثابت ہوا۔ درمیانی کھیل کے دوران ہندوستانی کھلاڑی نے بتدریج کنٹرول حاصل کیا، ایک پیادہ جیتا اور پھر سندھاروف کے خطرناک حملہ آور انداز کا فائدہ اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے:تفریح کی دنیا میں انفلوئنسرز کا کریئر طویل مدتی نہیں ہے: رابرٹ ڈاؤنی جونیئر


دباؤ آہستہ آہستہ مکمل طور پر ازبک گرینڈ ماسٹر پر منتقل ہو گیا۔ گوکیش نے پرسکون انداز میں حملہ برداشت کیا، مزید مہرے حاصل کیے اور وزیر کے تبادلے کے بعد کھیل کو آسان بنا دیا۔ اس کے بعد نتیجے پر کبھی شک نہیں ہوا کیونکہ ہندوستانی کھلاڑی نے ۵۲؍ چالوں میں اپنی برتری کو شاندار انداز سے فتح میں بدل دیا۔ اختتام پر کیا گیا جذباتی مکے کا اشارہ شاید الفاظ سے زیادہ کچھ بیان کر گیا۔ یہ گوکیش کے لیے صرف ایک اور ٹورنامنٹ جیت نہیں تھی بلکہ اس کھلاڑی کے خلاف ایک ابتدائی نفسیاتی پیغام تھا جو اس سال کے آخر میں ان کا عالمی تاج چھیننے کی امید رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK