Inquilab Logo Happiest Places to Work

آدتیہ نارائن نے بچپن میں اتنا کام کیا کہ انہیں انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا

Updated: August 09, 2026, 12:17 PM IST | Mumbai

آدتیہ نارائن ایک ایسے شخص ہیں جو چائلڈ سنگر کے طور پر مشہور ہیں۔ انہوں نے بچپن میں ۱۰۰؍ سے زیادہ گیت گائے ہیں۔ فلم’معصوم‘ کا گیت’چھوٹا بچہ جان کے‘ بے حد مقبول ہوا، جو آج ان کی شناخت بن چکا ہے۔

Aditya Narayan. Photo: INN
آدتیہ نارائن۔ تصویر: آئی این این

کچھ لوگ چائلڈ ایکٹر کے طور پر مشہور ہوتے ہیں لیکن آدتیہ نارائن ایک ایسے شخص ہیں جو چائلڈ سنگر کے طور پر مشہور ہیں۔ انہوں نے بچپن میں ۱۰۰؍ سے زیادہ گیت گائے ہیں۔ فلم’معصوم‘ کا گیت’چھوٹا بچہ جان کے‘ بے حد مقبول ہوا، جو آج ان کی شناخت بن چکا ہے۔ انہوں نے ۱۹۹۲ء میں نیپالی فلم ’موہنی‘ کے لیے اپنا پہلا گانا گایا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۹۵ءمیں فلم ’اکیلے ہم اکیلے تم‘ میں پہلی مرتبہ اپنے والد ادت نارائن کے ساتھ گانے کا موقع ملا۔ ان کی آواز لوگوں کو پسند آنے لگی اور رفتہ رفتہ فلموں کی پیشکشیں بھی ملنے لگیں۔ ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے فلم ’پردیس‘ میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کرنے کا موقع دیا۔ اس کے بعد وہ ’جب پیار کسی سے ہوتا ہے‘ جیسی فلموں میں بھی نظر آئے۔ اس کے علاوہ وہ سلمان خان اور ٹوئنکل کھنہ کی فلم ’جب پیار کسی سے ہوتا ہے‘ میں بھی نظر آئے تھے۔ اس فلم میں انہوں نے سلمان خان کے بیٹے کا کردار ادا کیا تھا۔ کبیر دھنراج گیر کے کردار میں ان کے کام کو ناظرین نے بے حد پسند کیا اور ان کی اداکاری کی خاصی تعریف ہوئی۔ ایک پوڈکاسٹ میں آدتیہ نےاپنے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری ہی میں ان کی آمدنی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ انہیں صرف۷؍برس کی عمر میں انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس وقت انہیں نہ پیسوں کی زیادہ سمجھ تھی اور نہ ہی ٹیکس کے نظام کا کوئی خاص علم تھا۔ تاہم بڑے ہونے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اتنی کم عمر میں اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانا اپنے آپ میں کتنی اہم بات تھی۔ آدتیہ نارائن کا بچپن عام بچوں سے اس لحاظ سے بالکل مختلف تھا کہ جب ان کے ہم عمر بچے کھیل کود اور اسکول کی سرگرمیوں میں مصروف تھے، وہ اسٹیج اور فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ موسیقی انہیں ورثے میں ضرور ملی تھی، لیکن اس ورثے کو اپنی صلاحیت میں تبدیل کرنا ان کی اپنی محنت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں حاصل ہونے والی شہرت نے آگے چل کر ان کے لیے ٹیلی ویژن، گلوکاری اور میزبانی کے میدان میں بھی کئی دروازے کھولے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK