Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ملت کے تئیں دل دردمند رکھنے والی شخصیت تھے ڈاکٹر جاوید شاہجہاں‘‘

Updated: August 09, 2026, 12:56 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کا انتقال اس صنعتی اور ادبی شہر کیلئے ایک سانحہ ہے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر معالج تھے بلکہ شہر کے سماجی اور ملی مسائل پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت کے طور پر بھی اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔

Dr. Javed Shahjahan. Photo: INN
ڈاکٹر جاوید شاہجہاں۔ تصویر: آئی این این

ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کا انتقال اس صنعتی اور ادبی شہر کیلئے ایک سانحہ ہے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر معالج تھے بلکہ شہر کے سماجی اور ملی مسائل پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت کے طور پر بھی اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔ ان کے انتقال پر شہر کی متعدد شخصیات نے اپنے تاثرات کا اظہار اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ 
معروف شاعر، استاد اور کئی کتابوں کے مصنف عبدالملک مومن نے ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کو ایک حوصلہ مند انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی یو ایم ایس کی ڈگری کو ممبئی یونیورسٹی سے منظور کرانے کیلئے ڈاکٹر صاحب کی جدوجہد اور کوششیں ناقابلِ فراموش ہیں، جس کا فائدہ آج پوری قوم کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید شاہجہاں اس قدر مخلص اور دوست نواز انسان تھے کہ کالج چھوڑنے کے برسوں بعد بھی اپنے کالج کے دوستوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ وہ دردمند دل کے مالک تھے اور ہمیشہ ملت کے مسائل اور اس کے مستقبل کی فکر کیا کرتے تھے۔ 
رئیس ہائی اسکول و جونیئر کالج کے سربراہ ضیاء الرحمٰن انصاری نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید شاہجہاں سے ان کے تعلقات اتنے ہی پرانے ہیں جتنا ان کا بھیونڈی شہر سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی آنے کے بعد ملت کے لیے فکر مند اور مضطرب شخصیات سے شناسائی ہوئی، ان میں ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کا نام بہت خاص ہے۔ ان کے بقول: ’’ڈاکٹر جاوید شاہجہاں ملت سے کچھ خفا خفا، لیکن ملت کیلئے بے حد فکرمند رہتے تھے۔ ان کی شخصیت ’’گرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو‘‘ کی عملی تصویر تھی۔ ضیاء الرحمٰن انصاری نے کہا کہ خفا ہونے کا حق اسی کو ہے جو خفگی کا سبب دور کرنے کی کوشش بھی کرے، اور گرم دمِ گفتگو ہونے کا حق بھی اسی کو ہے جو گرم دمِ جستجو ہوکر اپنا حق ادا کرے۔ ڈاکٹر جاوید شاہجہاں ایسے ہی انسان تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا سے نیرول میں ڈی وائی پاٹل اسپتال تک مفت بس سروس برسوں سے جاری

سابق رکن اسمبلی عبدالرشید طاہر مومن نے ڈاکٹر جاوید شاہجہاں سے اپنے دیرینہ خاندانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بڑے بھائی ریاض طاہر ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کے بچپن کے ساتھی تھے، اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب ان کے خاندان کے فرد کی طرح تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید شاہجہاں نہایت مخلص، خوش اخلاق اور تعلقات نبھانے والے انسان تھے۔ 
عبدالرشید طاہر مومن کے بقول ڈاکٹر جاوید شاہجہاں کو بھیونڈی شہر کی تعمیر و ترقی اور مستقبل کی ہمیشہ فکر رہتی تھی۔ وہ شہر میں باصلاحیت اور دوراندیش سیاسی قیادت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ بھیونڈی کو ایسی قیادت میسر آئے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر شہر کی ترقی اور بہتر مستقبل کیلئے کام کرے۔ 
مرحوم کے قریبی دوست اور پیشہ ورانہ ساتھی ڈاکٹر مصدق پٹیل نے ان کی خدمات اور یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ جاوید شاہجہاں ان کے انتہائی قریبی اور جگری دوست تھے۔ ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت صاف گوئی، بے باکی اور خوش اخلاقی تھی۔ وہ ہر طبقے کے لوگوں سے گھل مل جاتے تھے اور سب کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات تھے۔ 
ڈی ایچ ایم ایس کو بی یو ایم ایس کے مساوی حیثیت دلانے اور طبیہ کالج کا ممبئی یونیورسٹی سے الحاق کرانے کی جدوجہد میں ڈاکٹر جاوید شاہجہاں نے نمایاں اور کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ اس تحریک میں ڈاکٹر ریحان انصاری و دیگر افراد اور طلبہ بھی شریک تھے، تاہم جاوید شاہجہاں اس کوشش میں پیش پیش رہے۔ آج بی یو ایم ایس کی جو نسل سامنے آ رہی ہے، اس کے پیچھے ان کی جدوجہد اور خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK