Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: ٹورینٹ پاور کمپنی کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا مطالبہ

Updated: August 09, 2026, 12:57 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

’بھیونڈی کر نیائے منچ‘ کا ’ٹورینٹ گو بیک‘ تحریک کا اعلان، ۳۱؍اگست سے غیر معینہ مدت کی چکری بھوک ہڑتال کی دھمکی۔

Shadab Usmani, convener of `Bhiwandi Kar Nyay Manch`, can be seen at the press conference announcing the `Torrent Go Back` movement, along with Suresh Rajya Tote, Hamza Siddiqui, Zahid Mukhtar and other office bearers and workers. Photo: INN
ٹورینٹ گو بیک‘ تحریک کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں ’ بھیونڈی کر نیائے منچ‘ کے کنوینر شاداب عثمانی، ساتھ میں سریش راجیا ٹوٹے، حمزہ صدیقی، زاہد مختار اور دیگر عہدیداران و کارکنان دیکھے جا سکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

بجلی کی تقسیم کا نظام سنبھالنے والی ٹورینٹ پاور کمپنی کی فرنچائز کے خلاف ایک بار پھر آواز بلند ہوئی ہے۔ ’بھیونڈی کر نیائے منچ‘ نے جنوری ۲۰۲۷ءمیں فرنچائز کی مدت مکمل ہونے کے بعد معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ’ٹورینٹ گو بیک‘ تحریک کا اعلان کیا ہے۔ منچ نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر جلد مثبت فیصلہ نہیں کیا تو ۳۱؍ اگست سے پرانت آفس کے سامنے غیر معینہ مدت کی چکری بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔ 
اس سلسلے میں صنوبر ہال میں منچ کے کنوینر شاداب عثمانی کی قیادت میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تحریک کے پروگرام اور مطالبات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ شاداب عثمانی نے بتایا کہ مہاراشٹر حکومت نے ۲۰۰۷ء میں بھیونڈی شہر اور دیہی علاقے میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ داری ٹورینٹ پاور لمیٹڈ کو فرنچائز کے طور پر سونپی تھی، جس کا دوسرا دور جنوری ۲۰۲۷ء میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے دیگر شہروں میں شہریوں اور عوامی نمائندوں کی مخالفت کے بعد فرنچائز نظام ختم کیا جا چکا ہے جبکہ بھیونڈی میں مسلسل شکایات کے باوجود یہ انتظام برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپتالوں میں او پی ڈی بند، مریضوں کو دشواریاں

شفاف ٹینڈر اور عوامی سماعت کا مطالبہ 
منچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ فرنچائز معاہدہ ختم ہونے کے بعد اس کی مزید توسیع نہ کی جائے اور شفاف ٹینڈر کے ذریعے اہل بجلی تقسیم کار کمپنی کا انتخاب کیا جائے۔ نئی ٹینڈر کارروائی سے قبل عوامی سماعت، عوامی اطلاع اور شہریوں سے اعتراضات و تجاویز طلب کرنے کا عمل بھی مکمل کرنے کی مانگ کی گئی ہے تاکہ مستقبل کے بجلی تقسیم نظام میں صارفین کی رائے شامل ہو۔ 
مقامی سطح پر شکایات کے ازالے کا نظام قائم کرنے پر زور
بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور نجی بجلی تقسیم کار کمپنی کی نگرانی کے لئے بھیونڈی میں ایم ای آر سی اور ایم ایس ای ڈی سی ایل کے نوڈل دفاتر قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ صارفین کو شکایات کے حل کے لئے بار بار دور دراز دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے شہر میں ہی مؤثر شکایتی نظام دستیاب ہو۔ 
۳۱؍ اگست سے چکری بھوک ہڑتال 
شاداب عثمانی نے اعلان کیا کہ مطالبات پر فوری اور مثبت فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ۳۱؍اگست ۲۰۲۶ءسے پرانت آفیسر دفتر، بھیونڈی کے سامنے غیر معینہ مدت کی چکری بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک پُرامن، جمہوری اور آئینی طریقے سے چلائی جائے گی۔ پریس کانفرنس میں سریش راجیا ٹوٹے، حمزہ صدیقی، زاہد مختار، فرید خان، شاداب خان اور حمید شیخ سمیت دیگر افراد موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK