• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۵؍ سال کی قیدو بند کے بعد ۶؍ مسلم نوجوان دہلی فساد کے کیس سے بری

Updated: November 29, 2025, 12:58 PM IST | New Delhi

جمعیۃ کی کامیاب پیروی، اہل خانہ میں خوشی کی لہر مگر سوال کیا کہ کیا بے قصوروں کی زندگیاں برباد کرنےوالے افسران کو جواب دہ بنایا جائےگا؟

Delhi Riots.photo:INN
دہلی فساد۔ تصویر:آئی این این
نئی دہلی(ایجنسیاں):دہلی فساد کے ایک کیس میں  کڑکڑ ڈوما کورٹ نے ۵؍ سال کی قیدو بند کے بعد جمعرات کو ۶؍مسلم نوجوانوں کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کردیا۔   اس فیصلے سے ۶؍ مسلم گھروں میں برسوں بعد راحت اور خوشی کے آنسو دیکھنے کو ملے تاہم یہ سوال  ایک بار پھر قائم کیا جارہاہے کہ بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرنے والے پولیس افسران کی ذمہ داری کون طے کریگا؟
جن نوجوانوں کی رہائی ہوئی ہے وہ گلزار، شہزاد، واجد، ساجد، شہباز اور سلیم  ہیں۔  جمعیۃ علمائے ہند کی کامیابی پیروی کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا  ہے کہ’’ دہلی پولیس آتشزدگی اور لوٹ مار کے الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی۔‘‘ اس فیصلے نے ایک بار پھر فسادات سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو اَب بھی دہلی کے بہت سے مسلم خاندانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
 
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الزامات کمزور اور غیر ثابت شدہ ہیں، اس لیے ان نوجوانوں کی قید غیر مناسب تھی۔ عدالت کے ایک اہلکار نے کہا، ’’ہمارے سامنے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ استغاثہ شک وشبہ سے بالا تر ہوکر  جرم  ثابت نہیں کر سکا۔‘‘ اس فیصلے نے۲۰۲۰ء کے فسادات کے دوران پولیس کے رول  پر سنگین سوال کھڑے کردیئے  ہیں۔ شہزاد کی بوڑھی ماں نے روتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بیٹے نے اس جرم میں ۵؍سال جیل کاٹی جس سے اس کا کوئی تعلق  ہی نہیں تھا۔ ا س کے وہ ۵؍ سال کون واپس کرے گا؟‘‘ان کا سوال دہلی کی مسلم آبادی کی مجموعی تکلیف اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ اب لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان گرفتاریوں کے احکامات دینے والے افراد کو بھی سزا ملے گی۔ایک مقامی شخص نے کہا، ’’اگر پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا تو ان نوجوانوں کو ۵؍ سال تک کیوں قید رکھا گیا؟ کیا اس ناانصافی کا کوئی جواب ہے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK