Inquilab Logo Happiest Places to Work

زی سنے ایوارڈز پر تنازع، بہترین اداکار کی جیت پر مداحوں کا سوال

Updated: March 03, 2026, 8:07 PM IST | Mumbai

زی سنے ایوارڈز میں بہترین اداکار کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ وکی کوشل کی جیت پر کئی مداحوں نے حیرت کا اظہار کیا، خاص طور پر رنویر سنگھ کی فلم ’’دھرندھر‘‘ میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے۔ شائقین کا ایک طبقہ ایوارڈ شوز کی شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے۔

This time, the competition was tough between Ranveer Singh and Vicky Kaushal in the Best Actor category. Photo: INN
اس بار بہترین اداکار کے زمرے میں رنویر سنگھ اور وکی کوشل کے درمیان مقابلہ سخت تھا۔ تصویر: آئی این این

Zee Cine Awards میں اس سال بہترین اداکار کے لیے مقابلہ خاصا سخت تھا۔ نامزد افراد میں وکی کوشل (چھاوا) اور رنویر سنگھ دھرندھر) شامل تھے۔ دیگر نامزد اداکاروں میں سنی دیول (جاٹ) اور اکشے کمار (کیسری چیپٹر ۲) شامل تھے۔ مداحوں کا خیال تھا کہ اس سال مقابلہ بنیادی طور پر وکی کوشل اور رنویر سنگھ کے درمیان تھا، کیونکہ دونوں نے اپنی اپنی فلموں میں یادگار پرفارمنس دی تھی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل
جب نتیجہ سامنے آیا اور ایوارڈ وکی کوشل کے نام ہوا تو سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ ’’چھاوا‘‘ میں ان کی کارکردگی کو تنقیدی طور پر سراہا گیا تھا، تاہم مداحوں کے ایک بڑے طبقے کا ماننا تھا کہ ’’دھرندھر‘‘ میں رنویر سنگھ کی اداکاری زیادہ طاقتور اور اثر انگیز تھی۔ کئی صارفین نے لکھا کہ:’’رنویر نے ’’دھرندھر‘‘ میں جو کیا، وہ سال کی سب سے نمایاں پرفارمنس تھی۔‘‘ کچھ مداحوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ’’دھرندھر‘‘ کی کاسٹ اور عملہ ایوارڈ تقریب میں موجود نہیں تھا، جس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ’’دُھرندھر ۲‘‘ کی ایڈوانس ٹکٹیں ’’ٹاکسک‘‘ سے ۱۰؍ گنا زیادہ فروخت

ایوارڈ شوز کی ساکھ پر سوال
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی ایوارڈ کے نتیجے پر سوال اٹھایا گیا ہو۔ اس سے قبل کریتی سینن کی جیت کے بعد مداحوں نے یامی گوتم کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ اب بہترین اداکار کے فیصلے نے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ایوارڈ شوز خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں یا دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’وارانسی‘‘ انٹارکٹکا میں شوٹ ہونے والی پہلی ہندوستانی فلم: پرینکا چوپڑہ کی تصدیق

کارکردگی کا موازنہ
فلم ’’چھاوا‘‘ میں وکی کوشل کی اداکاری کو تاریخی کردار کی مضبوط پیشکش کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم کچھ ناقدین اور مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا کریئر کا بہترین کام نہیں تھا، اور وہ ماضی میں ’’سیم بہادر‘‘ جیسی فلموں میں زیادہ نمایاں کارکردگی دے چکے ہیں۔ دوسری جانب ’’دھرندھر‘‘ میں رنویر سنگھ کے کردار حمزہ علی مزاری کو ان کے کریئر کی سب سے شدید اور یادگار پرفارمنس قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوارڈ سیزن ابھی جاری ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ تقریبات میں نتائج کیسے سامنے آتے ہیں۔ مداحوں کی توقع ہے کہ دیگر ایوارڈ شوز میں ’’دھرندھر‘‘ اور رنویر سنگھ کو زیادہ تسلیم کیا جائے گا۔ فلمی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا ایوارڈ شوز کو مزید شفاف اور ناظرین کے لیے قابلِ اعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK