اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں تمام امداد کی ترسیل روک دی ہے، ساتھ ہی ان علاقوں میں انسانی ہمدردی کی نقل و حرکت معطل کر دی ہے جہاں اسرائیلی فوج تعینات ہے۔
EPAPER
Updated: March 03, 2026, 8:07 PM IST | Gaza
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں تمام امداد کی ترسیل روک دی ہے، ساتھ ہی ان علاقوں میں انسانی ہمدردی کی نقل و حرکت معطل کر دی ہے جہاں اسرائیلی فوج تعینات ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمانا سٹیفن ڈوجرک نے پریس کانفرنس میں بتایاکہ ’’اسرائیلی حکام نے رفح سمیت تمام کراسنگ بند کر دی ہیں اور ان علاقوں میں جہاں اسرائیلی فوج غزہ میں تعینات ہے، انسانی ہمدردی کی نقل و حرکت معطل کر دی ہے۔ انہوں نے ہمارے انسانی ہمدردی کے عملے کی مجوزہ تبدیلی بھی ملتوی کر دی ہے۔‘‘ڈوجرک نے کہا کہ ’’اس کے نتیجے میں طبی انخلاء اور لوگوں کی غزہ میں واپسی بھی معطل کر دی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کے لوگ مسلسل امداد کی فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ "جیسا کہ آپ جانتے ہیں، غزہ کے لوگ باہر سے آنے والے انسانی ہمدردی اور تجارتی سامان کی مسلسل آمد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس جنگ زدہ علاقے میں محدود ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور تباہی کے پیش نظر، ہم اور ہمارے شراکت دار مسلسل پابندیوں کے باوجود رسد کی مستقل اور متوقع ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے، لیکن یہ مکمل ناکہ بندی کے سبب جاری نہیں رہ سکتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ضروری ہے کہ تمام کراسنگ کو جلد از جلد دوبارہ کھول دیا جائے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں، ڈوجرک نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے زیادہ تر چیک پوسٹ بند رکھی ہیں، جس سے فلسطینی شہروں اور خطے کے درمیان نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے اور روزگار اور خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’بین الاقوامی انسانی قانون واضح ہےکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جانی چاہئیں، بشمول انسانی امداد کی بلارکاوٹ داخلے، نقل و حرکت اور تقسیم کے ذریعے۔‘‘
واضح رہے کہ سنیچر کی صبح، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، ان کا دعویٰ تھا کہ حملے کا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے پیدا ہونے والے خطرات کو ختم کرنا تھا۔جبکہ اس کے جواب میں، ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے علاقے میں اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔اسرائیل نے ملک بھر میں فوری ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔